Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, جون 28, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل
  • صرف الزامات کافی نہیں : آگےبڑھنے کی ضرورت ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کراچی میں رینجرز کے دفتر پر حملہ :دھماکے کے بعد دو گھنٹے سے فائرنگ جاری
  • کیا ایران مشرق وسطیٰ کی نئی ’سپر پاور‘ ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ہمارے یوسف کدھر گئے ہیں ؟ معصومہ شیرازی اور ’’ صدائے ابابیل ‘‘ : رضی الدین رضی کا کتاب کالم
  • اسلام آباد میں چھاپہ : حمل میں تشکیل پانے والا ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا‘ برآمد ۔۔ تین چینی باشندے گرفتار
  • مودی سرکار کی مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بھڑکائی آگ : نصرت جاوید کا کالم
  • ایران پاکستان فارسی اور اقبال : کوچہ و بازار سے / انوار احمد کا کالم
  • روہڑی کے تاریخی ماتمی جلوس میں چار عزادار جاں بحق ، متعدد زخمی
  • وینزویلا میں شدید زلزلہ 32 اموات کی تصدیق : تعداد ہزاروں سے تجاوز کرنے کا امکان
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»فیضان عارف»فیضان عارف کا کالم : مسئلہ برطانیہ میں شعر و ادب کی بقاء کا…!
فیضان عارف

فیضان عارف کا کالم : مسئلہ برطانیہ میں شعر و ادب کی بقاء کا…!

ایڈیٹرفروری 8, 20211 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
faizan arif
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

وہ غزل سنا رہے تھے اور مشاعرہ گاہ میں دادوتحسین کے علاوہ کوئی اور آواز سنائی نہیں دے رہی تھی جب انہوں نے یہ شعر پڑھا:
ہمارے خواب چوری ہوگئے ہیں
ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے
تو ہر طرف واہ واہ نے ثابت کر دیا کہ مشاعرہ لوٹ لیا گیا ہے۔ یہ شاعر، بخش لائلپوری تھے جو اس مشاعرے کی صدارت کر رہے تھے جس میں تقریباً دوسو سے زیادہ باذوق خواتین و حضرات موجود تھے جو لندن اور گردونواح سے خاص طور پر اس مشاعرے میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ یہ 1994ء کے آغاز میں لندن کے کسی علاقے میں ہونے والے مشاعرے کی ایک جھلک ہے۔ تاریخ اور مقام تو مجھے پوری طرح یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ لندن میں یہ میرا پہلا مشاعرہ تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب لندن سے بی سی سی آئی اور اردو مرکز کی بساط لپٹ چکی تھی۔ اردو کے بہت سے نامور ادیب اور شاعر واپس پاکستان جاچکے تھے مگر اس کے باوجود لندن میں اردو کے اچھے شاعروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مشاعروں اور ادبی تقریبات کا سلسلہ نہ صرف لندن بلکہ برطانیہ کے دیگر شہروں میں بھی جاری تھا۔ انڈیا اور خاص طور پر پاکستان سے کئی شاعروں کی ٹولیاں ان تقریبات کی شان بڑھانے کے لئے برطانیہ آتی تھیں یا بلائی جاتی تھیں۔ اُن دنوں برطانیہ، واقعی اُردو کا تیسرا بڑا ادبی مرکز تھا۔ ساقی فاروقی، اکبر حیدرآبادی، عاشور کاظمی، بلبل کاشمیری، بخش لائلپوری (جنہیں ایک سینئر شاعر پنجابی میں’’ مینوں بخش لا ئل پوری‘‘ کہا کرتے تھے)، اختر ضیائی، انجم خیالی، منصور معجز، اطہر راز، صفدر ہمدانی، باصر کاظمی، سرمد بخاری، جاوید اختر بیدی، حفیظ جوہر، جاوید اقبال ستار، یشب تمنا، سجاد شمسی، ارشد لطیف اور بہت سے اچھے اور جینوئن شاعر، شاعری کے آسمان پر جگمگا رہے تھے۔
نثرنگاروں میں قیصر تمکین، محمود ہاشمی، رضا علی عابدی، مقصود الٰہی شیخ، جتندر بلو، شاہدہ احمد، محسنہ جیلانی، نجمہ عثمان اور صفیہ صدیقی کے علاوہ اور کئی ناموں کا ڈنکا بج رہا تھا۔ اُن دنوں شاید ہی کسی ایسے شاعر کو مشاعرے میں دعوت کلام دی جاتی تھی جسے کم از کم وزن میں شعر کہنے کا سلیقہ نہ ہو، جس طرح مشاعروں میں عمدہ شاعری سننے کو ملتی تھی، اسی طرح اہل ذوق کی بڑی تعداد ادبی تقریبات میں بھی جوق در جوق شریک ہوتی تھی۔ میں مشاعروں میں شرکت سے ہمیشہ گریز کرتا رہا ہوں مگر اُن دنوں واقعی مشاعروں کا معیار بہت اعلیٰ تھا، شعر سننے اور سنانے کا لطف آتا تھا، باذوق حاضرین کی بڑی تعداد کی طرف سے حوصلہ افزائی کے باعث مزید اچھے شعر لکھنے کی جستجو رہتی تھی۔ گزرنے والی تین دہائیوں کے دوران برطانیہ میں نہ صرف اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ اردو شاعری کا معیار بھی آسمان سے زمین پر آگیا ہے۔ وہی حاضرین جو کبھی مشاعروں کی محفل میں پچھلی نشستوں پر بیٹھے واہ واہ کرتے تھے، انہیں بھی نمایاں ہونے اور اپنی شناخت کرانے کا شوق چُرایا۔ پہلے تو انہوں نے تک بندی کا آغاز کیا۔ پھر کوئی مہربان جینوئن استاد شاعر میسر آگیا تو اس سے اصلاح لینے کو غنیمت سمجھا مگر پھر رفتہ رفتہ اصلاح سے عاجز آ کر اپنے ہی لکھے ہوئے شعروں، بلکہ تک بندی کو مستند سمجھنا شروع کردیا یا پھر پاکستان سے ریڈی میڈ کلام کی امپورٹ شروع کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی کئی شعری مجموعے یکے بعد دیگرے اُن کے نام سے شائع ہوگئے۔
اس معاملے میں خواتین، مردوں پر سبقت لے گئیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آجکل شاعری بہت آسان ذریعہ شناخت بن گئی ہے۔ شاعری کی اس دوڑ میں بہت سی ایسی خواتین جو وزن میں شعر کہنا تو کجا، وزن میں لکھے ہوئے شعر کو وزن میں بھی نہیں پڑھ سکتیں، اب کئی کئی شعری مجموعوں کی خالق بلکہ مالک بن گئی ہیں۔ جس طرح بانجھ عورتیں ماں کہلانے کے شوق میں دوسروں کے بچے گود لیتی ہیں، اسی طرح شاعری کے تخلیقی جوہر سے عاری بہت سی خواتین نے کسی گمنام شاعر کے کلام کو گود لیا ہوا ہے۔ برطانیہ کے علاوہ انڈیا اور پاکستان میں بھی ایسی خواتین کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
منیر نیازی نے کہا تھا کہ دو نمبر شاعر اور شاعرات بہت فعال اور خودنمائی کے شدید مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور یورپ بھر میں اردو کے تک بند شاعر اور شاعرات شہرت اور پہچان کی تلاش میں دن رات ہلکان ہوئے پھرتے ہیں، کئی کئی شعری مجموعوں کی اشاعت اور نام نہاد انٹرنیشنل مشاعروں میں نمائندگی سے بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی تو رہی سہی کسر فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یو ٹیوب پر اپنے ٹی وی چینل شروع کر کے اینکرپرسن بن جانے کی بھیڑ چال نے اردو زبان اور شاعری کے معیار کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ تمام جتن کرنے کے بعد بھی کچھ نام نہاد شاعروں اور شاعرات کی خودنمائی کے جذبے کی تسکین نہیں ہوتی تو وہ مختلف یونیورسٹیز میں اپنی شاعری پر ایم اے اردو کے تھیسز یا اپنے فن اور شخصیت پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھوانے کے لیے ہر وہ حربہ آزماتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں۔
کیا شاعری واقعی آسان ذریعہ شناخت ہے یا اس عاشقی میں عزت سادات چلے جانے کا اندیشہ ہوتا ہے؟ شاعری تو ایسا تخلیقی جوہر ہے جو قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے۔ محنت، مشقت، بھاگ دوڑ اور تک بندی سے کوئی شاعر نہیں بن سکتا۔ تک بند شاعر یا شاعرہ ہونے سے بہتر ہے کہ انسان اچھا سخن فہم اور شعر شناس ہو اور یہ بات زیادہ باعث عزت ہے، بے تکی شاعری اور بے رونق مشاعرے کیا برطانیہ میں اردو زبان و ادب کی خدمت کا وسیلہ ہیں یا محض اپنا رانجھا راضی کرنے کا بہانہ؟ یہ صورت حال برطانیہ میں اردو سے محبت کرنے والے ہم سب لوگوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ویسے تو اردو زبان میں تمام نامساعد حالات کے باوجود خود کو زندہ رکھنے کا وصف موجود ہے لیکن اس سلسلے میں بنیادی مسئلہ معیار کا ہے، بالخصوص شاعری جو کہ اردو زبان کا نفیس ترین پیرایہ اظہار ہے، اس کے معیار کو بہرصورت قائم رہنا چاہیے۔ تک بندی سے نہ صرف شاعری کے وقار پر حرف آتا ہے بلکہ شاعری کے باذوق مداحوں کے مزاج پر بھی بے وزن شاعری اور تک بندی گراں گزرتی ہے۔ مشاعروں میں بے وزن کلام سنائے جانے سے تک بندوں کی خودنمائی کی تسکین تو ہو سکتی ہے، اس سے اردو زبان وادب کی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔
گلوکاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو جتنا بے سُرا ہوتا ہے، اسے اتنا ہی زیادہ گانے کا شوق ہوتا ہے۔ گانے سے یاد آیا، شہرت کے بھوکے ہمارے بہت سے شاعروں کا خیال ہے کہ اگر کوئی بڑا اور نامور گلوکار ان کی غزلیں گا دے تو اس سے وہ راتوں رات مشہور ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ وہ اس ذریعے سے بھی اپنے نام اور کلام کو دوام بخشنے کے لیے گلوکاروں سے تعلقات استوار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ آجکل شاعروں میں بھی یہ رجحان عام ہوگیا ہے کہ جو جتنا بڑا تک بند ہے، اسے مشاعروں میں اتنا ہی زیادہ کلام سنانے، تنظیمیں بنانے اور فیس بک پر اپنی دھاک بٹھانے کا شوق ہے۔ شاعری کے ضمن میں جو مرحلہ مشق سخن اور سیکھنے کا ہوتا ہے، اب لوگ اس مرحلے کے آغاز میں شعری مجموعہ شائع کروا لیتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ برطانیہ بھر میں ہونے والے مشاعروں میں سیکڑوں حاضرین اور دس پندرہ شاعر شریک ہوتے تھے اور اب یہ عالم ہے کہ بیشتر مشاعروں میں تیس سے چالیس حاضرین ہوتے ہیں جن میں بیس پچیس شاعر ہونے کے دعویدار پائے جاتے ہیں۔ ایسے مشاعروں اور ادبی تقریبات سے نہ تو اردو کی کوئی خدمت ہوتی ہے اور نہ اردو زبان کے قدر دانوں کے ادبی ذوق کی تسکین ہو پاتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی طرح کئی ادبی تنظیموں نے پورے یورپ میں اپنی شاخیں قائم کرنا شروع کردی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن کو ان تنظیموں کی شاخوں کا عہدیدار بنایا جاتا ہے، انہیں چیف ایگزیکٹو، ڈائریکٹر جنرل، چیئرمین اور اسی طرح کے بڑے بڑے منصب دیئے جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ کوئی بہت بااختیار سرکاری افسر بنا دیئے گئے ہیں جن کی سالانہ تنخواہوں لاکھوں پونڈ ؍یورو ہوگی جبکہ الاؤنسز اس کے علاوہ ہوں گے۔ ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ برطانیہ کے مختلف شہروں اور بالخصوص لندن میں چھوٹی چھوٹی تنظیموں کی بجائے ایک مشترکہ اور بڑی تنظیم قائم کی جائے جو واقعی معیاری اردو شاعری اور نثر لکھنے والوں کو نہ صرف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے بلکہ سال میں ایک بار اردو کے جینوئن ادیبوں اور شاعروں کے مل بیٹھنے کا بھی اہتمام کرے۔ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ سے نہ تو کوئی مسجد بنا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی عمارت تعمیر ہو سکتی ہے۔ نئی نسل کو اردو سکھانے اور پڑھانے کا معاملہ تو ایک الگ موضوع ہے جس پر آئندہ کسی کالم میں بات ہوگی۔ فی الحال معاملہ اردو کے اُن ادیبوں اور شاعروں کا ہے جنہوں نے پاکستان کے بیشتر اُردو چینلز کی طرح معیار کو اُٹھا کر ایک طرف رکھ دیا ہے۔ اردو کے معیار کو اس لئے ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے کہ اس زبان سے ہماری تہذیب وابستہ ہے۔ یہ ہماری شناخت کا حوالہ اور پہچان کا جواز ہے۔ اردو زبان کے معیار کا تحفظ اردو کے ہر اچھے ادیب اور شاعر کی ذمہ داری ہے۔ معیاری ادب کی تخلیق ہی اردو کی بڑی خدمت ہے۔ برطانیہ اور یورپ میں آباد اردو کے شاعروں اور ادیبوں کی مثال اس مچھلی کی طرح ہے جنہیں بوتل میں بند کرکے سمندر میں پھینک دیا گیا ہے اور اگر انہیں اپنی زبان اور ادب کی آکسیجن بھی میسر نہ آئی تو گھٹن کے باعث وہ وقت سے پہلے ہی دم توڑ دیں گے۔
(بشکریہ: اخبار جہاں)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleزعیم ارشد کا کالم : فرعونوں کا معاشرہ اور ہمارے اند ر کا فرعون
Next Article اسلام آباد ہائی کورٹ پر وکیلوں کا حملہ : چیف جسٹس تین گھنٹے یرغمال
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل

جون 28, 2026

صرف الزامات کافی نہیں : آگےبڑھنے کی ضرورت ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جون 28, 2026

کراچی میں رینجرز کے دفتر پر حملہ :دھماکے کے بعد دو گھنٹے سے فائرنگ جاری

جون 28, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل جون 28, 2026
  • صرف الزامات کافی نہیں : آگےبڑھنے کی ضرورت ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 28, 2026
  • کراچی میں رینجرز کے دفتر پر حملہ :دھماکے کے بعد دو گھنٹے سے فائرنگ جاری جون 28, 2026
  • کیا ایران مشرق وسطیٰ کی نئی ’سپر پاور‘ ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 27, 2026
  • ہمارے یوسف کدھر گئے ہیں ؟ معصومہ شیرازی اور ’’ صدائے ابابیل ‘‘ : رضی الدین رضی کا کتاب کالم جون 26, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.