اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپنی ہی عدالت کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جعلی ڈگری کیس میں ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ عدالت نے وزارت قانون سے کہا کہ انہیں جج کے طور پر ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔ کراچی یونیورسٹی نے گزشتہ سال اگست میں جسٹس جہانگیری کی لا ڈگری منسوخ کردی تھی اور اس پر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا ہؤا تھا۔
ہائی کورٹ کے کسی جج کی تعلیمی سند کے بارے میں معاملہ انتہائی سنگین اور حساس نوعیت کا ہوتاہے۔ جب ملک کی ایک ممتاز یونیورسٹی کسی جج کی ڈگری کو خود ہی غلط قرار دے کر منسوخ کرتی ہے تو اس پر قانونی موشگافیوں اور دلائل سے پہلے متعلقہ جج کو ازخود شفاف تحقیقات کے لیے اپنے عہدہ سے علیحدہ ہوجانا چاہئے، تاہم جسٹس جہانگیری ایسا اقدام کرنے میں ناکام رہے، جو بنیاد ی طور پر ملک کے نظام انصاف میں پائے جانے والے رویوں ہی کی عکاسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن اداروں پر عوام کا اعتماد ہونا چاہئے اور جہاں سے انصاف ملنے کی حتمی امید کی جاتی ہے ، وہاں ایسے لوگ بطور جج کام کررہے ہیں جن کی تعلیمی اسناد کے بارے میں شبہات موجود ہیں۔
بدقسمتی سے ملک میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو میرٹ پر پرکھنے اور حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے سیاسی بنیادوں پر جانچا جائے گا۔ ایسی آرا پہلے ہی موجود ہیں جن میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ان کے فیصلوں اور تحریک انصاف کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے عتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے متعلق بعض معاملات میں ان کی معاونت کی تھی بلکہ ایک موقع پر تو پی ٹی آئی کے بانی کو تمام درج شدہ مقدمات کے علاوہ کسی بھی نئے درج ہونے والے مقدمہ میں قبل از وقت ضمانت دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ ضمانت دینے کا ایسا حکم متعدد وکلا کے لیے بھی حیران کن تھا۔ اس کے علاوہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان 6ججوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے عدالتی کام میں ایجنسیوں کی مداخلت کے سوال پر اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھا تھا اور اسے میڈیا کے لیے جاری کرایا گیا تھا۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری موجودہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے لاہور ہائی کورٹ سے تبادلے اور پھر انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کے خلاف احتجاج کرنے والے اور اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے ججوں میں بھی شامل تھے۔ ان کا شمار ان ’باغی‘ ججوں میں ہوتا ہے جو 27 ویں ترمیم کے سوال پر سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے جسٹس منصور علی شاہ کے مؤقف کے حامی تصور کیے جاتے ہیں۔ گویا وہ عدالتی نظام کے اندر سے عدالتی نظام کی کمزوریوں پر سوال اٹھانے والے ججوں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ ان کے خلاف کراچی یونیورسٹی کا فیصلہ ایسے ہی وقت میں عام ہؤا جب جسٹس جہانگیری کے متعدد متنازعہ یا باغیانہ اقدامات پر بھی بات ہورہی تھی۔ اسی لیے اس معاملہ میں سیاسی نقطہ نظر سے گفتگو کرنے والے لوگ یہی سوال اٹھاتے ہیں کہ انہیں جعلی ڈگری کی وجہ سے سزا نہیں دی گئی بلکہ انصاف کی آواز بلند کرنے کی وجہ سے نشان عبرت بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے کراچی یونورسٹی سے ان کی ڈگری منسوخ کرائی گئی اور اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں جج کے عہدے سے ہٹانے کا غیر معمولی حکم جاری کیا ہے۔
اس رائے کی دلیل کے لیے ماضی میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس صفدر شاہ کا حوالہ دیا جاتا ہے جن پرجعلی سند کا الزام ایسے ہی پراسرار حالات میں عائد ہؤا تھا۔ یوں جسٹس جہانگیریپاکستان کی عدالتی تاریخ میں دوسرے جج ہیں جن کی تعلیمی سند پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج صفدر شاہ کی انٹرمیڈیٹ کی ڈگری پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں سزا سنانے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ میں جسٹس صفدر شاہ بھی شامل تھے۔ وہ ان اقلیتی ججز میں سے ایک تھے جنہوں نے سابق وزیر اعظم کو قتل کے اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔ تاہم بعد میں جسٹس صفدر شاہ کی انٹرمیڈیٹ کی سند کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے انڈیا سے انٹر کا امتحان پاس کر کے جو سند حاصل کی تھی، وہ جعلی ہے۔ اپنی تعلیمی سند پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد جسٹس صفدر شاہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر بیرون ملک چلے گئے تھے۔
اس معاملہ کی کبھی مکمل تحقیقات نہیں ہوسکیں کہ کیا جسٹس صفدر پر لگایا جانے والا الزام درست تھا یا بھٹو کیس میں ضیا حکومت کا حکم نہ ماننے پر انہیں سنسنی خیزی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ صفدر شاہ نے اس معاملہ پر بحث کرنے یا خود کو معصوم ثابت کرنے کی بجائے، اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم جسٹس جہانگیری نے الزام کی صحت کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے خلاف مقدمے کا سامنا کرنے پر تیار ہوئے۔ البتہ بدقسمتی سے ان کے وکلا نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کی طرف سے بیان کیے گئے حقائق پر اپنے مؤکل کا مؤقف پیش کرنے کی بجائے قانونی نکات پر اس مقدمہ کو لٹکانے یا خارج کرانے کی کوشش کی۔ ہوسکتا ہے کہ اگر جسٹس جہانگیری ’پسندیدیدہ‘ ججوں میں شامل ہوتے تو ان کے خلاف معاملہ دیگر درجنوں معاملات کی طرح تعطل کا شکار رکھنے کے بعد ختم کردیا جاتا لیکن بوجوہ اس معاملہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرعت سے فیصلہ سنادیا۔
یہ طریقہ ایک لحاظ سے بہت عمدہ ہے کہ کوئی عدالت کسی ایسے شخص کو جج کے طور پر کام کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں ہے جس کی ڈگری کے بارے میں شبہات موجود ہیں۔ متعلقہ جج نے ان شبہات کے بارے میں دو ٹوک مؤقف سامنے لانے کی بجائے شاید ’سیاسی شہید‘ بننے کو ترجیح دی ہے اور چیف جسٹس کی نیک نیتی یا مفادات کے ٹکراؤ اور اس معاملہ میں سندھ ہائی کورٹ کے حکم التوا کا حوالہ دے کر معاملہ ختم کرانے کی کوشش کی۔ یہ طریقہ قانونی طور سے درست ہونے کے باوجود ہائی کورٹ کے کسی ایسے جج کو زیب نہیں دیتا جو ایک طرف ملک میں قانون کی بالادستی اور عدالت کی پارلیمنٹ پر فوقیت کا اصول مانتا ہے لیکن دوسری طرف ایک مشتبہ ڈگری کی بنیاد پر جج کے طور پر کام کرکے لوگوں کی تقدیر کے فیصلے کرنے کا حق حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لہذا اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو اس کے قانونی میرٹ سے زیادہ جسٹس جہانگیری کی اخلاقی پوزیشن کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
جامعہ کراچی کے رجسٹرار نے عدالت میں جسٹس جہانگیری کی قانون کی ڈگری سے متعلق ریکارڈ جمع کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ کے یو سنڈیکیٹ نے یہ ڈگری ’غیر منصفانہ ذرائع سے حاصل کرنے‘ پر منسوخ کی تھی۔ رجسٹرار کے مطابق جسٹس جہانگیری کو 1988 میں امتحانی ہال میں نقل کرتے اور بدانتظامی پیدا کرتے ہوئے پایا گیا تھا، جس کے بعد انہیں 1992 تک امتحان دینے سے نااہل قرار دیا گیا۔ تاہم اس فیصلے پر عمل کرنے کے بجائے جسٹس جہانگیری نے 1989 میں نام تبدیل کر کے امتحان دیا۔ انہوں نے مارکس شیٹس اور نتائج سے متعلق لاگ بھی عدالت میں پیش کیا تاکہ کے یو سنڈیکیٹ کے فیصلے کو درست ثابت کیا جا سکے۔ کراچی یونیورسٹی کا بیان اور معلومات یک طرفہ ہیں کیوں کہ جسٹس جہانگیری نے ان معلومات کے بارے میں اپنا مؤقف ہی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا۔ لیکن اس بیان میں رجسٹرار نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، ان کے بارے میں جواب نہ دے کر جسٹس جہانگیری نے اپنا مقدمہ خود خراب کیا اور اپنی تعلیمی استعداد کے بارے میں شبہات کو مستحکم کیا۔
یہ سوال اپنی جگہ پر جواب طلب رہے گا کہ کراچی یونیورسٹی کو اسی کی دہائی کے ایک معاملہ پر 2024 میں غور کرنے اور ڈگری منسوخ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس مدت میں نام نہاد جعلی ڈگری کی بنیاد پر متعلقہ شخص نے جو اقدامات کیے یا بطور جج جو فیصلے جاری کیے، ان کی صحت کا ذمہ دار کون ہوگا؟ تاہم کوئی جج محض اپنی سیاسی پوزیشن یا عدالت کے اندر اختلاف رائے کی بنیاد پر اگر اپنے ماضی کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ طریقہ بھی قابل قبول نہیں ہونا چاہئے۔ جسٹس جہانگیری کو ملکی عدلیہ کی بھلائی اور اپنی نیک نامی کے لیے امتحان میں نقل کرنے، پابندی کے باوجود جعلی نام سے امتحان دینے اور جعلی ڈگری پر اعلیٰ سرکاری پوزیشنوں پر کام کرنے کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔
متنازعہ ججوں کے بارے میں سرکاری انتقامی کارروائیاں غلط اور ناقابل قبول ہونی چاہئیں لیکن محض اس عذر کی بنیاد پر کسی ایسے شخص کو اپنے مشکوک ماضی کو چھپانے کا حق بھی نہیں دیا جاسکتا جو ہائی کورٹ میں جج کے عہدے پر فائز ہے اور اب انہیں شبہات کی وجہ سے اسے فارغ کیا گیا ہے۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

