ادبکتب نمالکھاری

یاسر پیرزادہ ، ذرا ہٹ کے : ڈاکٹر سلیم اختر کا مضمون

بیٹا اگر باپ کی میراث کی حفاظت نہ کرے تو وہ خسارے میں رہتا ہے۔ پسران نوح ؑ نے نافرمانی سے پیغمبری گنوا دی۔ جبکہ اسمٰعیل نے باپ کے بہانے خود کو قربانی کے لئے پیش کرکے اپنی نسل میں حضرت محمد جیسا جلیل القدر پیغمبر حاصل کیا اس انداز کی مثالوں کی کمی نہیں اور ہمارے ارد گرد ایسے بابوں اور پیشوا وں کا مشاہدہ کیا جاتا رہا ہے۔
اس تمہید کا مقصد یاسر پیرزادہ کے کاموں کے اولین مجموعہ ” ذرا ہٹ کے “ کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا ہے ہر چند کہ یاسر نے اپنے نام کے ساتھ قاسمی نہ لکھا لیکن یہ اپنے والد محترم عطا الحق قاسمی کی شخصیت ہی کی تو سیع ہے۔ ہم دونوں یعنی میں اور عطا بیس برس تک جہاں زیب بلاک میں تقریباً پڑوسی رہے ہیں اور اس کے تمام بیٹے جو اس وقت اپنے اپنے شعبہ میں نامدار ہیں میرےسامنے بچہ سے جوان ہوئے اور میں ان کی اٹھان اور پرواز کا گواہ ہوں۔
میں نے یاسر پیرزادہ کا سب سے پہلا کالم ” سرکاری مہرے“ پڑھا اور ڈرامائی تاثر کا حامل یہ کالم مجھے بے حد پسند آیا۔ چنانچہ میں نے عطا کو فون کرکے بیٹے کے کالم پر مبارک باد دی تو باپ کی مسرت دیدنی تھی۔
یہاں یہ اعتراف بھی لازم ہے کہ سب تو نہیں لیکن کچھ کالم نگاروں کے بارے میں میری کوئی بہت اچھی رائے نہیں کس طرح کالم کو ریڈ کارپٹ میں تبدیل کرکے کیسے مفادات اور مراعات حاصل کی جاتی ہیں یاسر اس سے بھی آگاہ ہیں۔ سابق گورنر جناب خالد مقبول نے کالم نگاروں کو چائے کی ایک پیالی پلا کر تو صیفی کالم حاصل کئے لیکن عطا الحق قاسمی اور اس کے بعد یاسر نے خود کو اس نوع کی صحافیانہ خوشامد سے بچائے رکھا جس کے صلہ میں تحریر میں تمکنت پیدا ہوگئی۔
جہاں تک کالموں کے لئے حصول موضوعات کا تعلق ہے تو ہمارے معاشرتی تضادات ، منافقت پر مبنی کرداروں کی دو عملی طالع آز ما سیاستدان حکومت اور حکمران ان کے موضوعات ہیں یہ سب سدا بہار موضوعا ت ہیں ۔ یاسر نے سیاسی کالم برائے نام لکھے ہیں وہ معاشرہ میں پھیلی انارکی ، اقدار کے تصادم، قابل مذمت دفتری نظام یا پھر پاکستانیوں کو اپنا موضوع بناتا ہے اس ضمن میں وہ ” گنجے فرشتے “ میں لکھتے ہیں
” ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سب فرشتے بنتے ہیں ان میں شیطان کوئی بھی نہیں۔“
یہ آغاز ہے اور اختتام یوں کیا
” ہمارے چاروں طرف فرشتوں کی کس قدر فراوانی ہے یہاں تو کوئی براآدمی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ حیرت یہ ہے کہ جس ملک میں ہر سال ساڑھے بیس لاکھ افراد عمرے پر اور ڈیڑھ لاکھ افراد حج پر جاتے ہیں اور جہاں فرشتوں کی اس قدر بھرمار ہو وہ ملک ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کے مطابق کرپشن میں سر فہرست ہو۔
اے میرے ” فرشتے “ بھائیو! اس پر احتجاج کر و۔“
اس اقتباس کو دیگ کا ایک چاول نہ سمجھیں دراصل ” ذرا ہٹ کے “ کے کالم اس دیگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس کا نام پاکستان ہے۔
کالم دو چیزوں سے تشکیل پاتا ہے موضوع اور اسلوب موضوع تو سامنے ہے دراصل یہ اسلوب ہے جو کالم میں دلچسپی کافلیور پیدا کرتا ہے اس لحاظ سے یاسر بھی کالم کی ہنڈیا میں طنز کا تڑ کا لگا کر ناگفتنی کہہ جاتا ہے اس ضمن میں ایک جائز مثا ل”سامری جادوگر“ ”یہ غازی یہ تیرے پر اسرا ر بندے “ ”فرعون کے دربار میں “ ” ایک بھوت کا سوال ہے بابا “”بادشاہ سلامت کی آخری تقریر “ اور بہت سے دوسرے کالموں کے عنوانات گنوائے جا سکتے ہیں۔کالم ”افواہیں “ہماری اجتماعی سائیکی پر گہرا طنز ہے کہ کیسے ہم نہ صرف یہ کہ افواہوں پر یقین کر لیتے ہیں بلکہ حسب عادت ضرب بھی دیتے جاتے ہیں اس ضمن میں یاسر لکھتا ہے۔
”من حیث القو م افواہیں پھیلانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں لیکن جیسا کہ مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا کہ ہر افواہ کی خرابی یہ ہے کہ بدقسمتی سے وہ سچ نکلتی ہے“
اور یہ ہی ہمارا المیہ ہے کہ ہم حقیقت کو بطور افواہ تو درست تسلیم کر لیتے ہیں لیکن حقیقت کوبطور حقیقت تسلیم نہیں کر سکتے۔
یاسر کے بیشتر کالم ہمارے اجتماعی رویوں پر طنز کرتے ہیں۔معاشرہ کہ حدف بنانے والے کالم نگار/ ادیب کے پاس مشاہدہ کرنے والی آنکھ کا ہونا لازم ہے کہ اسی سے وہ کردار و عمل کے ان اشارات کا مشاہدہ کر سکتا ہے جو سامنے ہوتے ہوئے بھی ہمیں نظر نہیں آتے اس لیے کہ ہم تو خود بھی ان کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں اسی لیے ہمیں ان میں کوئی اچنبھا نظر نہیں اتا اس ضمن میں کالم ”بندر کا تماشا“ بہت اچھی مثال ہے جس میں ہماری عجلت پسندی کا مضحکہ اڑایا گیا ہے لکھتا ہے۔
”کس قدر حیرت کی بات ہے کہ عجلت پسندی اور سست روی جیسی خوبیاں ہماری قوم میں بدرجہ اتم موجود ہیں “
اس لیے عجلت پسندی کے باوجود ہمارا شمار منیر نیازی والا ہے یعنی ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں “ اس کالم کے ساتھ کالم ”بیزاری “ کو ملا کر پڑھیں تو ہمارے اجتماعی کردار کی دوررنگی واضح ہو جاتی ہے۔یاسر کالم کا آغاز یوں کرتا ہے۔
”من حیثیت القوم ہم میں دو خوبیاں بیک وقت موجود ہیں حد سے زیادہ خوش مزاجی اور حد سے زیادہ بیزاری تاہم ہمارا پلہ بیزاری میں نسبتاً بہتر ہے بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ ہم بیزاری ایکسپورٹ کر سکتے ہیں جبکہ خوش مزاجی ہمیں دوسرے ملکوں سے امپورٹ کر لینی چاہیے۔اس سے بیلنس آف ٹریڈ بہتر ہو سکتا ہے۔“
یاسر کے کالموں کی ایک خاص بات میں نے بطور خاص نوٹ کی اور یہ وہ ہے جس سے اس کے کالموں میں افسانوی رنگ اور ڈرا مائی تاثر پیدا ہو جاتا ہے کالموں میں یاسر مکالموں سے بہت زیادہ کام لیتا ہے اور یہ انداز اس لحاظ سے بہت مناسب ہے کہ کالم میں ایک مقام پر جب نثر رک جاتی ہے تو مکالموں کی بدولت ڈراما شروع ہو جاتا ہے اس ضمن میں یہ کالم بہت اچھی مثال پیش کرتے ہیں ”حساب کتاب‘ ”سرکاری بکرے “”بیزاری “آئٹم بم “ سکس ملین ڈالر مین “، ”رمضان کا شیطان
مجھے آخری کالم بہت بھایا رمضان کا بابرکت مہینہ آتا ہے تو مسجدوں سے یہ اعلانات نشر ہوتے ہیں کہ اس مبارک مہینہ میں شیطان بند شاطین پابند کر دئیے جاتے ہیں اور یاسر نے اس بندش پر TVپروگرام کے انداز پر یہ کالم لکھ ڈالا TVکمپئیر شیطان سے سوال کرتا ہے کہ رمضان میں جب آپ کو قید کر دیا جاتا تو آپ کیا محسوس کرتے ہیں۔
شیطان کا جواب ہے کہ کچھ خاص نہیں بس اس مہینے میں خدا ریلکیس کرتا ہے کیونکہ سال کے باقی گیارہ مہینوں میں کام کابوجھ اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے بریک لینا میرے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
کمپئیر کے اس سوال کے جواب میں کہ رمضان میں پابندی کی وجہ سے آپ نے کلائنٹس متاثر نہیں ہوئے۔ شیطان یہ جواب دیتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ میرے کلائینٹس اس ایک مہینے کی بریک کی وجہ سے بالکل متاثر نہیں ہوتے۔ میں نے ان کی ایسی برین واشنگ کر رکھی ہے کہ اگر کئی کئی مہینے نہ بھی ملوں تو بھی انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور دوسری بات یہ ہے کہ انہیں میں سے میرے کچھ پرانے کلائنٹس ایسے ہیں جو مسلسل ایک دوسرے کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں اس لئے مجھے زیادہ فکر نہیں۔ لیجئے خیر وشر کا سارا ذمہ شیطان کی اس گفتگو سے واضح ہو جاتا ہے
” ذرا ہٹ کے “ میں منفرد کالم غیر ملکی دوروں کے بارے میں بھی ہیں جو دلچسپ انداز میں مغرب کی سیر کراتے ہیں یاسر پرہیزگار جوان ہے اس لئے نا تو سفر نامہ نہ کالموں میں اس نے میمیں ڈالیں اور نہ ہی باپ کی مانند شاعر ڈالے۔ لہذا انہیں صرف کالم سمجھ کر پڑھ لینا چاہے بین السطور کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
یاسر پیرزادہ کےہ کالموں کا پہلا مجموعہ ” ذراہٹ کے “ بطور کالم نگار اس کے مستقبل کی ضمانت ہے ابھی تو اس نے اور بھی بہت کچھ لکھنا ہے کہ مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں کباب سیخ جیسی کروٹیں لیتی پاکستان کی تاریخ کالم نگاروں کے لئے بے حد زرخیز رہی ہے۔
اور آخری بات !
عطاالحق قاسمی کا بیٹا یاسر باپ کی مانند کالم نگار بنا اب دیکھنا یہ ہے کہ یاسر کا بیٹا بھی بڑا ہو کر کالم نگار بنتا ہے یا نہیں اگر ایسا ہوا تو کالم نگاروں کی دنیا میں ہیٹ ٹرک ہوگی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker