اختصارئےفاطمہ برناویلکھاری

یوم ِ پاکستان اوراقبال کے بھٹکے ہوئے آہو ۔۔ فاطمہ برناوی

آج سے 78ءسال قبل برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک انقلاب آفریں باب کا آغاز ہوا جس کا منہ بولتا ثبوت ”پاکستان “ ہے۔ جو نہروجیسے دشمنوں کے ہوتے ہوئے بھی دنیا کے نقشے پر خدا کے رحم و کرم اور اس کے باسیوں کی بیشمار قرباینوں کی بدولت قائم ہے۔ مگر اس انقلابی سوچ کا وہ حصہ جس نے قیام پاکستان کے بعد اس سرزمیں کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانا تھا وہ 1947ءسے موجودہ عہد کے درمیان قصہ پارینہ ہو چکا ہے 23مارچ 1940ءکو مسلمانان ہند پر پاکستا ن کی صورت میں منزل مقصودواضح ہوئی جب کہ اسی منزل کا حصہِ دوئم یعنی پاکستان کی تعمیر و ترقی کی ذمہ داری قیام پاکستان کے بعد پاکستانیوں کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جس قوم کی یہ منزل ہے اسے گم گشتہ قوم کہا جائے تو یہ غلط بیانی نہ ہوگی۔وقت کے ساتھ ساتھ اس قوم کو تلاش کرنا مزید مشکل ہوتا جارہا ہے مختصر یہ کہ اب ہم پھر سے اقبال کا بھٹکا ہوا آہو ہو چکے ہیں۔تعمیرِ پاکستا ن ہماری مشترکہ سوچ میں ہی نہیں ہے تو مشترکہ منزل تو بات ہی نہ کیجئے۔بھٹکے تو ہم سے پہلے والے بھی تھے۔ پھر چند رہنماؤ ں نے رہنمائی کی ۔انہیں متحد کیا ان پر ایک نظریہ واضح کیا اور یوں وہ ایک منزل کی جانب گامزن ہوئے ۔اب کہنے کو ہمیں بہت سے رہنماءمیسر ہیں اوران کے راستے جدا ہیں مگر پاکستان کی فلاح کی صورت میں منزل ایک ہی ہے۔پر کہنے کو تو بھارت کشمیر کو اپنا حصہ کہتا ہے ،اسرائیل خود کو ایک ریاست اور حتیٰ کہ کچھ غیر مسلم خود کو مسلمان کہتے ہیں ۔خیر جو بھی ہے یہ رہنما ءبھی کہیں نہ کہیں کم از کم پاکستان کے قائم رہنے کے حق میں ہیں کہ جو مزے پاکستان میں ہیں وہ نہ تو امریکہ میں ہیں نہ برطانیہ نہ سعودیہ عرب اور نہ ہی سوئزرلینڈ میں۔
اس خطہ کے مسلمانوں کے جس عروج کا آغاز آج سے 78 برس پہلے ہوا تھا وہ عروج کی انتہا ءکو پہنچنے سے پہلے ہی زوال کی جانب رواں ہیں۔یقینا ان 78ءسالوں میں پاکستانیوں نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بہت سے شعبہ جات میں ترقی کررہا ہے۔ہم ایٹمی طاقت ہیں، دنیا کی بہترین افواج میں پاک فوج کا شمار ہوتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سے زیادہ کامیابی کسی نے حاصل نہیں کی،ہمارے سائنس دان دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں،CPECکا افتتاح ہو چکا ہے،سیاسی اور جمہوری اعتبارسے ہم بین الااقوامی طور پر دنیا میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔۔۔مگر کیا ان کامیابیوں کی بناءپر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم بحیثیت ایک قوم ترقی کررہے ہیں کیا پاکستان مجموعی طور پر ترقی کررہا ہے؟آخر کب تک چند شعبہ جات میں ترقی کو مجموعی ترقی تصور کیا جاتا رہے گا۔ہم جب تک اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کی جرات نہیں کریں گے، ناکامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں کامیابیوں میں تبدیل نہیں کریں گے ہم حقیقی طور پر بحیثیتِ قوم ترقی نہیں کر سکیں گے ۔
آج 23مارچ کا سورج طلوع ہوگا تو قائد کی طرح کوئی ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی جانب لے کر جانے والا نہیں ہوگااور نہ ہی کوئی جوش و جذبہ اور ایمانداری کے ساتھ اس روشنی کے حصول کی خاطر جدوجہد کرنے والی قوم۔اور نہ ہی یہ کہے گا کہ کروڑوں لوگوں کے مفاد میں یہی ہے کہ ہم اپنے مسائل کا با عزت اور پر امن حل تلاش کریں جو کہ ہمارا مقدس فریضہ ہے۔ہم دوسروں کی دھمکیوں سے ڈر کر اپنے مقصد کے حصول سے ایک بال برابر بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے ہمیں ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرنا چاہیے اس بات کو سمجھ لیا جائے تو آج پھر سے ایک نئے باب کا آغاز کیا جاسکتاہے بشرطیہ یہ گم گشتہ قوم اس قصہ پارینہ سوچ کو حا صل کرلے کہ ہماری منزل پاکستان کی تعمیرو ترقی ہےآج یوم پاکستا ن دھوم دھام سے منایا جائے گا 21توپوں کی سلامی دی جائے گی قائد کے مزار پر ایوان والے حاضری دیں گے ،شہداءکو سلام پیش کیا جائے گا،اسکول و کالج میں تقاریب منعقد کی جائیں گی،بچے رٹی رٹائی تقاریر کریں گے۔مگر صد افسوس کہ اُس منزل سے کوئی آشناءنہ ہوگاجو قائد نے واضح کی تھی۔ایسی ریاست کا قیام جہاں آزادی،انصاف،رواداری ،بردباری،تہذب وتمدن کی آبیاری ،اخلاقی قدروں کی تکریم ہو۔اس کے برعکس جو ہم ہیں وہ سب پر واضح ہے۔ظاہر ہے جب ہم اس ملک کو ایسے رہنماﺅں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے جو خود کو سب پر بھاری کہتے ہیں مگر بطور حکمران کسی کام کے نہیں،تبدیلی کے دعوے کرتے ہیں اور تو اور خود کو قائد کا وارث کہتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ قائد کا حقیقی وارث دال روٹی پوری کرنے کے چکر میں مصروف ہے چاہے وہ مزدور ہو ،طالب علم ،ینگ ڈاکٹر ،انجینئر،ادیب یاپھر کوئی ایسا جو خود سے نا آشنا ءہو جو کہ فی لحال یہ ساری قوم ہے پاکستان کے لیے جان دینے والے تو بہت ہیں مگر اس کی کامرانی کی خاطر قومی مفاد کو بر تر رکھنے والے کم،پاکستان کوسرِ فہرست رکھنے والے کم ہیں ۔ چونکہ مایوسی کفر ہے اسی لیے اُمید ہے کہ مستقبل میں ایسے دن ضرور ہونگے جب 23مارچ1940ءکی طرح ہی ہم اپنی منزل کا تعین کریں گے اور 14اگست 1947ءکی طرح ہی اس منزل کو حاصل کرکے پھرسے ایک باوقار قوم کی طرح افق پر طلوع ہونگے۔ یقینا ایسے بہت سے تاریخ ساز دن ہمارے مقدر میں لکھے جاچکے ہوں گے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker