ڈاکٹر طاہرہ کاظمیکالملکھاری

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کاکالم:دائی طاہرہ اور چودھری مستنصر حسین تارڑ!

دائی کھینچ کھانچ کے بچہ اندر سے نکالتی ہے اور گائناکالوجسٹ بھی بچہ کھینچتی ہے، کیا فرق ہوا دونوں میں۔ جیسے نائی آج کل ہیر ڈریسر بن گئے ہیں،
ایسے ہی دائیاں گائناکالوجسٹ بن گئی ہیں۔
“شکر ہے میری بیٹی ڈاکٹر تو ہے لیکن گائناکالوجسٹ نہیں ”
ہم ہک دک سنتے رہے۔ بہت کچھ تھا کہنے اور سننے کو لیکن پھر سوچا کہ کیا فرق پڑتا ہے؟ دائی ہونا کسی بھی لحاظ سے باعث شرم کیوں؟ دنیا کا کوئی بھی کام کمتر نہیں ہو سکتا، محنت، پھر کیا چھوٹا، کیا بڑا، اور ایسے کام جن میں دوسروں کی بھلائی کا عنصر بھی ہو۔
لیکن مستنصر حسین تارڑ کے استہزائیہ فقروں اور طنزیہ لہجے نے ہمیں نہ صرف حیران کیا بلکہ بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر گیا۔
کیا چھپا تھا ان جملوں میں؟
کلاس سسٹم کی جھلک؟ نچلی ذات والی کمی کمین دائی پہ چودھری صاحب کی جگت؟ ایک عورت کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش؟ اپنی امریکہ میں مقیم ڈاکٹر بیٹی کے گائناکالوجسٹ نہ بننے پہ غرور یا فخر یا دفاع؟
جو بھی تھا لیکن ہمیں یہ ضرور سمجھا گیا کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی اور بڑھتی عمر کا دانش سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ہماری معاشرت کا ایک اہم کردار دائی کون ہے اور کیا کرتی ہے؟

کیا کبھی کسی نے سوچا کہ دور دراز کے دیہات، گوٹھ، پہاڑوں اور صحراؤں میں رہنے والی عورت بچہ کیسے جنتی ہے؟
زندگی اور موت کے بیچ کی لکیر پہ کس کا ہاتھ تھام کر چلتی ہے؟
جب نئی زندگی وجود میں آتی ہے تو آنول نال کاٹ کر بچے کو سب سے پہلے اپنے ہاتھوں میں تھامنے والی کون ہوتی ہے؟
جب زچگی کٹھن ہو جائے تو موت کے کنویں جیسی گہری اور تاریک ویجائنا میں ہاتھ ڈال کر بچے کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے دنیا میں لانے کی کوشش کرنے والی دائی کیسے اپنی جان لڑا دیتی ہے؟
(بقول چودھری مستنصر، بچے کو کھینچ کھانچ کر باہر نکالنے والی)
جب ماں درد زہ سے بے حال ہو کر تڑپتی ہے تو دائی نامی عورت اس کا حوصلہ کیسے بڑھاتی ہے؟
زچگی کے دوران زچہ کے خارج ہونے والے بول و براز کو کس طرح صاف کرتی ہے؟
پوری پوری رات جاگ کر زچہ کی مدد کرنے والی دائی ایک ایسی عورت ہے جس کی خدمات کا معاوضہ کچھ روپوں میں چکا بھی دیا جائے، تب بھی نہیں چکایا جا سکتا۔
سوچیئے سرما کی طوفانی رات میں، ابر باراں کی شدت میں، برف کے جھکڑ میں، آندھی کے گرداب میں، پہاڑوں کے کٹھن راستوں میں، دریا کے پار کسی بستی میں تن تنہا اپنے گھر سے نکل کر آپ کے گھر پہنچ کر اگر یہ دائی نامی عورت آپ کی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی مدد نہ کرے تو آپ کیا کریں گے؟
موت کے اس کھیل میں اگر عورت جیت جاتی ہے تو تب بھی دائی اس کے آنسو پونچھنے کے لئے اس کے سرہانے موجود رہتی ہے۔ اور اگر ہارتی ہے تو موت کی اندھیری گھاٹی میں اترتے ہوئے دائی ہی اس کی آخری سانسوں میں اس کا ہاتھ تھامے رکھتی ہے۔ اس کی کھلی بے نور آنکھوں کو ڈھانپنے کا ناگوار فریضہ بھی وہی انجام دیتی ہے اور لاش کے پاس سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں منتظر اہل خانہ کو ان کی پیاری کی رخصتی کی خبر دینا۔ کیا یہ سب کسی عام عورت کا کام ہو سکتا ہے؟
کیا ہم بتائیں آپ کو کہ آج بھی جب کوئی زچہ کسی گائناکالوجسٹ کے سامنے اس کی بے انتہا کوشش کے باوجود موت کو گلے لگاتی ہے تو گائناکالوجسٹ پہ کیا گزرتی ہے؟
موت سے شکست کھانے پہ اور ایک جیتی جاگتی عورت کو لاش بنتے دیکھ کر گائناکالوجسٹ کے اعصاب کس ٹوٹ پھوٹ سے گزرتے ہیں؟ کتنے ہی دن وہ خاموش رہ کر گزارتی ہے؟ کتنے پہر اس کی بھوک پیاس ختم ہو جاتی ہے؟ کیسے وہ اپنے بچوں سے بات نہیں کر پاتی کہ اس کی نظر کے سامنے وہ بچے آ جاتے ہیں جنہوں نے اپنی ماں کو ہسپتال چل کر آتے تو دیکھا لیکن واپسی سفید چادر میں ڈھکی ہوئی ایک خاموش بے جان جسم کی صورت ہوئی۔ کتنی ہی بار وہ سوچتی ہے کہ کاش کچھ تو ایسا ہوتا کہ میں موت کے درندے کو جیتنے نہ دیتی۔ ایسا کر لیتی، ویسا کر لیتی، کوئی اور خون روکنے کی دوا، کوئی اور ٹانکہ، کچھ اور بوتل خون، کوئی اور ڈاکٹر۔
کاش ۔ ۔ ۔ کاش ۔ ۔ ۔
موت سے جنگ کرنا اور ہارنا ڈیپارٹمنٹ کے سب ڈاکٹرز اور نرسوں کے لئے اعصاب شکن ہوتا ہے۔ کتنے ہی دن وہ سب اپنے دل کا بوجھ اس کی باتیں کر کے ہلکا کرتے ہیں۔
”یاد ہے تمہیں، آخری دفعہ او پی ڈی میں اسے میں نے دیکھا تھا“
”ہاں خون کا سیمپل میں نے لیا تھا، بہت خوش تھی وہ“
”میرا بار بار شکریہ ادا کر رہی تھی“
”بہت مسکراتا ہوا چہرہ تھا اس کا“
داخلے کے کاغذ میں نے بنائے تھے ”
”کاش ایسا نہ ہوتا“
” بچے بہت چھوٹے ہیں اس کے، ماں چھن گئی ان کی“
گائناکالوجسٹ ہو یا دائی، سب کا دل ایک ایسی کتاب بن جاتا ہے جس کے صفحے پر زچگی میں زندگی کی جنگ ہارنے والی عورتوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔ وہ کتاب ہمیشہ ان کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔
ہماری اماں اور نانی کبھی یہ بات نہ بھول سکیں کہ جب ہماری خالہ اپنی زندگی کی بازی ہار رہی تھیں، تب نہ تو قربان ہونے والی ماں پاس تھی اور نہ ہی چاہنے والی بہن۔ ہاتھ تھامنے والی ایک اجنبی عورت پاس تھی جس کا نام دائی تھا۔
عورتوں کو جگتوں کا نشانہ بنانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کوئی بھی ہوں، کچھ بھی ہوں، کہیں بھی پیدا ہوئے ہوں، آپ کے جسم کو تھامنے والے سب سے پہلے دو ہاتھ آپ کی ماں کے نہیں بلکہ اس دائی یا گائناکالوجسٹ کے ہوتے ہیں جس کے مہربان ہاتھوں کے لمس کا قرض آپ اتار نہیں سکتے۔ ہر چیز روپوں میں تولی نہیں جا سکتی۔
چودھری مستنصر صاحب، آپ کا اپنی بیٹی کا گائناکالوجسٹ نہ ہونے پہ فخر بجا لیکن سوچ لیجیے کہ اگر سب عورتیں یہ فیصلہ کر لیں کہ انہیں گائناکالوجسٹ یا دائی نہیں بننا تو آپ سب کا کیا بنے گا؟ آپ کی آئندہ نسل، بشمول آپ کی ڈاکٹر بیٹی کے ہونے والے بچے کھینچ کھانچ کر باہر کون نکالے گا؟
واللہ ہمیں دائی ہونے پر فخر ہے!
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker