فہیم عامرکالملکھاری

پی سی او : پر ویز کا انسٹی ٹیوشنل آرڈر ؟ ۔۔ فہیم عامر

کچی عمر میں پڑھنے سے لکھنے کی لت لگتی ہے اور مشاہدہ اطراف سے انسان پڑھائی میں مبتلا ہوتا ہے۔ مگر پہلے سے ڈل چکے بین پھر سے پڑھنا اور نئے بین لکھ لکھ سٹنا نہ صرف ہماری شان گریہ زاری کے خلاف تھا بلکہ اہل غریب خانہ کے لئے تھکن بھری ریاضت بھی۔ ایسی تخلیقی وفا کشی کے محرکات کو کھوجنا تو آدھے ڈاکٹر عمار حسن کے لئے بھی زمانے میں انسان ڈھونڈنے کے مترادف تھا پر ہماری ‘نا اہلیہ’ نے بڑی سہولت، گہرے غور و خوض، پایاب تجربے اور سطحی مطا لعے کے بل پر نتیجہ اخذ کر لیا کہ “ہو نہ ہو، اپنے ہی عا قبت نا اندیش رشتہ دار ، انہضام جایداد کی غرض سے ایسا سفلی علم کرتے ہیں کہ یہ خاوندگان مہر وجمال اپنے بیوی بچوں سے زیادہ فکر دنیا میں سر کھپاتے ہیں”. (آدھے ڈاکٹر عمار حسن کا قصہ یہ ہے کہ صاحب ہیں تو پورے نفسیات دان مگر حکومت کے تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر لینے کے باعث ڈگری حاصل نہ کر سکے)۔ خیر اہلیہ کو کون سمجھاتا کہ جب ہم نے جائیداد کا ٹنٹا ہی نہیں رکھا تو “ہم کہاں اور یہ سفال کہاں”. مگر ان کے تحصیل ننکانہ صاحب کے پنجابی شجر پر تو کانوینٹ و کننئرڈ کی آ کاس ایسی چڑھی تھی کہ سوائے انگریزی idioms کے کوئی محاورہ صحیح ادا نہ ہو پاتا۔ مثلا 3 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگی تو کہنے لگیں، “دیکھ لیا نا، سو لوہار کی ایک انارکی”.
یوں بھی آتش تخلیق پر محرکات کا تیل چھڑکنے والے تو وہ وکلاء تھے جو ان دنوں صرف اس لئے اکٹھے ہو جاتے کہ ہماری توجہ امور خانہ داری سے ہٹا کر امور خانہ جنگی کی جانب مبذول کروا سکیں.وگرنہ رشتہ دار تو محض پاس رشتہ داری ہی نبھاتے یعنی گھریلو مفادات سے مرصع تاج ہمنوائی بیگم کے سر پہ رکھتے اور چوکھٹ پار کرتے ہی ہمیں آمر قا ہر کا بہی خواہ بتلاتے کہ “چھوڑئیے صاحب، کہنے کو دست ہنر رکھتے ہیں. وگرنہ قلم سرہانے رکھے دن بھر کھٹیا توڑتے ہیں”. کوئی کہتا، “قارئین میسر نہیں، تبھی قلم بیوی کے قدموں تلے گروی رکھ دیا”. تب خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے غیر مذموم عز ا ئم کو ہنر مندوں کے سامنے پیش کر کے کوئی جواز تخلیق برآمد کر لیا جاۓ. چنانچہ چند ہم پیالہ، ہم رکاب و ہم رقیب ہم جما عتوں کو بعد از مغرب مد عو کیا کہ شاید ‘ہم سے کھل جایئں بوقت رن مریدی ایک دن’. ارے صاحب، عذر مستی رکھ کر چھیڑ نے کی نوبت کیا آتی، احباب تو گویا کب سے سارا چمن آنکھوں کے آگے لئے رہائی کے منتظر تھے۔محفل میں بادہ و بہار کیا کھلی کہ نئے سرے سے وہ حساب و آزار کھلے کہ کسی آ زار بند سے بھی بند ہونے میں نہ آئے۔ یہ بتاتا چلوں کہ یہ سن 2007 کا آغاز تھا لہٰذ ہ ایک نے افکار کے آگے اقبالی بند باندھنے کی کوشش کی ….
قاہر آ مر کہ باشد پختہ کار – از قوانیں گرد خود بند حصار
جرّہ شاہیں تیز چنگ و زود گیر – صعوہ را درکار ہا گیرومشیر
قہری ر ا شر ع دستور دہد – بے بصیر ت سرمہ با کورے دہد
ترجمہ: قہر کرنے والا آ مر (ایسا) پختہ کار ہوتا ہے کہ اپنے گرد قلعہ(بھی) قوانین کا بناتا ہے. (گویا) تیزوزودگیر شاہین ممولوں کو اپنے امور حکومت میں مشیر بناتا ہے. جبروتسلط کو قانون اور آئین کی صورت دیتا ہے. گویا اندھا اندھے کو سرمہ عطا کرتا ہے.
سناٹا چھا گیا. سب نے ایک دوسرے کو یوں گھورا کہ گویا ابھی ڈو یل شرو ع ہونے والی ہے. سناٹا مزید گہرا ہونے لگا تو داہنے ہاتھ بیٹھے ہم جما عت نے جسٹس وجیہہ الدین احمد کے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر فرمایا، “حضرات، اقبال کی یہ بات….اس عہد شا عرا نہ کی واردات لگتی ہے….. جب انھیں رحمت اللہ علیہہ ڈکلئیر نہیں کیا گیا تھا….. وگرنہ حالیہ عہد آمرانہ میں ہوتے تو باز رہتے یا محض مونچھوں کو زیر سطر کیے، لبوں پہ جیب پھیر پھیر کر پی سی او نازل فرموایا کرتے…. (ان دنوں ملک عبد القیوم نامی ایک وکیل صدر جنرل مشرف کے اٹارنی جنرل تھے اور یہی کام کرتے تھے. انہوں نے بھی مونچھیں زیر سطر کر رکھی تھیں. اللہ جانے چہرے کو با رعب بنانے کے لئے یا مضحکہ خیز ، یہ تو اہل ذوق ہی جانتے ہیں مگر ہونٹوں اور نتھنوں کے مابین کچھ ایسا خط منقسم کھینچ رکھا تھا گویا حرام کی ‘ح’ لکھی ہو. دوسرے پی سی او سے مراد ہے Provisional Constitutional Order یعنی صدر کے ماورائے آئین احکا ما ت. ایک مرتبہ کسی کو سمجھانے کی غرض سے اردو میں لکھ کر دکھا یا “پر و یژنل کانسٹی ٹیوشنل آرڈر… بغور دیکھنے کے بعد بولے…اچھا اچھا، پرویز کا انسٹی ٹیو شنل آرڈر…. جانے بصارت خراب تھی یا بصیرت درست! واللہ عالم با الصواب) خیر دوسرے دوست نے لقمہ دیا، “ہاں، اور کہیں حدضمیر کے اس طرف ہوتے تو بقضا ئے آ مر تین وقت کا کھانا کسی جیل میں تناول کرتے. اس پر ایک تیسرے ہم جماعت گلہ گزار ہوئے کہ “بھئی، ہمیں تو استاد گل محمّد نے کبھی بھی نہ بتایا کہ حضرت بیرسٹر بھی تھے بلکہ یہ خبر دینے سے بھی حتی الوسیلہ گریز ہی فرمایا کہ ‘جاوید نامہ بھی حضرت ہی کی تخلیق ہے”.
“شاید اس لئے کہ This is letter to a child who very much was (بحوالہ Letter to a child who never was – Oriana Falaci ) کونے میں جھومتے ہوئے صاحب نے وضاحت فرمائی مگر حضرت ہمارے استاد گل محمّد کی ذاتی شخصیت اور ملک پر مسلط چھ دہایوں کے سیاسی تعطل کو با ہم منسلک و منسوب کرنے پر نہ صرف مصر تھے بلکہ اس ‘منسوبہ بندی’ کو بے تحاشہ داد بھی دے رہے تھے. گویا زمیں جنبد نہ جنبد ، گل محمّد.پہلے ہم جماعت نے نہ صرف اسے پاکستان کے خاندانا ن آ مر اں کے بارے میں اقبال کی پیش بینی بتایا بلکہ شہاب الدین غوری تک کو اسی military dynasty کا جد امجد قرار دیا.ہم نے موہوم سی لے میں تقسیم ہند کا راگ الاپنا چاہا تو بھنا کر ٹوک دیا اور ٹوکنے کے بعد دوبارہ بھنا ئے، “میا ں، اگر سپہ سالار حا کم وقت ہوا تو جانو کہ پاکستان بن ہی چکا تھا”. انہی نے ہمیں قایل کیا کہ قیصر روم، چیا نگ کائی شیک، ملکہ برطانیہ، زاران روس، امریکی صدور اور پاکستانی جرنیل سب اپنے ہی ہم وطن ہیں. ایسے میں عوام کا، محروم طبقات کا، جمہوریت کا یا دیگر انسانی حقوق کا درد زہ اپنے بطن میں دبائے دبائے پھرنا کہاں کی دانش ہے؟ خصوصا جب درازی عمر کے خواہاں بھی ہوں اور نہ فیض صاحب کی طرح اپنی سہل طلبی کو شہر بھر کے کاہلوں کے با عث اپنا طرہ امتیاز بنانے کا ہنر آتا ہو.
“سو وہ جو ہم لفظوں اور لکیروں سے فکری انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے، اس سے باز رہے”
نہ تھا کہ ہماری فکری باگ ڈور ان مولانا کے ہاتھ میں چلی گئی ہو کہ جن کا اسم ثانی ان دنوں بھی مغرور فلک کو جھک جانے پر مجبور کر سکتا تھا (بیشک ڈیزل ہمیشہ ہی صارفین کی قوت خرید سے باہر رہا ہے) یا ہماری تخلیق کی تہہ میں کوئی ایسی قوت در آئی تھی جو دفاعی قوت کی طرح دیگر قوی جیسے زراعت، صنعت و حرفت، تعلیم، سیاست، صحافت یا عدالت گویا کسی پر بھی غالب آ کر انھیں مزید مضمحل کر دے اور عناصر کو مزید غیر معتدل! اور یہ تو قطعی طور پر بعید از قیاس تھا کہ ہماری خوابگاہ میں کوئی باوردی شخص سامان برہنگی لئے داخل ہو گا ہمیں لباس امر سے دستبردار کرنے کی برہنہ وار سازش اس طرح سے کرے گا کہ ہم بھی یہی کہیں کہ….
“وردی تو اتا ری حضرت نے جنتا کے مسلسل کہنے پر
من اپنا پرانا حاکم تھا سو اب بھی صدارت کرتا ہے”
بس اگر کوئی ڈر مانع تھا تو یہی کہ قلم یوں آپے سے باہر ہو گا کہ معاشرتی ردوبدل، سیاسی ایجاب و قبول، داخلی تضادات، اشرافیہ کی لوٹ کھسوٹ یا معاشی جبر و تسلط جیسے مو ضو عات نہ بھی ہوئے تو حسن و ر عنا ئی کے مروجہ دلپذیر نغمے ہمارے نام کے ساتھ بہت بھونڈے لگیں گے. سو اس کا ڈر بھی رضی الدین رضی نے “قابل قبول مزاحمت” کی اصطلاح استعما ل کر کے دل سے نکا ل دیا.
ہمیں اچھی طرح یاد ہے، 9 مارچ 2007 کے بعد وکلاء کا خروش جوں جوں بڑھتا گیا توں توں نہاں خانہ دل میں ضمیر کی لعن طعن بڑھتی گئی. کوئی خلش کہتی کہ بھائی اگر والدین حضور کا نام فہیم ر کھ ہی بیٹھے ہیں تو ان کی یہ 38 سالہ خطا معاف بھی کر دو. (تب ہم اتنے ہی برس کے تھے) نہ ہوا پر نہ ہوا میر سا انداز نصیب مگر بات اپنی تو اپنے انداز میں کہہ ہی سکتے ہو. سید عامر سہیل کا نیزہ تنقید بھی کسی تازہ سر تخلیق کی گھات لگائے نظرآ رہا تھا. علی تنہا بھی رابطے میں تھے جو بظاہر تو ہمیں بھی Confinement cell میں دیکھنا چاہتے تھے.مگر کہنے لگے کہ “حضور، ذرا طنز کے نشتر دھیمی کمان سے چھوڑئیے گا”.شاہ صاحب (علی تنہا) کے صنف وصیعت میں ادا کردہ فقرہ ثانی میں جو ہدایت کی گئی تھی اس کے با عث ….
“وہ جو ہم لفظوں اور لکیروں سے فکری انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے، اس سے پھرباز رہے”
ادھر وکلاء کا خروش اور شورش دل، دونوں امراض بڑھتے گئے. ملتان شہر کی خنک اور سرد مہر راتوں کے درمیان یوسف حسب معمول ہمارے گھر کے گیٹ کے باہر تین سیٹیوں سے اور اپنی چوکیداری کی لاٹھی کے تین وار کر کے ہمیں اپنی آمد اور کافی کی طلب سے آ گاہ کرتا رہا.ہم انھیں اکثر کہتے کہ ان کی لاٹھی کسی عصا کا نعم البدل نہیں کہ ہمیں اسیری سے نکال کر ملک مو عود کی جانب لے چلے. مگر وہ اپنی شان مزدوری تج دیں ایسا تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا تھا. یوں بھی ہم حکومت وقت کے جبر کا بدلہ بھی اس غریب سے گلہ کر کر کہ لیتے تھے.پر اس دن یوسف بیزار ہو گیا، بلکہ یوں کہئیےکہ بیدار ہو گیا تھا.بولا، “ا یہنیں ای تنگ او تے لخدے کیوں نئیں؟ آ خر تسی وی ساڈے بھرا او، اساڈے برادران یوسف”!(اتنے ہی تنگ ہیں تو لکھتے کیوں نہیں، آ خر آپ بھی ہمارے بھائی ہیں، ہمارے برادران یوسف!) اور بے نیازی سے چہرہ موڑ کر کسیلی کافی کی چسکیاں لینے لگا. پھر خود ہی ملتفت ہوا اور بولا، “اچھا کی کہندا اے تہاڈا صدر؟” (فرمائیے، کیا کہتا ہے آپ کا صدر؟)
یہ جنرل مشرف کی 23 مارچ 2007 کی تقریر تھی جسے سناتے ہوئے ہم اپنی مسند سے اٹھے، بیٹے کے بستہ سے رف رجسٹر ، اہلیہ کے پرس سے ایک پوائنٹر قلم اور یوسف کی جیب سے آدھا پیکٹ مارون سگریٹ نکال کر اپنے بوسیدہ ڈایننگ ٹیبل پر جا بیٹھے. یوسف اپنے سگریٹ اور ہماری حالت پر کف افسوس ملتا رخصت ہوا اور رات کے بقیہ حصے میں ہم نے جناب صدر کی تقریر کا تجزیہ پوری تحقیق و تضحیک سے کرنے کےبعد اگلے دن رضی الدین رضی کے حوالے کر دیا.یہ سلسلہ 3 نومبر 2007 تک جاری رہا. ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ہم پھر کومے میں چلے گئے.
چراغ آخر شب ہوتے تو کوئی بات بھی تھی مگر افسوس در افسوس کہ جن خدشات کا نادانستہ تذکرہ روزنامہ جنگ کے ان کالموں میں ہوا وہ مستقبل قریب میں ابتلا ئے حقیقت ہوتے گئے. پچھلے دنوں ایک ٹریبیو نل کا فیصلہ تھا کہ شریکا ن جرم کو بھی شامل تفتیش کیا جائے تو یہ لکیریں کھینچ دیں ہیں کہ تاریخ سزا دے تو رضی الدین رضی، سید عامر سہیل، عمار حسن، شہزاد طارق اور دیگر کو بھی شریک جرم سمجھا جائے. ہاں یوسف کبھی بھی نہ چاہتا تھا کہ ہم لکھیں، وہ تو بس ہماری باتوں سے بیزار ہو گیا تھا.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker