ملتان : لاہور اور قصور میں آنکھوں کے جعلی انجیکشنز سے بینائی متاثر ہونے کے بعد اب ملتان اور صادق آباد میں بھی ایسے ہی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔نگران وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق ملتان، صادق آباد میں بھی بینائی متاثر ہونے کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
دوسری جانب نگران وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر کا کہنا ہے کہ لاہور ، قصور ، ملتان اور صادق آباد میں الگ الگ ڈیلرز جعلی انجیکشن فروخت کر رہے تھے۔ واضح ہو کہ کل لاہور میں غیر معیاری انجیکشن کی وجہ سے 12 افراد بینائی سے محروم ہو گئے تھے ۔
نگران وزیر صحت کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں جعلی انجیکشنز کی فروخت کا کاروبار کرنے والوں کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں، جعلی انجیکشنز بیچنے والےنیٹ ورک کا کوئی کارندہ ابھی گرفتار نہیں کیا جاسکا۔وزارت صحت پنجاب نے جعلی انجیکشنز بنانے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی درخواست دے دی ہے۔
ڈاکٹر ناصر جمال کا بتانا ہے کہ جعلی انجیکشنز سے متاثر ہونے والے افراد کی فہرستیں بھی تیارکر رہے ہیں۔
ادھر حکومت پنجاب نے گزشتہ روز صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں مقامی طور پر تیار کردہ انجیکشن ’ایواسٹن‘ لگائے جانے سے درجنوں مریضوں کی بینائی ضائع ہونے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمیٹی 3 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور مستقبل میں دوبارہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے تجاویز بھی پیش کرے گی۔
پنجاب کے وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر نے آنکھوں میں انفیکشن کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔
کمیٹی کی سربراہی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر اسد اسلم خان بطور کنوینر کر رہے ہیں جبکہ دیگر اراکین میں ڈائریکٹر جنرل ڈرگز کنٹرول محمد سہیل، میو ہسپتال کے ڈاکٹر محمد معین، لاہور جنرل ہسپتال کی ڈاکٹر طیبہ اور سروسز ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر محسن شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لاہور، قصور اور جھنگ کے اضلاع میں ذیابیطس کے مریضوں کو آنکھ کے پردے کے علاج کے لیے ایواسٹن انجیکشن لگائے گئے، تاہم یہ انجیکشن شدید انفیکشن کا باعث بنے، جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما چوہدری منظور کے بھائی اور ان کے دوست سمیت تقریباً 12 مریضوں کی بینائی چلی گئی۔
قصور میں چوہدری شبیر، میاں اسلم، توفیق اور نسرین بی بی نامی 4 افراد کی بینائی کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔شریف ہسپتال میں انجکشن لگانے والے ڈاکٹر عاصم گل نے بتایا کہ ایواسٹن کو صرف ذیابیطس کے سبب خراب بینائی بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، عام طور پر ایک مریض کو 3 سے 4 انجیکشن لگائے جاتے ہیں لیکن اس کیس میں کئی افراد نے اپنی بینائی کھو دی، متاثرہ مریضوں میں سے 3 کی سرجری ہوئی اور ان کی بینائی بحال ہوگئی۔
ڈاکٹر عاصم گل نے بتایا کہ میو ہسپتال کے ہیڈ سرجن پروفیسر اسد اسلام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت کو خط لکھ دیا۔
انہوں نے بتایا کہ نوید نامی شخص کی جانب سے فراہم کردہ بیواکیزومیب انجیکشن لینے والے متعدد مریض لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں آنکھوں کو اندھا کرنے والے انفیکشن میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
اس انفیکشن کی وجہ جراثیم سے پاک نہ ہونے والے انجیکشن ہوتے ہیں، ڈاکٹر اسد اسلم خان نے مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔میڈیا کو جاری ایک بیان میں ڈاکٹر اسد اسلم نے تجویز دی کہ ایواسٹن انجیکشن صرف شوکت خانم سے خریدے جائیں، انہوں نے اس حوالے سے محکمہ صحت کو بھی آگاہ کردیا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ گودام (جہاں انجکشن رکھا گیا تھا) کو سیل کر دیا گیا ہے اور پنجاب بھر میں ڈرگ انسپکٹرز ان انجکشنز کی خرید و فروخت روکنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام ڈاکٹروں اور مریضوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایواسٹن انجکشن استعمال نہ کریں اور میڈیکل اسٹورز، ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو اس کی فروخت سے روک دیا گیا ہے، حقائق جاننے کے لیے انجکشن کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نوشیروان عادل نے بیواسکیزومیب کی سورسنگ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ برطانیہ میں قائم کمپنی سے خریدی گئی تھی، ہر شیشی سے 1.25 ملی گرام/0.5 ملی لیٹر کے تقریباً 70 انجیکشن تیار کیے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ شوکت خانم، ڈاکٹرز ہسپتال اور سائرہ میموریل ہسپتال میں ان انجیکشنز کو مخصوص اور محفوظ ماحول میں تیار کرنے کی سہولت موجود ہے، تحقیقات میں آلودگی کے ممکنہ ذرائع پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

