ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

عوامی بالا دستی کا آغاز ۔۔ ڈاکٹر صغرا صدف

1947ء میں پاکستان جب معرضِ وجود میں آیا تو اس کی اساس مکمل جمہوری جدو جہد پر مشتمل تھی۔ اس کا فیصلہ کسی میدان جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی سلجھی سنبھلی میز پر ہوا۔ فریقین نے دلائل کے ذریعے ایک دوسرے کے موقف کو سنا اور شرائط پر نتیجہ اخذ کیا۔
اس لئے روشن صبح کے طلوع ہونے کے بعد سب کو اُمید تھی کہ اب نوزائیدہ ملک جس نے جمہوریت کی گڑھتی سے سفر کا آغاز کیا ہے، جمہوری نظریے کو کبھی پس پشت نہیں ڈالے گا اور نہ ہی راستہ بھٹکے گا۔
ریاست کے ہر فیصلے اور لوگوں کے رویے میں جمہوری اِقدار منعکس ہوں گی مگر ہوا بالکل الٹ۔ اوّل دن سے ہی ملکی مسائل کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اقتدار کے حصول کے لئے دھینگا مشتی شروع ہوگئی۔
سیاسی جماعتوں نے عوام کو جمہوری اقدار سے جوڑنے کے بجائے آپسی چپقلش کو پروان چڑھایا۔ جب ایک سیاسی جماعت بر سر اقتدار آتی تو سال ڈیڑھ سال بعد اپوزیشن والے خود مارشل لاء کی ضرورت پر زور دیتے نظر آتے۔
جن کی وجہ سے آج مختلف سیاسی لوگ جیلیں کاٹ رہے ہیں، وہ تمام کیسز سیاسی جماعتوں کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں دوسروں کے حق میں انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا رواج کم کم رہا ہے۔ اس لئے تناؤ اور رسہ کشی کی قسط مسلسل چلتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ نوابزادہ نصر اللہ جیسے لوگ منتخب حکومتوں کے تختے الٹنے کی کاروائیوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ کیونکہ مثالی جمہوریت بھی ہمارا مسئلہ رہی ہے جو عدم استحکام کی وجہ ہی بنی کیونکہ مثالی جمہوریت تو دنیا کے کسی ملک میں کبھی بھی وجود میں نہیں آسکی۔ اس میں بہتری تسلسل کی وجہ سے ہی آسکتی ہے۔
خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ عوامی بالا دستی اب سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا کا اعجاز ہے کہ آج ہم فکری اور شعوری طور پر ایک بدلے ہوئے پاکستان میں سانس لے رہے ہیں۔
جمہوری قدروں کے پرچارک رہنمائوں کے بیانیے کو نچلی سطح تک پہنچانے اور عوام کو اصل معاملات سے آگاہ کرنے میں اس پلیٹ فارم نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا پر مخصوص ایجنڈا پھیلا کر عوامی رائے کو تبدیل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ عوام نے غلام بننے سے انکار کر دیا ہے۔
وہ آزادانہ سوچ کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ اب اندھی عقیدت میں سرشار ہو کر فقط لیڈر کے حق میں نعرے لگانے والے لوگ ناپید ہونا شروع ہورہے ہیں۔ انہیں جمہوریت کے فلسفے اور ایجنڈے کی آگاہی میسر ہوچکی۔
وہ کسی فرد کی بادشاہی کے بجائے اپنے یعنی جمہور کے راج کے لئے کوشاں ہیں۔ اس وقت وہی بیانیہ پذیرائی حاصل کرے گا جو عوامی بالا دستی کا آئینہ دار ہوگا۔ لوگ شخصیات کو نظریات کے آئینے میں دیکھنے کے عادی ہورہے ہیں۔ جواپنے بیانیے سے ہٹے گا، وہ اپنا اعتماد اور ووٹ کھو دے گا۔ آئندہ انتخابات میں شہیدوں کے پورٹریٹ، بیماروں کی ڈرپس اور کال کوٹھری کی پینٹنگز سے عوام کی ہمدردیاں نہیں خریدی جا سکیں گی۔
موجودہ کارکردگی کی فہرست اور چلتے پھرتے حقائق مہیا کرنا پڑیں گے۔ عوامی خدمت گاری کے دعوے داروں کو شاہانہ انداز ترک کر کے عوامی سڑک پر سفر کرنا پڑے گا۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا پڑیں گے۔ جمہوری حکمران بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات تفویض کرکے اپنی ذمہ داریاں کم اور ان کو زیادہ فعال کر دیتے ہیں۔
جب عوام حکومت کا حِصّہ بن جاتے ہیں تو وہ جمہوری نظام کی حفاظت کی ذمہ داری بھی نبھاتے ہیں۔ زیادہ لوگوں کو ملکی ترقی کے عمل میں شریک کرکے زیادہ مثبت اور بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ آج عوامی شعور کی بیداری بالخصوص اپنی ہی جماعت کے رکن ہوتے ہوئے اس کے غیر جمہوری فیصلوں کے خلاف آواز اٹھانا معجزاتی عمل سے کم نہیں۔
اب یہ پریشر ان رہنماؤں کی سمت درست رکھے گا جو وسیع تر مفاد کے جھانسے میں ذاتی مفاد ات کی سودابازی کرتے رہے ہیں۔
اب ووٹ دینے والوں کو اپنے ووٹ کی قدر و قیمت کا احساس ہوچکا۔ انہیں علم ہوچکا کہ پرچی پر لگایا جانے والا انگوٹھا ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہے۔ اس لئے اب وہ اپنے خوابوں کی تعبیر اور تدبیر کے لئے نکلیں گے کیونکہ وہ ووٹ کی تقدیس کے لئے ہر رکاوٹ کا سامنا کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔
ایک دہاڑی دار مزدور سے لے کر اعلیٰ عہدے دار تک ہر طبقۂ فکر کے لوگوں کو پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل معاملات اور مسائل کا ادراک ہوچکا۔سوائے چند لوگوں کے جو پالیسی ساز بھی ہیں مگر ماضی کی روش پر چلنا چاہتے ہیں جبکہ زمانہ چپکے سے اپنی روش بھی بدل چکا اور رویہ بھی۔ جب سب کا مطمح نظر ملکی مفاد ہے تو اپنے لوگوں کی آواز سننے میں کیا ہرج ہے؟
آخر کب تک ہم نے دوسروں کی مرضی اور مفاد کے لئے اپنوں کو نظرانداز کرنا ہے۔ جمہور کو بااختیار کیجئے ،یہ آپ کو کسی دنیاوی پاور کے سامنے جھکنے نہیں دیں گے۔ ہر محاذ پر ڈٹ جائیں گے۔ یہی لوگ جمہوریت کی حفاظت بھی کریں گے۔
جب آپ نظریے پر قائم رہیں گے تو آئندہ انتخابات میں آپ کے لئے دیواروں پر خوش آمدید کے جو بینر لگیں گے ان میں عقیدت، محبت اور قربانی کی چمک ہوگی۔ سوشل میڈیا کے اس آگاہی پروگرام کو سیاسی جماعتیں اپنی کمائی سمجھ کر قبول کریں اور یاد رکھیں اب لوگوں کو بولنا اور سوال کرنا آگیا ہے۔
سیاسی جلسہ اب ایک ایسا لیکچر ہوسکتا ہے جس کی تیاری بہت ضروری ہے کیونکہ سامنے بیٹھے لوگ آزاد بھی ہیں اور باخبر بھی۔ ہر صاحبِ شعور انسان خوش ہے کہ عوامی بالا دستی کا وہ خواب جو برسوں سے دیکھا اور روندا جارہا تھا اب اس کی تعبیر کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔
یاد رکھئے یہاں کے لوگوں کا مزاج اور رویہ آج بھی جمہوری قدروں کا آئینہ دار ہے مگر عوام سے جمہوریت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے کا شکوہ کرنے والے یاد رکھیں۔
فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کے لیے لوگوں نے کوڑے کھائے، جیلیں کاٹیں اور ہر مشکل کا سامنا کیا۔ عوام نظریے کے لئے نکلتی ہے۔ ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر نظریے کی جب بھی بات ہوگی عوام نکلیں گے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker