ڈاکٹر نوید شہزاد کا شمار پنجابی کے ان لکھنے والوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مختلف اصناف ادب میں نہ صرف نئے تجربات کیے بلکہ اس میں نام بھی منفرد انداز سے کمایا وہ شاعر، نقاد ،محقق اور ماہر تعلیم کے طور پر جانے جاتے ہیں بہاولپور میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر نوید شہزاد کا تعلق بورے والا سے ہے لیکن آ ج کل وہ روزگار کے سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی میں درس و تدریس کے ذریعے اپنے روزگار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
میری ڈاکٹر نوید شہزاد سے ملاقاتیں تب سے ہیں جب یہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر نہیں ہوئے تھے اور میرے چچا پروفیسر حسین سحر صاحب سے ملنے کے لیے ہمارے گھر تشریف لاتے تھے یہ بات تقریباً 25، 30 برس پرانی ہے۔ تب بھی نوید شہزاد بڑی محبت سے ملتے تھے اور اب بھی جب کبھی برسوں بعد ملاقات ہو تو لگتا ہی نہیں ہے کہ ہماری اتنے عرصے بعد ملاقات ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر نوید شہزاد خلوص کا پیکر اور ہر ایک سے محبت کرنے کا ہنر جانتے ہیں انہوں نے اپنے قلم کو ہمیشہ رواں دواں رکھا یہی وجہ ہے کہ ان کو اس قلم کی وجہ سے بہت توقیر ملی ۔اس کے علاوہ نوید شہزاد نے جن موضوعات پر کام کیا پنجابی ادب میں اس سے پہلے کسی نے ان موضوعات کو مشکل ہونے کی وجہ سے چھوا تک نہیں ،لیکن نوید شہزاد کے ہاں بنیادی خوبی محنت ہے جو ان کو اپنے معاصرین سے ممتاز کر تی ہے کہ انہوں نے اب تک اپنے ادبی سفر میں 30 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں جن میں ہر صنف ادب سے متعلق کتابیں آپ کو ملیں گی ۔
وہ ایک مہربان اور شفیق انسان ہیں ایک مرتبہ ان سے ملاقات ہو جائے بار بار ملنے کو جی چاہتا ہے پنجابی ادب میں ان کا بنیادی کام تحقیق و تنقید کے علاوہ شاعری ہے اور شاعری میں بھی وہ اتنی خوبصورت انداز سے گیت لکھ رہے ہیں وہ خوبصورتی ان کے ہم عصر شعراء میں کم ہی دکھائی دیتی ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی جو شخصیت میں جو سادگی ہے وہ آج کے دور میں عنقاہو گئی ہے وہ اپنے کام سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ سوائے لکھنے اور کتابیں پڑھنے کے ان کی اور کوئی مصروفیت نہیں بہت عرصہ پہلے انہوں نے پنجابی ادبی بورڈ کی فرمائش پر ملتان کی تاریخ پر کتاب لکھی تو وہ کتاب لکھتے ہوئے ملتان کے ہر اس شخص کے پاس گئے جو ملتان کی تاریخ کے بارے میں معلومات رکھتا تھا یہی وجہ ہے کہ ان کی اس پنجابی تاریخ ملتان کو نہ صرف سرائیکی پڑھنے والوں نے سراہا بلکہ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے سرائیکی محققین نے اس کتاب کو ایک اہم کتاب کا درجہ دیا کہ ڈاکٹر نوید شہزاد نے تحقیق کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی کوئی ڈنڈی نہیں ماری۔
وہ آج کل لاہور میں جس سیٹ پر کام کر رہے ہیں کوئی اور شخص ہوتا تو وہ اپنا فون مسلسل بند رکھتا اور کسی سے رابطہ نہ رکھتا لیکن ڈاکٹر نوید شہزاد کی شخصیت میں جو عجز اور سادگی ہے وہ اسے مزید بلند کیے جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا رکن ہے لیکن اس نے کبھی کسی پر یہ کہہ کر رعب نہیں جھاڑا کہ وہ اکادمی ادبیات پاکستان میں بطور ڈائریکٹر کام کر رہا ہے مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ پنجابی زبان و ادب کے ساتھ جس انداز سے ڈاکٹر نوید شہزاد کام کر رہے ہیں وہ ہمارے ہاں اپنی ماں بولی زبان کے ساتھ کوئی کوئی ہی کرتا ہے انہوں نے اپنے آپ کو پنجابی زبان و ادب کے لیے وقف کر رکھا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اپنی ماں بولی کے ساتھ رابطہ ہی اصل میں زندگی ہے اور اگر انسان کا اپنی مٹی سے تعلق ختم ہو جائے تو پھر اس شخص کو موت ا جاتی ہے پھر اس کا نام لیوا کوئی نہیں ہوتا اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر نوید شہزاد نے جو پنجابی زبان و ادب کے لیے جو کام کیا ہے وہ اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا کہ وہ ہمارے ملک کے واحد ادیب، نقاد ،محقق، ماہر تعلیم اور شاعر ہیں جو پہلے دن سے لے کر آج تک اپنی ماں بولی کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی صحت کے لیے ڈھیروں دعائیں۔کہ اس طرح کی شخصیات ملک کا اثاثہ ہوتی ہیں جن سے ملک خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

