تجزیےفاروق عادللکھاری

فاروق عادل کا کالم:پاکستان میں حکمرانوں کا ایک طبقہ صدارتی نظام کو ترجیح کیوں دیتا ہے؟

تاریخ ہی نہیں بعض اوقات الفاظ بھی پلٹ کر آتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم عمران خان کا ایک مضمون اخبارات میں شائع ہوا۔ یوں، اس مضمون کے بہت سے پہلو اور خاص طور اس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات قابل بحث ہیں لیکن بعض تصورات ایسے ہیں جو کم از کم 60 برس پہلے کے واقعات کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
نہ صرف واقعات بلکہ الفاظ تک میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ مضمون ‘روحِ ریاست مدینہ: پاکستانی معاشرے کی تشکیل نو’ کے عنوان سے اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ مضمون کا ایک جملہ ہے:
‘پاکستان کو جو چیلنج درپیش ہیں، ان میں فوری توجہ کا مستحق قانون کے احترام کا چیلنج ہے۔ ہمیں اس کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔’
اسی مضمون کا ایک اور جملہ ہے: ’ہماری 75 سالہ تاریخ اس کلچر کی اسیر رہی ہے جس میں مکار سیاستدان اور مافیا اس کے عادی ہو گئے ہیں کہ وہ قانون سے بالاتر رہ کر اس کرپٹ سسٹم کی مدد سے حاصل کردہ اپنی سہولتوں اور مراعات کو محفوظ بنا سکیں۔‘
اس مضمون کی اشاعت سے لگ بھگ 63 برس قبل پاکستان کے پہلے ایوانِ صدر کراچی میں فوجی حکمراں ایوب خان کی زیر صدارت ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس محمد منیر، جسٹس شہاب الدین، چند مرکزی وزرا، چند بیوروکریٹ اور ایک ریٹائرڈ سیاستدان سر محمد یامین اس اجلاس میں شریک تھے۔
ایوب خان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر نے اس اجلاس کا احوال اپنی کتاب ‘ایوب خان، پہلے فوجی راج کے دس سال’ میں درج کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 14 اگست 1959 کو منعقد ہونے والے اس اجلاس کے شرکا کو ایک صدارتی میمورنڈم پیش کیا گیا۔ میمورنڈم پر ‘نکات برائے بحث’ کے الفاظ درج تھے۔
الطاف گوہر کے مطابق یہ نکات تھے تو برائے بحث لیکن ان کا لہجہ حکمنامے جیسا تھا کیونکہ اس کے ہر نکتے کی تان ‘ایسا ہو گا یا ایسا کیا جائے گا’ پر ٹوٹتی تھی۔ اسی یاداشت میں آخر میں درج تھا: ’ہمارے جیسے ملک میں ایک بات کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی اور نہ اسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ وہ ہے ڈسپلن کی کمزوری۔ اس معاملے میں کوئی کوتاہی ہماری تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔‘
اس جملے کی وضاحت اسی میمورنڈم کے ایک اور نکتے میں کی گئی: ’ملک میں اندرونی نظم وضبط کو کسی حالت میں کوئی گزند نہیں پہنچنا چاہیے اور نہ ہی اصلاحات کا عمل رکنا چاہیے۔‘
الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ اس میمورنڈم کے مطالعے اور اس پر غور کے لیے اجلاس کے شرکا کو چند منٹ دیے گئے۔ اجلاس کا مقصد ملک کو ایک نیا آئین دینے کے لیے کمیشن کا قیام تھا۔ اسی اجلاس میں کمیشن کے قیام کا فیصلہ ہو گیا۔ جسٹس شہاب الدین کو کمیشن کا سربراہ بنا دیا گیا۔
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے لکھا ہے کہ اس کمیشن نے چھ مئی 1961 کو ایوب خان کو اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ یہ ایک طویل اور جامع رپورٹ تھی جس میں ریاست کے تقریباً تمام ہی شعبوں کا احاطہ کیا گیا اور یہ بتایا گیا تھا کہ یہ ریاست زوال کا شکار کیوں ہوئی۔
الطاف گوہر نے اس سلسلے میں رپورٹ کے دو علیحدہ علیحدہ جملے نقل کیے ہیں۔ ایک جملے میں بتایا گیا: ’سب کے سب سیاستدان خود غرضوں کا ٹولہ تھے اور ان سے کسی نیکی کی توقع فضول تھی۔‘
دوسرا جملہ نہایت دلچسپ لیکن اسی انداز فکر کا عکاس تھا: ’پاکستان میں پارلیمانی طرز حکومت کی ناکامی کا بنیادی سبب قیادت کا فقدان تھا جس کی وجہ سے منظم سیاسی جماعتیں نہ بن سکیں اور سیاست دان اعلیٰ کردار کا مظاہرہ نہ کر سکے اور بلاجواز حکومت کے کاموں میں دخل انداز ہوتے رہے۔‘
چند برس کم پون صدی گزرنے کے باوجود ایوب خان کے میمورنڈم اور اس میمورنڈم کے نتیجے میں قائم ہونے والے کمیشن کی رپورٹ کے نکات اور 2022 میں پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کے انداز فکر میں الفاظ کے معمولی فرق کے باوجود خیالات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔
اِس مماثلت میں سیاست دانوں سے بیزاری بھی شامل ہے اور نظم و ضبط کی اہمیت پر زور بھی۔ ایوب خان کی بیزاری دراصل پارلیمانی نظام سے بیزاری تھی جو اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ انھیں ایسا کہنے میں بھی کوئی ہرج محسوس نہیں ہوا کہ اگر ضرورت ہو تو جمہوریت کی قربانی بھی دی جا سکتی ہے۔
موجودہ عہد کی بیزاری کے پس پشت کیا مقاصد کارفرما ہیں، حتمی طور پر سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
ایوب خان کا صدارتی نظام کا خاکہ
ایوب خان پارلیمانی نظام سے جان چھڑانے کے آرزو مند کیوں تھے؟ اس سوال کا جواب ان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر نے ان ہی کے ایک بیان میں تلاش کیا ہے جو آئین کی تیاری کے سلسلے میں انھوں نے اپنے طرف سے پیش کیے گئے راہنما اصول میں بیان کیا:
‘میری نظر میں ایک مضبوط مرکزی حکومت کا وجود ناگزیر ضرورت ہے اور اس مضبوط حکومت سے مراد ایک مضبوط انتظامیہ ہے جس کے وجود کو مقننہ کی عشوہ ترازیوں سے کوئی خطرہ نہ ہو چنانچہ پارلیمانی نظام پر غور کرنے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔’
ایوب خان اگر پارلیمانی نظام کو خارج از بحث سمجھتے تھے تو وہ کس قسم کا نظام قائم کرنا چاہتے تھے؟ اس سوال کا جواب بھی ان کی طرف سے بتائے گئے راہنما اصولوں کے اگلے حصے میں موجود ہے:
‘منتخب صدر اپنی کابینہ کی تشکیل میں مکمل آزاد ہو گا۔ وہ جسے چاہے اپنا وزیر مقرر کرے۔ تاہم کوشش کی جائے گی کہ وزرا پارلیمنٹ کے ارکان نہ ہوں۔ پارلیمنٹ ایک یا دو ایوانوں پر مشتمل ہو گی مگر غیر ضروری طور پر بڑی نہیں ہو گی۔ ایک تو باصلاحیت افراد کی قلت ہے، دوسرے اخراجات میں کفایت ضروری ہے۔’
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے لکھا ہے کہ ایوب خان جس قسم کے صدارتی نظام کے خواہش مند تھے، اس کا نمونہ فرانسیسی جمہوریت کے اس دور میں دیکھا جاسکتا ہے جسے چارلس ڈیگال نے چوتھی جمہوریت کے خاتمے کے بعد قائم کیا۔ اسے آئین کے تحت پانچویں جمہوریت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
حسن عسکری رضوی کے اس تجزیے کی تائید الطاف گوہر سے بھی ہوتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایوب خان کے ذہن میں جس صدارتی نظام کا خاکہ تھا، اس کی عملی مثال فرانس میں دیکھی جا سکتی تھی یا پھر مصر میں۔
پاکستان کے مسائل اور صدارتی نظام
ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں رکاوٹ محسوس کرنے والے وزیر اعظم عمران خان پارلیمانی نظام حکومت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اس سوال کا کوئی جواب ابھی تک ان کی اپنی زبان سے تو سامنے نہیں آیا لیکن ان کے قریب ترین ساتھیوں کا ذہن اس سلسلے میں واضح ہے۔
ڈاکٹر اعجاز اکرم وزیر اعظم عمران خان کے بااعتماد ساتھی ہیں۔ اپنے مذہبی تصورات کے فروغ یا اخلاقی اقدار کے احیا کے لیے انھوں نے جو رحمۃ اللعالمین اتھارٹی قائم کی ہے، اس کی قیادت ذمہ داری بھی ان ہی کے سپرد کی گئی ہے۔
ڈاکٹر اعجاز اکرم نے کچھ عرصہ قبل صدارتی نظام کیوں اور کیسے جیسے موضوع پر ایک پالیسی پیپر سپرد قلم کیا تھا۔ اس مقالے میں انھوں نے اسی موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ عمومی خیال یہی ہے کہ ان دنوں ہنگامی حالات کے نفاذ، ریفرنڈم کے راستے صدارتی نظام تک پہنچنے کی جو بات ہو رہی ہے، اس کے پسِ پشت ان ہی کا ذہن کام کر رہا ہے۔
میرا ان سے سوال یہی تھا کہ وہ ملک میں صدارتی نظام کے قیام کی بات کرتے ہیں، اس سلسلے میں ان کا بنیادی استدلال کیا ہے؟
ڈاکٹر اعجاز نے اس سوال کے جواب میں بتایا کہ ’میرے تھیسس کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں، میں نے قیام پاکستان سے لے کر 2018 (جب یہ مقالہ لکھا گیا) تک کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ یوں کہیے کہ پارلیمانی نظام کی تمام خامیوں کا گوشوارہ مرتب کر دیا ہے۔ اس طرح اس دعوے کا جواب خود پارلیمانی نظام کے اندر سے فراہم ہو گیا ہے کہ یہ نظام چل نہیں سکتا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اگر یہ نظام چل نہیں سکتا تو پھر اس کا متبادل کیا ہے؟ یہی میرے مقالے کا دوسرا حصہ ہے۔ متبادل نظام کے سلسلے میں ایک اصطلاح بہت مقبول ہے، اسلامی صدارتی نظام۔ اس کے موجد جنرل حمید گل ہیں۔ اسی کا تذکرہ عام طور پر کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں میرا مؤقف یہ ہے یہ کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے کہ صدارتی نظام کے نفاذ سے ریاست کو اچھی حکومت میسر آجائے۔ اس میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔‘
ڈاکٹر اعجاز کے مطابق ان میں ایک رکاوٹ کا تعلق ریاستی ڈھانچے (سٹرکچر) سے ہے۔ دنیا میں امریکہ سمیت کسی ملک میں بھی (اس ضمن میں انھوں نے انڈیا کا ذکر نہیں کیا) کوئی صوبہ بھی ایسا نہیں ہے جس کی آبادی چھ ملین سے زائد ہو۔ کچھ ممالک میں تو آبادی اس کے بھی نصف ہے۔ جب ایسی صورتحال ہو، ایسے میں انتظامی بحران کا پیدا ہو جانا ناگزیر ہے۔
’پاکستان اسی بحران سے دوچار ہے۔ اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے، اگر پاکستان کے ڈویژنز کو انتظامی یونٹ کا درجہ دے دیا جائے۔ اس طرح لسانیت اور علاقہ پرستی جیسے مسائل از خود حل ہو جائیں گے۔ یہی مسائل ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ہاں بحران جنم لیتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ہمارے مسائل کی دوسری بڑی وجہ ہماری سیاسی جماعتوں کی موجودہ صورتحال ہے۔ ان کے تصور ہی کو بدل دینے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو یوں سمجھ لیں کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہے اور یہ چند خاندانوں کی ملکیت میں جا چکی ہیں۔ ’یوں ان کی قیادت موروثی ہو چکی ہے۔ جن سیاسی جماعتوں میں خود جمہوریت نہ ہو، وہ جمہوریت کی بات کس طرح کر سکتی ہیں؟‘
ڈاکٹر اعجاز کے مطابق ان مسائل کی ایک اور وجہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کی موجودہ صورتحال ہے۔ ’ہمیں اس کی اونر شپ کو تبدیل کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سارے موضوعات یا جسے بیانیہ (نیریٹو) کہا جاتا ہے، کہیں باہر سے آتا ہے۔ یہ ہرگز مقامی نہیں ہوتا۔‘
’پہلے مرحلے میں ریاست کے تمام حصے داروں (سٹیک ہولڈرز) کو بیٹھ کر ان امور کے بارے میں طے کرنا ہے اور اُس معیار مطلوب تک پہنچنا ہے جو اس ملک کی فلاح و بہبود اور بہتری کا ذریعہ بن سکے۔‘
اس کے بعد ان کے مطابق نظام حکومت کی تبدیلی کا مرحلہ آئے گا۔ ’میری رائے میں ہمارے لیے مناسب ترین صدارتی نظام ہی ہے۔ میں اس سلسلے میں عالمی تناظر میں دیکھتا ہوں۔ ہمارا یہ عہد ہمیں بتاتا ہے کہ اس دور میں مضبوط ریاستیں وہی ہیں جن کے نظام میں مرکزیت ہے۔ چین، اسرائیل، روس، امریکہ، ترکی اور جرمنی، سب۔ یہی ہماری ضرورت بھی ہے۔‘
ڈاکٹر اعجاز کہتے ہیں ’میں پھر کہوں گا کہ یہ نظام اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جب تک ہمارے یہاں بڑے پیمانے پر انتظامی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات نہ ہو جائیں۔‘
صدارتی نظام پر اتفاق رائے کے سٹیک ہولڈرز کون؟
ڈاکٹر اعجاز اکرم کے خیال میں اتفاق رائے کے لیے ’سٹیک ہولڈرز میں سیاسی جماعتیں، عدلیہ، فوج، سول بیوروکریسی۔۔۔۔ اور ہاں عوام بھی۔ ان کی رائے ریفرنڈم یا انتخاب کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔’
کہا جا رہا ہے کہ ایمرجنسی یا ریفرنڈم کے ذریعے جلد ہی ان مقاصد کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔ کیا یہ پیشرفت وہی ہے جس کا خواب آپ نے دیکھا ہے؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر اعجاز اکرم کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں جو لوگ اس موضوع پر بات کر رہے ہیں، ’میں نہیں سمجھتا ہے کہ وہ یہی بات کہہ رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ چیزیں ابھی تک ان کے مطالعے میں ہی نہ آئی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ خود پارلیمنٹیریز کی ایک بڑی تعداد ابھی تک اس سے ناواقف ہوگی۔‘
صدارتی نظام کے حق میں دیے جانے والے دلائل
ایسے ہی خیالات ہیں جو اب وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والے افراد کی طرف سے سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پارلیمانی نظام کے خلاف اور صدارتی نظام کے حق میں جو دلائل سامنے آئے ہیں، ذیل میں نکات کی صورت میں ان کا احاطہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں دوہرا نظام کام کر رہا ہے، صدر کا منصب بھی موجود ہے اور وزیر اعظم کا بھی۔ اس سے اخراجات غیر معمولی طور پر زیادہ ہو جاتے ہیں۔( ایوب خان کو بھی یہی گلہ تھا)۔
اسی طرح صوبائی اسمبلیاں موجود ہیں، یہ اخراجات میں اضافے کا باعث ہیں۔
آئین میں ترمیم کر کے موجودہ ڈویژنوں کو انتظامی یونٹ بنا کر صوبائی اسمبلیوں کے خلا کو پر کیا جائے گا۔ ان انتظامی حکومتوں میں شہری حکومتیں کام کریں گے۔ ترقیاتی عمل ان ہی حکومتوں کے سپرد کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے اختیارات محدود ہیں، محض کسی افسر کے تقرر کے سلسلے میں بھی انھیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالتوں کی طرف سے بھی انھیں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
معیشت سنبھل نہیں رہی ہے، اس لیے ملک کو جیو پولیٹیکل پالیسی سے جیو اکنامکس پالیسی کی طرف منتقل کرنا ہے۔
یہ تمام چیلنجز امریکہ اور ترکی وغیرہ کی طرح صدارتی نظام کا تقاضا کرتے ہیں۔
پارلیمان دو ایوانی ہو گی جس میں سینیٹ کو مضبوط بنا کر صوبوں میں شراکت کا احساس پیدا کیا جائے گا۔
حکومت کے ہمدرد حلقوں کی طرف سے اس سلسلے میں جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، وہ کافی طویل ہیں۔ البتہ یہ نکات ان تجاویز کا احاطہ کرتے ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والے وزیر اعظم عمران خان کے مضمون کا ان نکات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو ان میں فکری یکجائی دکھائی دیتی ہے۔
حکومت کے ایوانوں اور تحریک انصاف کے مؤثر حلقوں میں اس سلسلے میں گذشتہ ایک ڈیڑھ برس سے اس سلسلے میں سوچ بچار ہوتی رہی ہے۔ حالیہ چند واقعات کے بعد اس سلسلے میں تیزی آئی۔ حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق اس معاملے میں ابتدائی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔
ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے کچھ تھنک ٹینکس کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔
کیا پی ٹی آئی حکومت پارلیمانی نظام ختم کرنے میں سنجیدہ ہے؟
کیا یہ حکومت واقعی پارلیمانی نظام کا خاتمہ کر کے صدارتی نظام کے نفاذ میں سنجیدہ ہے؟ اس سوال پر قومی اسمبلی کے رکن نور عالم خان کی گفتگو سے اشارے ملتے ہیں کہ یہ حکومت اس سلسلے میں صرف سنجیدہ ہی نہیں کسی قدر بے چین بھی ہے۔
کیا حکومت اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو پائے گی؟ اس کا جواب نور عالم خان نے بلا توقف نفی میں دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے اسباب بہت واضح ہیں یعنی فرد واحد کا اقتدار کوئی اچھی چیز نہیں کیوں کہ یہ چیز مسائل پیدا کرتی ہے۔ بدعنوانی اور غلط کاری کا راستہ کھولتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بہترین آمریت سے کمزور جمہوریت بہتر ہے۔ دوسرا یہ کہ ان کے پاس مطلوبہ اکثریت ہی نہیں ہے۔‘
’حکمران تنقید برداشت نہیں کر سکتے وہ ہر راستہ بند کر دینا چاہتے ہیں‘
کیا حکومت جلدی میں ہے اور جیسا کہ تاثر ہے، وہ ہنگامی حالات کے نفاذ کا ارادہ بھی رکھتی ہے کے جواب میں نور عالم کہتے ہیں کہ جلدی کا ایک ہی سبب ہے، باقی سارے مسائل بھی اسی سے پھوٹتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ سبب ہے عدم برداشت۔ ’یہ حکمران تنقید برداشت نہیں کر سکتے، لہٰذا ہر وہ راستہ بند کر دینا چاہتے ہیں جس سے یہ اپنے لیے کوئی مسئلہ محسوس کریں۔‘

تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن نور عالم کی اس گفتگو سے ایوب خان کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ سابق فوجی حکمران جن دنوں اپنے آئین کی تیاری میں مصروف تھے، انھوں نے ایک بار کہا تھا: ’اگر ملک کی فلاح کے لیے جمہوریت کو کسی قدر قربان کرنا پڑے تو اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔‘
سنہ 1962 کے آئین میں جو ایوب خان کا آئین بھی کہلاتا ہے، ‘ملک کی فلاح’ کے لیے جمہوریت کو کس طرح ‘تھوڑا بہت’ قربان کیا گیا، اس کا اندازہ اس آئین کے مطالعے سے ہوتا ہے۔
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے اپنی کتاب ‘دی ملٹری اینڈ پالیٹکس ان پاکستان’ میں اس کا بہت نپا تلا جائزہ پیش کیا ہے۔
1962 کے آئین کا جائزہ
سنہ 1962 کے آئین کے مطالعے یہ اندازہ بھی ہوتا کہ ملک کے مختلف حصوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کے مسائل کیوں پیدا ہوئے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ واضح بھی ہوتا ہے کہ صدر کی ذات کے مقابلے ریاست اور دیگر ریاستی اداروں کی حیثیت کیا تھی۔
آئین کے تحت صدرِ مملکت کا انتخاب بالواسطہ طریقے سے یعنی بنیادی جمہوریت کے ارکان کے ذریعے ہوا۔ مرکزی وزرا، صوبائی گورنر اور دیگر حکام براہ راست صدر کو جواب دہ تھے۔ وہ اپنے منصب پر صدر کی خوشنودی تک برقرار رہ سکتے تھے۔
ریاست کے روز مرہ کے امور، خارجہ تعلقات اور اعلان جنگ کا اختیار صدر مملکت کو دیا گیا۔ یک ایوانی مقننہ ہونے کے باوجود انھیں آرڈیننس کے نفاذ کے ذریعے قانون سازی کا اختیار دیا گیا۔
مجرموں کو سزا دینے اور معاف کرنے کے سلسلے میں انھیں عدالتی اختیارات بھی حاصل تھے۔
ریاستی امور میں پارلیمنٹ کا اختیار محدود رکھا گیا۔ پارلیمنٹ اخراجات جاریہ پر بحث کر سکتی تھی لیکن منظوری دینے کا اختیار اسے حاصل نہ تھا۔
صدر کی منشا کے خلاف پارلیمنٹ کے لیے آئین میں ترمیم کو انتہائی مشکل اور پیچیدہ بنا دیا گیا۔ پارلیمنٹ اگر دو تہائی اکثریت سے آئین میں کوئی ترمیم منظور کر لیتی تو بھی اس کے لیے صدر کی منظوری ضروری ہوتی۔ صدر اگر یہ بل 30 دن تک اپنے پاس رکھ کر پارلیمنٹ کو واپس بھیج دیتے تو پارلیمنٹ کے لیے لازم تھا کہ وہ اس پر دوبارہ غور کرے۔
قومی اسمبلیوں کی طرح صوبائی اسمبلیوں کو بھی مالیاتی اختیارات حاصل نہیں تھے۔
صدر کو آئین کی دفعہ 30 کے تحت ہنگامی حالات کے نفاذ کا اختیار حاصل تھا۔ صدر اگر مطمئن ہوتے کہ ملک کسی خارجی خطرے سے دوچار ہے، کسی داخلی مسئلے کی وجہ سے ملک کی معیشت کو خطرات لاحق ہیں یا امن و امان کی ایسی صورت حال جس پر قابو پانے میں صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے تو وہ ہنگامی حالات کا نفاذ کرسکتے تھے۔ ان کے حکم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہنگامی حالات کے دوران میں صدر جب چاہیں یعنی اسمبلی کا اجلاس جاری ہو یا نہ ہو، آرڈیننس جاری کر سکتے تھے۔ اسمبلی اسے مسترد نہ کر سکتی تھی۔
آئین کے تحت صدر کی طاقت کے تین منبعے(سورس) تھے: مسلح افواج، بیوروکریسی اور بیسک ڈیموکریٹ یعنی بنیادی جمہوریتوں کے ارکان۔
آئین کے تحت سرکاری، نیم سرکاری، خود مختار اور نیم خود مختار اداروں میں فوجی افسروں کے لیے کوٹہ مقرر کیا گیا۔ اس چیز نے معاشرے میں باعزت مقام اور بڑے روزگار حاصل کرنے کے لیے ایک نیا راستہ کھول دیا۔ بڑے بڑے پرائیوٹ کاروبار ریٹائرڈ فوجی افسروں کو اپنی کمپنیوں میں ڈائرئکٹر بنانے لگے تاکہ پالیسی سازی سمیت دیگر سرکاری اداروں میں انھیں رسوخ مل سکے۔
ایوب خان کے صدارتی نظام کا خاتمہ کیوں ہوا؟
تاریخ میں اتنی طاقت شاید ہی کسی سربراہ ریاست و حکومت کو ملی ہو جتنی ایوب خان نے اپنی ذات میں مرتکز کر لی تھی۔ الطاف گوہرنے گواہی دی ہے کہ ایوب خان کہا کرتے تھے کہ ‘پاکستان کا صدر امریکی صدر سے بھی زیادہ طاقتور ہونا چاہیے۔’ عملاً صورتحال بھی ایسی ہی تھی۔ اس کے باوجود ان کا اقتدار ماچس کی تیلیوں کی طرح کیسے بکھر گیا؟
ڈاکٹر حسن عسکری رضوی اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ طاقت ایک ہی فرد کی ذات میں جمع ہو جانے سے ریاست میں وہ جو فطری جامعیت اور رنگا رنگی ہوتی ہے، اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ اُس نظام میں متبادل نقطہ نظر اور اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ یہی کمزوری اسے لے بیٹھی۔
پاکستان سٹڈی سنٹر جامعہ کراچی کے سابق سربراہ اور ممتاز مؤرخ ڈاکٹر سید جعفر احمد اُس زمانے کی سیاسی تاریخ پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایوب خان کے صدراتی نظام اور اس کے اثرات کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘یہی 1962 کا آئین تھا اور اس کے اثرات تھے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ضمن میں پہلا قدم ثابت ہوئے۔’
حکمرانوں کا ایک طبقہ پارلیمانی نظام پر صدارتی نظام کو ترجیح کیوں دیتا ہے؟
ڈاکٹر سید جعفر احمد پاکستان کی سیاسی تاریخ کے مطالعے اور مختلف پس منظر رکھنے والے حکمرانوں کے مزاج کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کا سبب یہ ہے اسمبلی کے سامنے روز روز پیش ہو کر جواب دہی کی آئینی ذمہ داری انھیں پسند نہیں۔
ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی یہ خواہش کہ 1977 کے عام انتخابات میں انھیں دوتہائی اکثریت ملنی چاہیے، یہ بھی پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہی سے بچنے کی ایک کوشش تھی۔

’آئین کی معطلی ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہو گی‘
عمران خان کی حکومت کی جانب سے صدارتی نظام کی طرف لوٹنے، اس مقصد کے لیے ہنگامی حالات کے نفاذ یا آئین کی معطلی کے ارادوں کے بارے میں سوال پر انھوں نے تشویش کے ساتھ تبصرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے دستور کا ڈھانچہ معطل ہوتا ہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرناک ہو گا۔
ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ ریاست کی سلامتی اس لیے خطرے سے دوچار ہو گی کہ پاکستان ایک ملک نہیں وفاق ہے۔ صدارتی نظام پاکستان جیسی ریاست کے لیے ناموافق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وفاق کی چاروں اکائیاں یا صوبے ایک جیسے نہیں۔ ان کے رقبے اور آبادی میں فرق ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ خطرہ ہر وقت دوچار رہے گا کہ صدر ہمیشہ وفاق میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا صوبے سے منتخب ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورتوں میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی امیدوار کو بلوچستان یا کسی دوسرے صوبے میں حمایت کے حصول کے لیے جانا ہی نہ پڑے۔ یہ صورتحال وفاق کے اتحاد کے لیے خطرہ بن جائے گی۔
اگر پاکستان جیسے وفاق کے لیے صدارتی نظام غیر موزوں ہے تو امریکہ جیسے وفاق میں یہ موزوں کیسے کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے سیاسی اور زمینی حقائق میں اختلاف ہے۔
ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ پاکستان کے چار صوبوں کے مقابلے میں امریکہ کی 52 ریاستوں کی وجہ سے صورتحال بالکل مختلف ہو جاتی ہے۔ امریکا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی امیدوار وفاق کی کسی ریاست کو نظر انداز کر سکے۔ اسی طرح آئین میں ترمیم کے معاملات بھی ریاستوں سے منسلک ہیں۔ یہ حقائق امریکہ کے صدارتی نظام کے اثرات کی نوعیت کو پاکستان کے مقابلے میں بالکل تبدیل کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر جعفر احمد کے مطابق ایوب خان کی سنہ 1962 سے 1968 تک طویل آئینی صدارت میں اقتدار کی تمام تر طاقت صرف اور صرف ان کی ذات میں جمع تھی۔ یہی حقائق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنے۔
وہ کہتے ہیں کہ صدارت کے باقی تمام ادوار ماورائے آئین تھے۔ ان ادوار میں یہ صدور کسی ادارے یا ریاست کے سامنے اتنے بھی جواب دہ نہ تھے جتنے (دکھاوے کی حد تک ہی سہی) ایوب خان تھے۔ لہٰذا ان ادوار کے سیاسی اثرات کا جائزہ ایوب عہد کے جائزے سے علیحدہ لیا جانا چاہیے۔
صدارتی نظام کے سلسلے میں پاکستان کی اس متنوع تاریخ اور کئی قسم کے تجربات کے بعد اب ایک بار پھر صدارتی نظام کے قیام کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ بعض حلقے اس گونج کو اس لیے وزن دینے پر مجبور ہیں کہ موجودہ حکومت کی حمایت کی شہرت رکھنے والے بعض اہم افراد نے اس سلسلے میں عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل بھی کر دی ہے۔
کیا آنے والے دنوں میں پاکستان کی سڑکوں پر اس سلسلے میں کسی رونق میلے کا امکان ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب تو شاید کوئی نہ دے سکے لیکن ارشاد بھٹی جن کے نام سے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل سامنے آئی ہے، کہتے ہیں کہ وہ ٹویٹ ان کی نہیں۔ ’یہ کوئی جعلی اکاؤنٹ ہے۔‘
صدارتی نظام وغیرہ کے سلسلے میں کئی دیگر اینکرز نے بھی اپنے نام سے سامنے آنے والی ٹویٹس کو جعلی قرار دیا ہے۔
اگر واقعی ایسا ہے تو کیا یہ سمجھنا درست ہو گا کہ پہلے پیچیدہ سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنانے کی کارروائی شروع ہو چکی ہے؟
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker