کامریڈ ماؤ زے تنگ نے 7 ستمبر 1937 کو اپنا شہرہء آفاق مضمون ’آز اد خیالی کا مقابلہ کرو‘ یعنی Combat Liberalism لِکھا۔ اِس پمفلٹ میں کامریڈ ماؤ زے تنگ نے آز اد خیالی کی گیارہ اِقسام لِکھیں جو آج بھی انقلابی جدوجہد میں پارٹی کے نظم و ضبط کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیّت رکھتی ہیں۔
تاہم، اِس سے پہلے کہ ہم آز اد خیالی یا سفید لبرل ازم پر ماؤ کی بیان کردہ گیارہ نکاتی تنقید کا جائزہ لیں، ہمیں اِس امر کو بھی دھیان میں رکھنا ہو گا کہ 83 سال گذرنے کے بعد جہاں معروضی حالات میں تبدیلی آئی ہے وہیں مظاہر کا جدلیاتی تناظر بھی کِسی حد تک مُتاثِر ہوا ہے۔ لہٰذہ سب سے پہلے ہمیں کُچھ ایسی خصوصیات کا جائزہ لینا ہو گا جِس کے ذریعے نہ صرف ہم آز اد خیالی کو آسانی سے شناخت کر سکتے ہیں بلکہ ایسی پسماںدہ سوچ کو اپنی اپنی شخصیّتوں اور صفوں سے نکال کر باہر بھی پھینک سکتے ہیں۔ یہاں یہ کہنا تو بعید از ضرورت ہو گا کہ آز اد خیالی کِسی بھی انقلابی پارٹی یا تنظیم کے لیئے ایک ایسا زہرِ قاتِل ہے جو تنظیم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے اور اُسے سامراج، سامراجی ایجنٹوں اور سفید افواج سے بھی ذیادہ نُقصان پہنچاتا ہے۔
اِس کی کئی مثالیں ہیں۔ تقسیمِ ہندوستان کے پُرآشوب دور سے لے کر آج تک بائیں بازو کی کئی جماعتیں معرضِ وجود میں آئیں اور آز اد خیالی کے باعث مفاد پرستی کی ہوا میں تحلیل ہو کر رہ گئیں۔ اُن کا ابتدائی نعرہ انقلاب تھا مگر جلد ہی وہ ’دفاعی نوعیت کی ٹریڈ یونین ازم‘ کی نذر ہو گئیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’دفاعی نوعیت کا ٹریڈ یونین ازم‘ کیا ہے؟ دفاعی نوعیت کی ٹریڈ یونین نہ صِرف مزدوروں کو معمولی مراعات تک محدود رکھتی ہے بلکہ اُن کا یہ عمل مزدوروں کو حقیقی انقلابی جدوجہد کی طرف جانے ہی نہیں دیتا۔ یہ بھی آذاد خیالی کی ایک جدید قِسم ہے جو حاکموں اور مزدوروں کے مابین محض چٹّی دلالی کا کام کرتی ہے اور مٹھی بھر مزدوروں کو معمولی مراعات دلِوا کر اُنہیں صبر و شکر کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ تاریخ نے دیکھا کہ کِسی بھی دِفاعی نوعیت کی ٹریڈ یونین دنیا بھر میں کِسی انقلاب کی بنیاد نہیں رکھ سکی۔
خود این ایس ایف کے کئی گروپ آز اد خیالی کا شِکار ہوئے۔ کوئی پاکستان پیپلز پارٹی کا حِصہ بن گیا تو کِسی نے جنرل ضیا الحق کے ساتھ ہاتھ مِلا لیئے۔ پیپلز پارٹی کا حِصہ بننے والوں میں معراج محمد خان اور امیر حیدر کاظمی کی مثال سب کے سامنے ہے۔ معراج محمد خان بعد میں عمران خان کی تحریکِ انصاف میں رہے مگر خود کو نہ کبھی آز اد خیال کہا نہ آز اد خیالی کی کبھی مُخالفت کی لہٰذہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عملاً آذاد خیال ہی رہے۔ اِسی طرح امیر حیدر کاظمی سن ستتر کے انتخابات پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر ہارے، سن اٹھاسی میں پیپلز پارٹی کے ایم این اے بنے اور بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں وزیرِ صحت و سماجی بہبود و خصوصی تعلیم رہے۔ امیر حیدر کاظمی کا شمار ان نام نہاد انقلابیوں میں ہوتا ہے جو خود کو فخر سے آزاد خیال کہتے اور لِکھتے تھے اور بلآخِر ان کی سیاست کا اِختتام ایک دوایئوں کے جعلی لائیسنس کے اجرا کے سکینڈل پر ہوا، جِس کے بعد انہیں برطانیہ فرار ہونا پڑا۔ اِس ضمن میں جِن لوگوں نے جنرل ضیا الحق کے ساتھ ہاتھ مِلا لیا ان میں پرویز رشید کی مثال دی جا سکتی ہے۔ یہ نون لیگ کی حکومت میں نواز شریف کے وزیرِ اطلاعات و نشریات رہے۔ یہ افراد پاکستان میں کون سا انقلاب لائے یا عوامی جمہوری انقلاب میں ان کا کیا کردار تھا یہ اب کِسی سے ڈھکا چھُپا نہیں۔
مگر بات صِرف یہیں تک محدود نہیں۔ آج آپ کو پاکستان میں جتنی این جی اوز نظر آتی ہیں، ان میں سے بیشتر کے پیچھے آپ کو ایسے افراد نظر آئیں گے جِنہوں نے کُچھ دِن این ایس ایف میں گذارے اور پھِر رفاہِ عامہ کے نام پر غیر ملکی ٹکڑوں پر پلنا اپنے لیئے قبول کر لیا۔ مِثالیں دینے کی ضرورت نہیں، آپ کو اپنے اِردگِرد بہت سے ایسے لوگ نظر آ جائیں گے جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ رفاہِ عام کے کام محنت کشوں اور استحصالی طبقات کے مابین فِطری تضّاد کو کم کرنے کے لیئے کیئے جاتے ہیں اور اِس طرح کے کاموں کے ذریعے مزدور طبقے کو ملکی اور غیر ملکی سرمائے یا امداد پر پلنے والے طفیلیے (PARASITES) بنا دیا جاتا ہے جو رفتہ رفتہ اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ ان کو عظیم انقلابی جنگ کی طرف مائل کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے، جو کہ ایک انقلابی تنظیم کا اصل کا م ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

