تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔جنرل قمر جاوید باجوہ کیا جواب دیں گے؟

آنے والے دنوں میں یہ بحث ہوتی رہے گی کہ گوجرانوالہ کے احتجاجی جلسہ میں کتنے لوگ تھے۔ یہ لوگوں کا سمندر تھا یا گیارہ جماعتیں مل کر بھی چند ہزارسے زیادہ لوگ اکٹھے نہیں کرسکیں۔ تاہم اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لے کر سیاسی انجینئرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔ اس طرح فوجی قیادت کو ملک کے سیاسی مسائل اور موجودہ تصادم کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا گیا۔ یہ تقریر ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگی۔
نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی گئی تقریر میں فوجی قیادت پر الزام عائد کرنے سے پہلے ملک کی حفاظت کے لئے شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرکے البتہ یہ واضح کیا تھا کہ فوجی مداخلت کی بات کرتے ہوئے وہ ان عناصر اور افسروں کا ذکر کرتے ہیں جو ایک خاص مقصد سے سیاسی معاملات پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں ۔ وہ فوج کا بطور ادارہ احترام کرتے ہیں لیکن اب وہ اس اصول کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں کہ ملک کی فوج منتخب سیاسی قیادت کی طے کردہ پالیسیوں پر عمل کرے اور آئین کا احترام کرے۔ قومی مفاد کے حصول کے کسی ’پراسرا ر‘ مقصد سے انتخابات، جمہوری عمل، حکومت سازی اور ملکی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ نواز شریف کی اس بات سے پاکستانی عوام کی اکثریت کو اتفاق ہے۔
سابق وزیر اعظم کی تقریر نے ملک میں سیاسی مباحث کا نیا لب و لہجہ متعین کیا ہے۔ وسیع تر قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جائے تو معاملات کو اس انتہا تک نہیں پہنچنا چاہئے تھا کہ تین بار ملک کا وزیر اعظم رہنے والا شخص، حاضر سروس آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لے کر الزام عائد کرے کہ ان کی ہدایت پر عدالتوں نے ان کی حکومت کو فارغ کیا تھا اور عمران خان کو اقتدار حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ فوجی قیادت کو سیاست دانوں کے ساتھ تعلقات بریکنگ پوائینٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے تھے۔ ملک میں اگر سیاسی قوتوں کے درمیان لڑائی ہو تو اسے کسی بھی جمہوری سیاسی عمل کا فطری نتیجہ کہا جاسکتا ہے لیکن اگر اس لڑائی میں اہم اداروں کو جن میں فوج اور عدلیہ شامل ہیں براہ راست فریق بنالیا جائے اور نام لے کر بعض غیر آئینی اقدامات کا الزام عائد کیا جائے تو اس اعتماد کو یقیناً نقصان پہنچتا ہے جو قومی سلامتی کے محافظ اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے بارے میں قائم رہنا چاہئے۔
گوجرانوالہ کے جلسہ کی کامیابی یا ناکامی کی طرح اس معاملہ پر بھی بحث کا سلسلہ جاری رہے گا کہ فوجی قیادت کو سیاسی مباحث میں فریق بنا کر ملک میں آئینی بالادستی کی جد و جہد کو آگے بڑھایا گیا ہے اور جمہوری سفر کے راستے میں حائل مشکلات کو ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے یا اس لب و لہجہ سے دشمنوں کے عزائم کو تقویت ملے گی۔ تحریک انصاف اور اس کی حکومت نے جلسہ میں نواز شریف کی تقریر سے پہلے ہی اپوزیشن لیڈروں کو ڈاکوؤں کا گروہ اور پی ڈی ایم کے جلسہ کو بھارتی مفادات کا حصہ قرار دینا شروع کردیا تھا۔ سیاسی معاملات میں تعطل اور شدید کشیدگی کی موجودہ صورت حال دراصل عمران خان کے سخت گیر رویہ ہی کی وجہ سے ہی پیدا ہوئی ہے۔ اس کا خمیازہ انہیں کل قومی اسمبلی میں ’گو نیازی گو ‘ اور ’وہ بھاگا نیازی‘ کے افسوسناک نعروں کی صورت میں برداشت کرنا پڑا جس کے بعد وزیر اعظم کو اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔
ہفتہ کو اسلام آباد میں ’ٹائیگر فورس‘ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے گوجرانوالہ کے جلسہ کو ’سرکس‘ قرار دے کر ایک بار پھر اس سیاسی کمزوری کا اظہار کیا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت بنیادی طور پر مل جل کر کام کرنے اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا طریقہ ہے۔ قائد ایوان کہلانے والا وزیر اعظم پارلیمنٹ میں عوام کی نمائیندگی کرنے والے اپوزیشن نمائیندوں کے حق نمائیندگی کو مسترد نہیں کرسکتا۔ بصورت دیگر حالات تصادم کے اسی مقام تک جا پہنچتے ہیں جہاں وہ اس وقت دیکھے جاسکتے ہیں۔عمران خان نے نواز شریف کے الزامات کو ملک دشمنی پر محمول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں تو نہیں لیکن نواز شریف کو فوجی اسٹبلشمنٹ نے ہی ملکی سیاست میں متعارف کروایا تھا۔ وزیر اعظم یہ منطق دیتے ہوئے گو کہ خود کو مقبول اور عوام کا منتخب لیڈر ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں لیکن اسی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے خلاف مقدمہ مضبوط کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں ، جس کی حمایت میں وہ اور ان کے وزیر گزشتہ کئی ہفتوں سے نواز شریف اور اپوزیشن کو بے اعتبار ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
نواز شریف سیاست میں فوجی مداخلت کی بات کرتے ہوئے صرف تحریک انصاف کی کامیابی میں اسٹبلشمنٹ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ وہ ملک کی ستر سالہ تاریخ میں فوج کے سیاسی کردار کا حوالہ دیتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز گوجرانوالہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ جو وقت آئین توڑنے والوں نے سازشوں پر ضائع کیا، اس کا آدھا وقت بھی دفاع پر صرف کیا جاتا تو ملک بہت سی قباحتوں سے بچ جاتا‘۔ اس تناظر میں جب عمران خان ایک طرف فوج کے وکیل بننا چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف نواز شریف کو فوج کی پراڈکٹ کہنے پر اصرار بھی کرتے ہیں تو وہ اس دلیل کو تسلیم کررہے ہوتے ہیں کہ فوج سیاست میں ملوث رہی ہے۔ عمران خان کو یہ ثابت کرنا ہے کہ فوج اب سیاسی فیصلوں میں دخیل نہیں ہے۔ لیکن ان کی حکومت کا کوئی فعل اور فیصلہ اس کا ثبوت فراہم نہیں کرتا۔ عمران خان اور ان کے ساتھی اگر فوج کی وکالت کرنے کی بجائے سیاسی مخالفین سے مکالمہ پر صلاحتیں صرف کرتے تو وہ خود اپنے لئے اور فوجی قیادت کے لئے حالات کو سازگار بنا سکتے تھے۔ اس وقت فوجی اسٹبلشمنٹ کا بنیادی مسئلہ ملک کی حکمران سیاسی قوت اور اپوزیشن پارٹیوں میں عدم اعتماد ہے۔
جس طرح یہ بات کوئی راز نہیں کہ فوجی اسٹبلشمنٹ ملکی سیاسی معاملات میں ملوث رہی ہے ، اسی طرح یہ بات بھی اب نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ پرویز مشرف کی حکومت ختم ہونے کے بعد ملک میں جو جمہوری انتظام متعارف کروایا گیا تھا، فوج نے براہ راست اس کی نگرانی کرنا ضروری سمجھا۔ سیاسی قیادت سے اختلاف کی صورت میں بازو مروڑنے کے مختلف طریقے اختیار کئے جاتے رہے ہیں۔ 2008 کے بعد سے متعارف ہونے والے اس سیاسی انتظام میں نہ تو فوج کی براہ راست مداخلت اور من مانی کو نظر انداز کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی فوج کی طرف سے سیاسی نگرانی کے اس عمل کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔
قیاس کیا جاسکتا ہے کہ فوجی اداروں نے یہ ضروری سمجھا کہ عوام تک کسی صورت یہ بات پہنچتی رہے کہ فوج کی نگرانی کے بغیر ان کے منتخب نمائیندے ملکی امور چلانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ گزشتہ دس بارہ سال کے دوران پاکستانی عوام میں سیاست میں فوجی مداخلت کو جائز قرار دینے کی لابی مضبوط کرنے کے لئے مؤثر طریقے سے کام کیا گیا ہے۔ اسی لئے اپوزیشن جب ’خلائی مخلوق، محکمہ زراعت یا درپردہ قوت‘ کے استعاروں میں فوجی مداخلت کا ذکر کرتی رہی تو پراسرار خاموشی اور ان اصطلاحات کے استعمال پر آمادگی سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ فوج بھی دراصل عوام میں اپنے سیاسی کردار کے بارے میں رائے عامہ مستحکم کرنا چاہتی ہے۔
ملک میں پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے آخری دور میں فوج کو جس عوامی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا، اس سے فوج میں یہ رائے تو مستحکم ہوئی ہے کہ براہ راست حکومت سنبھالنے سے فوج کو بطور ادارہ فائدہ نہیں ہوگا۔ لیکن سیاسی حکومتوں پر فوج نے کبھی مکمل اعتبار نہیں کیا اور یہ رویہ موجود رہا ہے کہ سیاسی لیڈروں کی ’نگرانی اور سرزنش‘ کے بغیر ملک کو درست سمت میں نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کا اظہار کبھی میمو گیٹ اسکینڈل اور کبھی ڈان لیکس کی صورت میں ہؤا۔ آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے جب ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں ’ریجکٹڈ‘ کا ٹوئٹ کیا تھا تو وہ دراصل سیاست دانوں پر بداعتمادی ظاہر کرنےکے علاوہ حکومتی معاملات میں دخل اندازی پر اصرار بھی تھا۔
مختلف ادوار میں سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف فوجی اسٹبلشمنٹ کا آلہ کار بنتے رہے ہیں ۔ اس طرح سیاسی عناصر نے دراصل آئین سے بالا تر اس انتظام میں فوجی لیڈروں کے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ اسی لین دین میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تیسری سیاسی قوت سامنے لانے اور ملکی معاملات میں فوجی رائے کو برتری دلوانے کا مستقل انتظام کرنے کے لئے عمران خان کی تحریک انصاف میں سب ’پسندیدہ‘ سیاسی عناصر کو جمع کیا گیا تھا۔ یہ طریقہ آزمودہ اور پرانا ہی تھا لیکن دو بڑی سیاسی قوتوں کو اس سے علیحدہ کرکے معاملات چلانے کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ تحریک انصاف کی حکومت ایک طرف معاشی معاملات میں کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے تو دوسری طرف سیاسی مصالحت کا ماحول پیدا کرنے سے بھی انکار کرتی ہے۔ عمران خان کے اسی رویہ کی وجہ سے اپوزیشن فوج کو براہ راست نشانے پر لینے پر مجبور ہوئی ہے۔
نواز شریف نے گزشتہ روز جنرل قمر جاوید باجوہ پر مسلم لیگ (ن) کے خلاف جال بچھانے اور عمران خان کو سہولت فراہم کرنے کا براہ راست الزام عائد کیا ہے۔ اس کا جواب وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے تند و تیز جوابات اور ملک دشمنی کے الزامات کی صورت میں دینے سے فوج کی پوزیشن واضح نہیں ہوگی۔ نہ ہی آئی ایس پی آر کی طرف سے کوئی تردیدی بیان شبہات کی گرد صاف کرسکے گا۔ اب آرمی چیف کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنا ہوگا۔ انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام تر اعانت و سرپرستی کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہوئی ہے اور ملک میں اتفاق و ہم آہنگی کا وہ ماحول پیدا نہیں کرسکی جو بھارتی جارحیت اور کورونا کی وجہ سے سامنے آنے والے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے اہم تھا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کو جائزہ لینا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ اس سال جنوری میں ان کی توسیع کے لئے قانون سازی کی حمایت کرنے والی جماعتیں اب ان کا نام لے کر انہیں جمہوری راستہ میں رکاوٹ قرار دے رہی ہیں۔ شیخ رشید کے بیان پر غور کیاجائے تو نواز شریف کو بھی الطاف حسین کی طرح ’نشان عبرت‘ بنایا جاسکتا ہے لیکن پنجاب سے اٹھنے والی مزاحمت کی آواز دبانے سے ، پیدا ہونے والی ناراضی کو طویل عرصے تک کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ جنرل باجوہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ احتجاجی غصہ کو مصالحت و مواصلت سے کیسے رفع کیا جاسکتاہے۔ اس لین دین میں البتہ فوج کو کچھ سپیس دینا پڑے گی اور کسی حد تک ملک میں آئین کی روح کے مطابق معاملات چلانے کے اصول کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہی راستہ موجودہ بحران سے نکال سکتا ہے۔ لیکن یہ جواب بہر حال جنرل باجوہ کو ہی دینا ہے کہ کون سا آپشن بہتر ہوگا۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker