اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے اسی عدالت کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انھیں کام کرنے سے روک دیا ہے۔
جمعرات کو عدالت نے یہ فیصلہ طارق جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری کے مبینہ طور پر جعلی ہونے کے معاملے کے تناظر میں سنایا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت ان کے پاس جج بننے کی مطلوبہ اہلیت نہیں ہے کیونکہ بطور جج تعیناتی کے وقت جسٹس طارق جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری درست نہیں تھی اور اسی لیے بطورِ جج اُن کی تعیناتی غیر قانونی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اب طارق جہانگیری عہدہ رکھنے کے اہل نہیں ہیں اور وزرات قانون انھیں ڈی نوٹیفائی کرے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری آج ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ ان کی جانب سے اُن کے وکلا اکرم شیخ ایڈوکیٹ اور بیرسٹر صلاح الدین پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت کے دورانِ کسی بھی شخص کو موبائل فون کمرہ عدالت میں لے کر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ وکلا اور صحافیوں کے موبائل باہر ہی رکھوا لیے گئے تھے۔
عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس جہانگیری کے وکیل اکرم شیخ کا رویہ سخت تھا اور اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دینا ٹھیک نہیں ہے۔
وکیل میاں داؤد کی طرف سے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی تو رجسٹرار کراچی یونیورسٹی عمران صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ کراچی یونیورسٹی نے حتمی طور پر جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری منسوخ کر دی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ اسلامیہ لا کالج کے مطابق طارق محمود جہانگیری ان کے سٹوڈنٹ ہی نہیں تھے۔ رجسٹرار کے بقول زمانہ طالب علمی میں طارق جہانگیری ’نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے‘ اور ان فیئر مینز کمیٹی نے اُن پر تین سال کی پابندی لگائی جس کے بعد وہ 1992 میں دوبارہ امتحان دینے کے اہل تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ طارق جہانگیری نے ڈگری حاصل کرنے کے لیے ’جعلی انرولمنٹ فارم استعمال کرتے ہوئے ایل ایل بی کا امتحان دیا۔‘
جسٹس طارق جہانگیری کے وکیل اکرم شیخ ایڈوکیٹ نے کہا کہ آرٹیکل ٹین اے کے تحت شفاف ٹرائل ان کے موکل کا حق ہے جبکہ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا ’ہماری درخواست موجود ہے۔ یہ کارروائی سندھ ہائیکورٹ نے معطل کر رکھی ہے۔‘
وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ جسٹس جہانگیری نے چیف جسٹس اور دیگر ٹرانسفر ججز کے خلاف مقدمہ کیا اور ’آپ اس کیس میں ریسپانڈنٹ ہیں۔ آپ ڈیو پراسیس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس یہ کیس سننے کا کوئی دائرہ اختیار نہیں۔‘
وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ جسٹس جہانگیری کے خلاف گذشتہ ڈیڑھ سال سے ’پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اُن کی ڈگری جعلی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کراچی یونیورسٹی نے یہاں تسلیم کیا کہ ان کی ڈگری کے پراسیس میں بے ضابطگی تھی۔ ڈگری جاری کی گئی جیسے بعد میں منسوخ کیا گیا۔‘
بیرسٹر صلاح الدین نے کہا ’یہ فیک ڈگری کا نہیں بلکہ بے ضابطگی پر ڈگری کینسل کرنے کا کیس ہے اور یہ ابھی طے ہونا ہے کراچی یونیورسٹی 40 سال بعد سچ کہہ رہی ہے یا نہیں۔‘
دو گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر اور ججز کمرہِ عدالت سے چلے گئے اور کچھ دیر کے بعد سیکریٹری نے آ کر کیس کا فیصلہ سنایا۔
سیکریٹری اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کچھ دیر بعد جاری کیا جائے گا۔
عدالت نے میاں داؤد کی درخواست میں بیان کیے گئے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی وکالت کی ڈگری کو جعلی قرار دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بننے کے اہل نہیں تھے عدالت نے متعلقہ حکام کو طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

