فاروق عادلکالملکھاری

فاروق عادل کا کالم : ترکی کی ایک رسم اور کراچی کا الیکشن

وہ رات میں نے ٹیلی ویژن کے سامنے این اے 249 کے انتخابی نتائج دیکھتے ہوئے گزاری۔ تیزی سے آتے ہوئے جب نتائج رک گئے تو کچھ پریشانی ہوئی۔ سحری کے آس پاس جب تیزی سے نتائج آئے اور بلدیہ ٹاؤن کے قدیمی گلی کوچوںمیں شہابیاں چھوٹنے لگیں اور جیالوں کا مخصوص رقص شروع ہو گیا تو مجھے ایک شام کی یاد شدت سے آئی۔
شام دھیرے دھیرے اتر رہی تھی اور ہم ڈرائنگ روم میں تھے۔ بھائی خلیل طوقار نے اپنی زنبیل ٹٹولی اور ایک ضخیم کتاب اس میں سے نکالی۔ ڈاکٹر صاحب یوں، ہمارے داماد ہیں کہ ہمارے اردو کے بہت بڑے عالم پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار نے اپنی نور نظر ثمینہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے کر پاک ترک رشتے میں ایک نئی معنویت پیدا کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم لوگ انھیں دلہا بھائی کہنے کے بجائے ان کی اہلیہ کو بھابھی کہتے ہیں۔ خیر، یہ تو رشتوں کی نزاکتیں ہیں لیکن ان نزاکتوں کے باوجود ڈاکٹر صاحب کو پاکستان کے گلی کوچوں میں پیار ملتا ہے۔
یہ شاید اسی پیار کی ایک نئی جہت تھی کہ حکومت ترکی نے انھیں یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کلچرل سینٹر کا سربراہ بنا کر پاکستان بھیج دیا۔ یہ کتاب اسی سینٹر کی سرگرمیوں کی ضخیم رپورٹ تھی جس میں صدر مملکت ممنون حسین سے لے کر ہمارے جیسے ادیبوں اور کالم نگاروں کا تذکرہ بھی کہیں کہیں آ جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کی پروف ریڈنگ کر چکے تھے اور چاہتے تھے کہ ایک نگاہ میں بھی اس پر ڈال لوں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ کتاب میرے ہاتھ میں دی لیکن میری دل چسپی اس میں ہونے کے باوجود ان کے صاحبزادے محمد طغرل پر تھی جو اس وقت ٹیلی ویژن پر کارٹون دیکھنے میں مصروف تھے۔
خیر، کارٹون الیکٹرانک میڈیم کی ایک ایسی صنف ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ہمارا بچپن ٹام اینڈ جیری دیکھتے ہوئے گزرا ہے یا پھر پنک پینتھر۔ ہمارے آج کے بچوں کی دل چسپی کا میدان وسیع ہے۔ موجودہ زمانے میں کارٹون فلموں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انتخاب مشکل ہو جاتا ہے۔ آج کی مقبول کارٹون فلموں کی فہرست مرتب کی جائے تو بات دور جا نکلے گی، بس، اتنا سمجھ لیجیے کہ بچوں کو دیکھتے دیکھتے ہم لوگ بھی اس زمانے کے بہت سے کارٹونوں اور ان کے بہت سے کرداروں سے واقف ہو چکے ہیں لیکن محمد طغرل کو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ جو کارٹون دیکھ رہے تھے۔
میں ان سے واقف نہیں تھا۔ رات جب سب لوگ سونے کوچلے گئے تو سفر کی تھکن کے باوجود میں نے ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں، خاص طور پر کارٹون چینلوں کو کھنگالا۔ معلوم ہوا کہ ترک چینلوں پر اگرچہ مغربی ملکوں کی کارٹون سیریزبھی دکھائی جاتی ہیں لیکن بیشتر فلمیں مقامی ہیں جن میں مقامی کردار ہی پیش کیے جاتے ہیں، ان میں ملا نصیرالدین سے لے کر چناں قلعے کی جنگ تک کے کردار شامل ہیں۔ ترک ٹیلی ویژن چینلوں اور مقامی پروڈیوسروں نے اس سلسلے میں بہت محنت سے کام لیا ہے اور اس قسم کی کارٹون فلموں اور کہانیوں کے ڈھیر لگا دیے ہیں۔ صبح جب ناشتے پر ہم اکٹھے ہوئے تو میں بہت سارے سوالوں سے مسلح تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ترکی میں کارٹون کی صنعت بہت ترقی کر چکی ہے اور صرف ترکی میں ہی یہ فلمیں مقبول نہیں ہیں بلکہ سابق عثمانی سلطنت کے ملکوں میں بھی جہاں ترکی بولی جاتی ہے، بڑی دل چسپی سے دیکھی جاتی ہیں۔
’’ان فلموں کا مرکزی نکتہ یا مرکزی خیال کیا ہوتا ہے؟‘‘ڈاکٹر صاحب میری طرف سے شاید اسی سوال کے منتظر تھے، کہنے لگے کہ اس دیس کے گلی کوچوں میں گھوم پھر کر یہ اندازہ تو آپ کو ہو ہی گیا ہو گا کہ ہمارے ہاں نیشنل ازم کے جذبات نہایت گہرے ہیں، ان فلموں کا مرکزی خیال ہمیشہ یہی ہوتا ہے جس کے ذریعے نئی نسل میں قوم پرستی یا اپنے ملک سے محبت کے جذبات ابھارے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف تاریخی واقعات سے کردار منتخب کر کے اتنی دل چسپی اور باریک بینی سے فلم سازی کی جاتی ہے کہ بچے غیر ملکی کارٹون فلمیں میسر ہونے کے باوجود مقامی فلمیں زیادہ دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی بیٹی ماہم اور ان کے میاں حسن حسین پینے کلی بھی ان دنوں مولانا روم کی نگری یعنی قونیہ سے استنبول آئے ہوئے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی آرٹس کالج کے فارغ التحصیل اور ملک کے مقبول کارٹونسٹ ہیں جن کے کارٹونوں کے مجموعے کتابی شکل میں شائع ہونے کے علاوہ ان پر فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ دونوں ان دنوں کسی پروجیکٹ پر بڑی تن دہی سے جتے ہوئے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ کوئی کردار بناتے ہوئے کیا چیز آپ کے ذہن میں ہوتی ہے؟ ماہم مسکرائیں اور اپنی ٹیب میرے سامنے کردی۔
ہائیں، اسکرین دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ وہ میرا ہی اسکیچ تھا جو ماہم بیٹی نے باتوں ہی باتوں کے دوران بنا ڈالا تھا۔ کہنے لگیں کہ میں یہ سوچتی ہوں کہ میرا کارٹون دیکھنے والے بچے کے سامنے اگر کوئی فیصلہ کن مرحلہ آ جائے، یعنی اس کے ایک طرف سچائی ہو لیکن ساتھ ہی قربانی دکھائی دیتی ہو اور دوسری جانب خوف، دولت کے ڈھیر اور دنیا کی کشش ہو لیکن اس کی قیمت وطن فروشی کی صورت میں ادا کرنی پڑے تو وہ کچھ سوچے بغیر آزمائش کو چن لے۔ یہ باتیں ابھی جاری تھیں کہ نیچے گلی سے ہنگامے اور شور کی آواز سنائی دی۔ ابھی اس شور کی طرف میں نے اپنے کان لگائے ہی تھے کہ فائر ہو گیا یا پھر کوئی پٹاخا پھوٹا۔ میری سوالیہ نگاہوں کو دیکھ کر ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور کہا کہ یہ مونچھوں کے کونڈے ہو رہے ہیں۔
میں کچھ اور الجھ گیا۔ ڈاکٹر صاحب ایک بار پھر مسکرائے اور کہا کہ ہمارے ہاں جب لڑکا جوان ہوتا ہے تو لازمی فوجی سروس کے لیے اسے فوج سے بلاوا آجاتا ہے۔ جس گھر میں یہ بلاوا آتا ہے، ایک طرح سے وہاں عید کاسماں ہوتا ہے، گھر میں دعوت ہوتی ہے، لڑکے کوسلامیاں اور تحائف دیے جاتے ہیں۔ گھر کی تقریب اختتام کو پہنچتی ہے تو لڑکے کے دوست جشن مناتے ہیں اور گلی کوچوں میں خوب ہنگامہ کر تے ہیں۔ اور دلہے کی طرح ناز نخرے دکھانے والا لڑکا خود کو کارٹون کے کسی ایسے ہی کردار کی شکل میں مجسم تصور کر کے سوچتا ہے کہ اس دیس کی حفاظت کی جو ذمے داری اس کے کاندھوں پر آپڑی ہے، اس پر وہ پورا اترے گا اور کبھی پیٹھ نہ دکھائے گا۔
میں یہ سن کر کھڑکی میں جا کھڑا ہوا اور آتش بازی کی چھوٹتی ہوئی شہابیوں میں لڑکے کا چہرہ دیکھا جس پر خوشی، جوش اور عزم کی تحریریں صاف دکھائی دیتی تھیں۔ پرسوں پرلی شب جب ڈسکہ کی طرح بلدیہ ٹاؤن کے پولنگ افسر ایک بار پھر غائب ہو گئے تو یہ واقعہ مجھے بے طرح یاد آیا اور میں نے سوچا کہ کاش ہمارے بچے بھی اپنی مٹی سے جنم لینے والے کرداروں کی فلمیں دیکھ کر جوان ہوئے ہوتے۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker