تحریک انصاف کے لیڈر فواد چوہدری کی گرفتاری ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ اس گرفتاری سے ملک کے سنسنی خیز سیاسی ماحول میں کوئی بہتری پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اگرچہ وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے واضح کیا ہے کہ فواد چوہدری کو حکومت کے ایما پر گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کی شکایت پر اداروں کو دھمکانے اور ان کی توہین کرنے کے الزام میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ لیکن ملک میں سیاسی مسابقت اور دشمنی کا جو ماحول موجود ہے، اس میں بلاشبہ اس گرفتاری کی ذمہ داری بہر حال وفاقی حکومت کو ہی قبول کرنا پڑے گی۔
یہ امر بھی اپنی جگہ شدید تشویش کا سبب ہے کہ ملک کے ایک آئینی ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس قدر دباؤ محسوس کیا اور اس کے ارکان اور اہلکاروں کو اتنا خوفزدہ کیا گیا کہ ،فواد چوہدری کے ایک انٹرویو کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا ضروری سمجھا گیا۔ یہ صورت حال ملک کی ایک اہم سیاسی پارٹی اور الیکشن کمیشن کے درمیان جاری چپقلش اور بداعتمادی میں اضافہ کا باعث بنے گی۔ خاص طور جب تین ماہ کے اندر پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات ہونے والے ہیں اور پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کے بعد ضمنی انتخابات کا مرحلہ بھی سر پر کھڑا ہے، تصادم اور تنازعہ کی کیفیت کو بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں بہتر تو یہی ہوتا کہ الیکشن کمیشن ایک پارٹی لیڈر کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کروانے کا انتہائی اقدام کرنے سے گریز کرتا ۔ تاہم اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور تمام متعلقہ اداروں اور لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ باہمی کشیدگی کے ماحول پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے۔
عمران خان نے فواد چوہدری کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن کے علاوہ اداروں پر ہر طرح کے الزامات عائد کئے ہیں اور اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ اب وہی معاملات کو درست کرنے کا فریضہ ادا کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے عمران خان نے تمام امیدیں فوجی قیادت سے باندھی ہوئی تھیں تاہم اس طرف سے کوئی مثبت اشارے نہ ملنے کی وجہ سے اب تحریک انصاف کے چئیرمین تمام تر دباؤ سپریم کورٹ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صرف تحریک انصاف اور اس کے ارکان ہی اس ملک کے شہری نہیں ہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں، اداروں سے وابستہ افراد اور الیکشن کمیشن کے لئے خدمات سرانجام دینے والے لوگ بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ انہیں بھی ملکی قوانین کے تحت حقوق حاصل ہیں اور ان کا تحفظ بھی لازمی ہے۔ عمران خان کی باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے حقوق بلکہ مفادات کی بات کرتے ہیں، انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ ملک میں عام طور سے قانون کی حکمرانی کے لیے ہر شخص کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ افراد اور اداروں پر تنقید کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، اس سے نفرت اور کشیدگی میں تو اضافہ ہوتا ہے لیکن اس طریقے سے نہ تو قانون کی بالادستی کا مقصد حاصل ہوسکے گا اور نہ ہی ایسا صحت مند سیاسی ماحول پیدا ہوسکے گا جس کے نتیجے میں شفاف انتخابات کا مقصد حاصل ہوسکے اور ان کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتیں ملکی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت کے ساتھ اقتدار میں آسکیں۔
بدنصیبی سے عمران خان تواتر سے یہ بات کہتے رہے ہیں کہ انہیں بہر حال اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت ملنی چاہئے۔ کوئی بھی سیاسی لیڈر یا پارٹی ایسی خواہش تو کرسکتی ہے لیکن ایسا کوئی مطالبہ لے کر اداروں پر دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے اختیار نہیں کرسکتی۔ اگر یہ طریقہ اختیار کیاجائے گا تو اس سے انارکی اور انتشار کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے لیکن اس اصول کو پس پشت ڈالتے ہوئے فوج، الیکشن کمیشن اور عدلیہ پر یکساں طور سے دباؤ ڈالنا شروع کیا ہؤا ہے۔ اگر ان کے آج کے بیان کو ہی پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات ناقابل فہم ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کیوں کر عمران خان کے ایک بیان پر سو موٹو لے کر تمام معاملات ان کی خواہش و ضرورت کے مطابق طے کرنا شروع کردیں گے۔ عمران خان خود مساوات اور قانون کی بالا دستی کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں انہیں خود سوچنا چاہئے کہ اگرچہ وہ ایک بڑی پارٹی کے لیڈر ہیں لیکن قانون اور عدالت کی نگاہ میں ان کی حیثیت محض ایک شہری کی ہے اور ہونی بھی چاہئے۔ اگر کوئی بھی عدالت عمران خان کے ساتھ اس لئے کوئی تخصیص برتتی ہے کہ وہ ایک بڑے لیڈر ہیں تو یہ قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ فواد چوہدری کی گرفتاری ملک میں سیاسی ہم آہنگی، کشیدگی پر قابو پانے اور متوازن ماحول میں انتخابات منعقد کر وانے کے مقصد کو نقصان پہنچائے گی۔ لیکن اگر اس پہلو پر وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور دیگر عناصر کو غور کرنے کی ضرورت ہے تو عمران خان اور ان کی پارٹی پر بھی اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عمران خان نے حال ہی میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے جو سیاسی فیصلے کئے ہیں، ان کا نتیجہ ان کی خواہش کے مطابق برآمد نہیں ہوسکا۔ اس ناکامی پر الیکشن کمیشن پر غصہ نکالنے کی بجائے انہیں خود اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا چاہئے اور تحریک انصاف کو فرد واحد کی مرضی کا پابند بنانے کی بجائے ، ایک جمہوری پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔ اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کرتے اور اسے ایک فعال سیاسی ادارے کے طور پر سامنے لاتے ۔ اس کا سب سے بڑا یہ فائدہ ہوتا کہ تحریک انصاف محض پرویز الہیٰ جیسے الیکٹ ایبلز کی محتاج ہونے کی بجائے، میرٹ اور منشور کی بنیاد پر امیدوار تلاش کرتی اور عوام سے اپنے سیاسی پروگرام پر ووٹ لینے کی کوشش کرتی۔ عمران خان نے یہ وقت ناکام احتجاج کرنے، عوام میں اشتعال پھیلانے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کے لئے صرف کیا۔ اب بھی وہ اسی ایجنڈے پر عمل کررہے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر فواد چوہدری کی حمایت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے اس بات پر اصرار ضروری سمجھا ہے کہ فواد چوہدری نے اگر چیف الیکشن کمشنر کو ’منشی‘ کہا ہے تو اس میں کیا غلط بات ہے۔ گویا وہ اپنے نقطہ نظر کو ایک مانی ہوئی حقیقت بنا کر پیش کرتے ہیں اور سب کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اسے تسلیم بھی کریں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال پنجاب میں محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ بنانے کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ عمران خان کو خود غور کرنا چاہئے کہ اگر خیبر پختون خوا میں یہ معاملہ خوش اسلوبی اور باہمی اتفاق رائے سے طے ہوسکتا تھا تو کیا وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی دیانت دارانہ کوشش کیوں نہیں کی۔ تحریک انصاف نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنا ہمدرد شخص لانا چاہتی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسے شخص کا نام بھی اس کے امیدواروں میں شامل کرلیا گیا جو ابھی سرکاری نوکری سے بھی فارغ نہیں ہوئے۔ الیکشن کمیشن پر اس حوالے سے الزام تراشی سے پہلے عمران خان کو خود اپنی سیاسی کمزوری کا اعتراف کرنا چاہئے کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وہ اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکے۔
الیکشن کمیشن ان چار ناموں میں سے ہی ایک شخص کو یہ عہدہ تفویض کرنے کا پابند تھا جو سابقہ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ یہ درست ہے کہ محسن نقوی کا نام حمزہ شہباز نے پیش کیا تھا لیکن کیا وجہ ہے کہ تحریک انصاف کوئی ایسا نام سامنے لانے میں ناکام رہی کہ الیکشن کمیشن کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ عمران خان اور پرویز الہیٰ نے محسن نقوی کے خلاف بہت شور مچایا ہے اور اس معاملہ پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان بھی کیا ہے لیکن تین روز گزرنے کے باوجود اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ شاید اس کی نوبت بھی نہ آئے کیوں کہ عدالت کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلہ کو مسترد کرے گی؟
تحریک انصاف فوری انتخابات کی ضد پر تو قائم ہے لیکن اسی شدت سے وہ الیکشن کمیشن کے خلاف پروپیگنڈا مہم میں بھی مصروف ہے۔ اس حکمت عملی کاایک ہی مقصد ہے کہ اگر انتخابات میں حسب خواہش اکثریت حاصل نہ ہوئی تو اسے دھاندلی زدہ قرار دے کر مسترد کردیا جائے۔ اس سچائی کے باوجود کہ پاکستان میں انتخابات کی تاریخ مستحسن نہیں ہے لیکن تحریک انصاف اور عمران خان کو یہ بھول جانا چاہئے کہ اب ہونے والے انتخابات کے بعد اگر وہ دھاندلی کا شور مچائیں گے تو ان کی بات کو کوئی پزیرائی حاصل ہوسکے گی۔
امید کرنی چاہئے کہ فواد چوہدری مناسب قانونی کارروائی کے بعد عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن حکومت اور تحریک انصاف کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ ایسے واقعات دہرائے نہ جائیں۔ ملک میں انتخاب ہونے والے ہیں اور اس دوران الزام تراشی کی بجائے اگر پارٹی منشور اور پروگرام کی بنیادپر عوام سے رجوع کیا جائے تو سب کو اس کا فائدہ ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

