موت تو ہم نے ساڑھے تین سال کی عمر میں ہی دیکھ لی تھی. لیکن موت جیسی خبر اُس کے تین برس بعد دیکھی. اصل میں ہم نے اپنی ماں کو والد صاحب کی موت پر ہی روتے دیکھا تھا اور ساڑھے تین سال کے بچے کو اس کہرام سے الگ کر دیا گیا تھا کہ وہ اس چیخ و پکار میں شاید خوف زدہ ہو کر خود بھی رونے لگا تھا. ہمارے گھر کے قریب ہی میاں صاحب کی کوٹھی ہوتی تھی جس میں بہت بڑا دالان تھا, وہاں محلے کے بچے اکثر کھیلنے جاتے تھے. میاں صاحب کی میرے دادا جان کے ساتھ دوستی تھی اور وہ اکثر ہمارے ہاں آیا کرتے تھے. ساڑھے تین سال کے بچے کو کیا یاد ہو گا کہ اُس گھر میں وہ کب تک کھیلتا رہا اور کب گھر واپس آیا. ہاں جب گھر واپس آیا تو جنازہ جا چکا تھا.
امی جان کو ہم نے اُس کے بعد روتے نہیں دیکھا تھا. یہ بھی نہیں کہ وہ روئی نہیں ہوں گی, روتی تو ضرور ہوں گی لیکن اپنے بچوں سے چھپ کر.
دادا شیخ عبدالکریم اوپل ریٹائرمنٹ کے بعد کالونی ٹیکسٹائل ملز کے ساتھ منسلک ہو گئے تھے. وہ صبح سویرے بابو محلے سے کالونی ملز کے لیے پیدل روانہ ہوتے اور مغرب تک پیدل ہی گھر واپس آ جاتے تھے. وہ جب حج پر گئے تو وہاں سے ایک ٹرانسسٹر لائے تھے. گھر واپس آنے کے بعد ریڈیو پر خبریں سننا اُن کا معمول تھا. 15 دسمبر 1971 کی شام ہم نے انہیں جنرل نیازی کی تقریر سنتے دیکھا تھا جس میں نیازی نے کہا تھا کہ دشمن ہماری لاشوں سے گزر کر ہی جنگ جیت سکے گا. آخری فتح ہماری ہوگی. نیازی کی اس تقریر پر دادا جان کا چہرہ خوشی سے تمتما اُٹھا شاید انہوں نے "پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بھی لگایا تھا اور مجھے یقین ہے کہ انہوں نے "نَصْرٌ مِّن اللَّہِ وَفَتْحٌ قَرِیبٌ” بھی ضرور کہا ہو گا. لیکن اگلے ہی روز ہتھیار ڈال دیے گئے اور پاکستان کے 90 ہزار فوجی جنگی قیدی بن گئے.
نامور صحافی انعام عزیز اپنی کتاب "سٹاپ پریس” میں لکھتے ہیں کہ جب جنرل نیازی کا "آخری فتح ہماری ہو گی” والا دلفریب اعلان نشر ہوا اُس وقت ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کا عمل شروع ہو چکا تھا. ہتھیار ڈالنے کی خبر ریڈیو پاکستان پر تو نشر نہیں ہوئی تھی. البتہ بی بی سی نے اسے پوری تفصیل کے ساتھ نشر کیا. دادا جان کانوں کو ریڈیو لگا کر اُس کا رخ بار بار بدلتے اور انٹینا درست کرتے تھے تاکہ شور کم ہو سکے اور نشریات واضح طور پر انہیں سنائی دیں. مجھے یاد ہے کہ میرے دادا نے بہت اونچی آواز میں "حرام زادہ” کہا تھا. وہ سب سے بڑی گالی یہی دے سکتے تھے کہ اس کے علاوہ کوئی اور گالی ہم نے ان سے سنی کبھی سنی بھی نہیں تھی. مجھے یہ گالی اُس وقت تو سمجھ نہیں آئی تھی لیکن بعد ازاں جب کچھ سمجھ بوجھ آئی تو میں نے جان لیا کہ اُن کا یہ رد عمل یقینی طور پر ہتھیار ڈالے جانے کی خبر کا ہی نتیجہ تھا.
پھر اگلے روز کا ایک منظر ہے جو میں نے اپنے گھر کی بالکونی سے دیکھا تھا. لوگ چوراہے میں ٹولیوں کی صورت میں سر جھکائے ایک دوسرے سے محوِ کلام تھے. زبانیں گنگ تھیں, ممکن ہے آنکھیں بھی نم آلود ہوں لیکن بالکونی سے سر جھکائے ہوئے لوگوں کی بھیگی آنکھیں بھلا کب دکھائی دیتی ہیں?
اگلے روزکا ایک اور منظر ہے. منادی والا اپنی ڈگڈگی کے ساتھ سائیکل پر نمودار ہوتا ہے. عام حالت میں وہ مختلف گلیوں اور چوراہوں میں ڈگڈگی بجا کر عموماً کسی کی موت کی اطلاع دینے آتا تھا. 17 دسمبر کو بھی اُس نے سائیکل روک کر ڈگڈگی بجائی لیکن یہ کسی محلے دار کی نہیں مشرقی پاکستان کی موت کا اعلان تھا. "تمام حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مشرقی پاکستان پر بھارت نے قبضہ کر لیا ہے, سوگ میں کل تمام بازار بند رہیں گے. اعلان ختم ہوا. ایک بار پھر سن لیں آپ تمام حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مشرقی پاکستان کے سوگ میں کل تمام بازار بند رہیں گے.”
ہمیں یاد ہے کہ اسی جنگ کے دوران شیر شاہ روڈ پر اسمٰعیل آباد (اب یہ علاقہ مظفرآباد کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ) کے قریب آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا اور کئی روز تک اُس کا دھواں ہمارے گھر کی چھت سے دکھائی دیتا رہا.
سقوطِ ڈھاکہ پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا سانحہ ہے کہ جسے کئی برسوں تک فراموش نہ کیا جا سکا. ہر سال سولہ دسمبر کو ریڈیو, ٹی وی اور اخبارات پر اس المیے کی بازگشت سنائی دیتی رہی. اخبارات میں پورے پورے صفحہ کے خصوصی ایڈیشن شائع ہوتے تھے جن میں یہ سوال اُٹھایا جاتا تھا کہ دنیا کی بہترین فوج اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے سپاہیوں کو شکست کا کیونکر سامنا کرنا پڑا? اس کا ذمہ دار کون تھا? جیت کے خواب دکھانے والا جنرل نیازی, "مجھے زمین چاہیے, عوام نہیں” کہنے والے جنرل ٹکا خان, مشرقی پاکستان کے آپریشن میں مرکزی کردار ادا کرنے والے میجرجنرل راؤ فرمان علی خان, ملک کے دونوں حصوں میں اکثریت حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمٰن, کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان یا اکثریت تسلیم نہ کرنے اور پولینڈ کی مبینہ قرارداد پھاڑ کر سلامتی کونسل سے واک آؤٹ کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو?
لیکن ان سوالات کا جواب تلاش نہ کیا جا سکا. حمودالرحمٰن کمیشن کی رپورٹ ایک طویل عرصہ تک منظر عام پر نہ آ سکی. پھر ہر سال کی یہ بحث ختم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اسی روز کوئی ایسا سانحہ بھی تشکیل دیا جائے جو سقوط ڈھاکہ کی ہزیمت کو کسی حد تک پس منظر میں ڈال دے. اور پھر ہماری یہ منحوس خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ 2015 میں اے پی ایس پشاور میں ہمارے بچوں کا خون بھی 16 دسمبر ہی کو بہایا گیا.
لیکن ہم اس سانحے میں جماعت اسلامی کا کردار کیوں نظرانداز کر رہے ہیں جس نے مکتی باہنی کے مقابلے کے لیے "البدر” اور "الشمس” کے نام سے تنظیمیں قائم کیں اور مسلح نوجوانوں کو مشرقی پاکستان بھیج دیا. پھر قتل و غارت گری کا جو بازار گرم ہوا، مشرقی پاکستان میں جو لوٹ مار ہوئی اور اسلام کے نام پر خواتین کی عزتیں جس طرح پامال کی گئیں وہ تاریخ کا حصہ ہے.
امی جان کی رخصتی کے بعد اُن کی یادیں ترتیب دیتے ہوئے یہ واقعہ اس لیے یاد آ گیا کہ میں نے پہلی بار اپنی ماں کو سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر ہی روتے دیکھا تھا. والد صاحب کی وفات پر تو وہ ہم سے چھپ کر روتی تھیں. لیکن اس مرتبہ انہوں نے یہ بھی نہ کیا. شاید اس لیے کہ ہم اب بڑے ہو چکے تھے. اور انہیں ہمارے خوف زدہ ہو جانے کا ڈر نہیں تھا. یا پھر اس لیے کہ ہر پاکستانی کے لیے یہ اس کی زندگی کا ایک بڑا صدمہ تھا. یہ آنسو صرف ہمارے گھر میں ہی نہیں ہر پاکستانی کے گھر میں بہائے گئے تھے. یہ مشرقی پاکستان کی موت کا صدمہ تھا. یہ پاکستان کے دولخت ہونے کا صدمہ تھا اور اسی لیے تو ہم آج 54 برس بعد بھی اسے موت جیسی خبر کہہ رہے ہیں.

