سقوط ڈھاکہ کوئی عالمی سازش نہیں تھی. ہمارے خلاف سازشوں کیلیے اتنا بھی کوئی ویلا نہیں بیٹھا تھا۔بلکہ اپنے طاقتور اور غلط لوگوں کے غلط جگہ پر براجمان ہونے کا ہی یہ ایک منطقی نتیجہ تھا۔
زبردست پاکستانی سفارتکاری کی بدولت امریکی و چینی صدور کی کامیاب خفیہ ملاقات کروانے، انکے بیچ حائل گہرے سفارتی خلیج کو پاٹنے، اور ان کے مابین دوررس تاریخی تعلقات استوار کرانے کے بعد پاک امریکہ تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح پر ، یا یوں کہیں کہ بامِ عروج پر پہنچ چکے تھے۔ اس گرانقدر خدمت کیوجہ سے امریکی صدر یحییٰ خان کے نہ صرف ذاتی طور پر احسان مند تھے، بلکہ اپنی ٹیم میں اس کا ذکر our buddy (ہمارا دوست و یار) کے طور پر کرتے تھے. اس وقت کی امریکی انتظامیہ اندرا گاندھی سے سخت نفرت کرتی تھی، اور کابینہ میں اس کا ذکر bitch یعنی کتیا جیسے القابات سے ہوتا تھا.
مشرقی پاکستان میں بھارت کی مداخلت کے پیش نظر جب امریکہ نے بھارت پر دباؤ بنانے کیلیے اپنا بحری بیڑہ بنگال کے قریب کرنا چاہا تو جوابی پریشر کے طور پر روس نے بھی اپنا بیڑا پاکستان سے کافی زیادہ قریب کر لیا تھا.
دو سپرپاورز کے بحری بیڑوں کی کسی ممکنہ مڈبھیڑ میں، کسی بھی طرف سے، ممکنہ کسی بھی کارر وائی سے، دو عالمی قوتوں کا ٹکراؤ یقینی تھا؛ جو ایک اور عالمی جنگ پر منتج ہو سکتا تھا. ایک ایسی جنگ جو روس اور امریکہ کی سرزمینوں کی بجائے ہماری بری، بحری اور فضائی حدود میں ہوتی، اسکے نتائج کا تصور کرنا ہی کتنا ہولناک ہے.
روس کی اس جوابی حرکت کے بعد امریکہ نے چین سے درخواست کی تھی کہ ہمارے مشترکہ محسن اور دوست پاکستان کی مدد کیلیے بھارتی سرحد پر فوجی دباؤ ڈالے. مگر جونہی چین نے ملٹری مینیورِنگ کی ابتداء کی، جواباً روس نے دھمکانے کے انداز میں چین کے بارڈر پر بھی اپنا دباؤ شدت سے بڑھا دیا.
اب ان حالات میں، امریکہ یا چین ہماری کس قدر مدد کر سکتے تھے؟ خصوصاً جب ہم خود اپنے دشمن بنے بیٹھے ہوں. جب ہم پر نشے میں دھت شرابی، مسخرے اور سازشی لوگ حکمران ہوں. جب ہمارے اپنے ارباب اقتدار و اختیار ہی بہت پہلے علیحدگی پر مائل تو ہو چکے ہوں، مگر محض پہل دوسرے فریق سے کروانا چاہتے ہوں.
یاد رہے، یہ ایوب خان تھا، جو بنگالیوں کی جمہوری شدت سے نالاں ہو کر بہت پہلے انہیں علیحدہ کرنے کی داغ بیل ڈال چکا تھا. بنگالیوں کو گالی دیکر اس نے اپنے ایک وزیر کو باقاعدہ بنگالی لیڈروں سے علیحدگی کی بات چیت کیلیے بھی بھیجا تھا. مگر بنگالی راہنما نے کہا تھا کہ چونکہ ہم اکثریت ہیں، ہم تو پاکستان سے جدا ہوتے نہیں، اگر بطور اقلیت، تم پنجابی الگ ہونا چاہو تو بڑی خوشی سے پاکستان سے علیحدہ ہو جاؤ.
تب ان بنگالیوں کیساتھ کچھ ایسا ظلم روا رکھا گیا کہ آخرکار انہیں آزادی کا عَلم اٹھانا ہی پڑا. اس قضیئے کے دوران عملی اقدامات کے علاوہ، ہماری طرف سے نفرت و امتیاز اور تعصب پر مبنی کچھ جملے اور مکالمے انتہائی کاٹ دار تھے، جنہوں نے تقسیم پاکستان میں نتیجہ کن کردار ادا کیا. اکثر دہرائی جانے والی ان باتوں کاذ کر اب یہاں بھی ضروری تو نہیں.
فوجی و سول مصنفین اپنی کتب میں واضح کر چکے ہیں کہ جنگی عقابوں پر یہ عیاں کر دیا گیا تھا کہ کسی آپریشن کی صورت میں علیحدگی یقینی ہو گی. پھر بھی بھلا آپریشن کی کیا ضرورت آن پڑی تھی..؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ غالب اکثریت کو اقتدار حوالے کرنے میں فوج اور اسکے ہمنوا چند سیاستدانوں کا ہی ٹولہ رکاوٹ تھا. اقتدار مغربی حصے میں یقینی بنانے کیلیے بھی مشرقی حصے کو داؤ پر لگا دیا گیا. حیلے بہانے سے مشرق کو کمزور رکھنے کا یہ نظریہ ڈھونڈھ لیا گیا تھا کہ مغرب سے مشرق کا دفاع کیا جائے گا. وقت نے یہ ثابت کر دیا کہ نہ صرف یہ نظریہ ناقابل عمل تھا، بلکہ مشرق کیوجہ سے مغرب کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا.
یہ حقیقت ہے کہ سقوط بنگال کے بعد مغربی پاکستان پر بھی خطرے کے بادل منڈلا رہے تھے. یہ امریکہ ہی تھا جس نے روس کو رام کیا کہ بھارت کو مغربی پاکستان پر جارحیت سے باز رکھے. اور روس جو اس سارے قضیئے کے دوران امریکہ اور چین جیسی سپر پاوروں کیخلاف جوابی دباؤ قائم کر کے بھارت سے غیر مشروط تعاون کر چکا تھا، اس نے مغربی پاکستان کیخلاف بھارتی عدم جارحیت کو ممکن بھی کر دکھایا.
دوسری طرف یہ بھارت ہی تھا، جس نے ہماری نوے ہزار فوج کی مکتی باہنی کے درندوں سے حفاظت کی. اس مسلح جتھے کے راہنما کہتے رہے کہ جب لڑ ہم رہے تھے تو سرنڈر بھی ہمارے سامنے کیا جائے. ایسا کرنے کے نتائج کا سوچ کر ہی خوف سے کپکپی آ جاتی ہے.
ایسے ہی خوف میں مبتلا کچھ پاک فوجیوں نے باحفاظت بھارتیوں کے کنٹرول میں آنے کے موقع پر "بھارتی فوج زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے تھے، جنہوں نے بعدازاں بھارتی قید سے آزاد ہونے کیبعد اپنی روئداد میں یہ سب بتایا تھا، جو اب ریکارڈ کا حصہ ہے.
مگر ادھر ہم ہیں کہ حالات و واقعات کا جائزہ لئے بغیر امریکی بحری بیڑے پر ہنسی اڑاتے رہے. نا اہل حکمرانوں کی ہر نالائقی کی تان کسی نئی سازشی تھیوری پہ جا ٹوٹتی ہے. کبھی بھی قوم پر یہ باور نہیں کیا گیا کہ خونی جتھے کے ہاتھوں آنے سے بھارت کے جنگی قیدی بننا بہرحال ان انتقامی حالات میں تحفظ کا ایک نہایت اچھا اور انتہائی مطلوب آپشن، اور خوب فائدے کا سودا تھا.
ہم اپنے مہان نالائقوں، مسخروں، شرابیوں، نشئیوں، زانیوں، سازشیوں اور طالع آزماؤں کو بھول جاتے ہیں. جو ملک و قوم کی اتنی رسوائی کےبعد تقسیم پاکستان کے اپنے مزموم ایجنڈے کو عملی شکل دینے میں بالآخر کامیاب ہو ہی گئے. وہ علیحدہ بات ہے کہ اسکا زرا الزام، سارا ملبہ بھارت، بنگالیوں یا مغربی پاکستان کے سیاستدانوں پہ گرایا جاتا رہا.
تاریخ کو مغالطہ پاکستان مت بنائیں. قوم کو جہالت کے دبیز پردوں میں دھکا مت دیں. سازشی تھیوریوں سے نکلیں، غلط العام بیانیوں سے جان چھڑائیں. حقائق و شعور کی دنیا میں آنکھیں کھولیں. اب وقت آ گیا ہےکہ جذبات اور خواہشات کی بجائے صرف صحیح اور حقائق پر مبنی بیانئے ترتیب دیں. کیا واقعی ہم ایسا کریں گے…؟
فیس بک کمینٹ

