انقرہ : جنوبی ترکی اور شمال مغربی شام میں زلزلے سے 1200 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ملبے تلے دبے متاثرین کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جن کے حوالے سے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ترک صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ ترکی میں اموات کی تعداد 912 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ زلزلے میں پانچ ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں 2818 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور یہ 1939 کے بعد سے سب سے تباہ کن زلزلہ ثابت ہوا ہے۔
ادھر یورپی یونین اور نیٹو کے مطابق ان کی جانب سے اپنی اپنی امدادی ٹیموں کو ترکی روانہ کیا جا رہا ہے۔زلزلے کا مرکزی مقام جنوب مشرقی ترکی کا شہر غازی انتیپ ہے۔
7.8 شدت کے اس زلزلے کے جھٹکے کئی ترک شہروں کے علاوہ شام، لبنان، قبرص اور اسرائیل میں محسوس کیے گئے۔
ترک نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے کی تباہی سے اب تک 284 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ جبکہ شام کی وزارت صحت کے مطابق 237 افراد ہلاک اور 600 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔دونوں ملکوں میں زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ عالمی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ترک نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک بھر کے 10 شہروں و صوبوں میں ایسے سکول ایک ہفتے تک بند رہیں گے جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔
ان شہروں اور صوبوں میں غازی عنتیپ، کہرمان مرعش، ہاتائی، عثمانیہ، آدیامان، مالطیہ، شانلی اورفہ، ادنہ، دیار بکر اور کلس شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہاتائی صوبے سے آنے اور جانے والی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں جبکہ کہرمان مرعش اور غازی عنتیپ کے ہوائی اڈے بھی عام پروازوں کے لیے بند ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

