اسلام آباد : مرکزی سینیئر نائب صدر تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخاب میں عبرتناک شکست نے 13 جماعتی اتحاد کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بُری طرح مجروح کیا ہے۔
حکومتی اتحادیوں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پنجاب کے انجام کے بعد عام انتخابات کا سوچ کر ہی کٹھ پتلیوں کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ ’ پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مرکزی حکومت تو پہلے ہی سے وینٹیلیٹر پر ہے، یہ طے کرنا ان کے بس میں ہی نہیں کہ انھوں نے کتنی دیر رہنا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ ہم ہی نے کرنا ہے مگر ابھی ان کو موقع دے رہے ہیں کہ کچھ عقل کا فیصلہ کرلیں۔ سازش سے اقتدار ہتھیانے والے ملکی بقا و مستقبل کی قیمت پر حکومت پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔ عوام نے دوٹوک انداز میں فیصلہ سنایا ہے کہ وہ عمران خان کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
’فوری صاف شفاف انتخابات چیئرمین عمران خان کے بیانیے کا کلیدی جزو ہے۔ سنگین ترین سیاسی عدمِ استحکام اور روپے کی قدر میں تاریخی گراوٹ ہر صاحبِ شعور پاکستانی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ ملک و قوم کو عوام کے مسترد شدہ کرپٹ گروہ کی ضد کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ ایک بھگوڑے اور اس کے کرپٹ حواریوں کی مرضی سے نہیں 22 کروڑ عوام کے مفاد کے مطابق فیصلہ سازی وقت کی ضرورت ہے۔‘
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ’جب بھی انتخاب میں جائیں گے، انجام اس سے بھی عبرتناک ہوگا۔ الیکشن کمیشن پر اپنی مرضی کے فیصلوں کے لیے دباؤ ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔ چپڑاسیوں اور فالودے والوں کی فوج کھڑی کرنے والوں کو فنڈنگ کیس کا فیصلہ مانگتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔
’شریفوں کو اعزاز حاصل ہے کہ جماعتی اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ’لوہے کے کھوکھلے‘ چنوں سے بھڑھکیں مروانے کی بجائے عقل سے کام لیں اور رخصتی کی تیاری کریں۔ جو قوم اب تک مشرف کا این آر او نہیں بھولی وہ این آر او ٹو بھی نہیں بھلائے گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’انتخاب کی تاریخ کا اعلان کر کے پاکستان کو بحران سے نکلنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ مزید ملک کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تو فیصلہ عمران خان کریں گے۔‘

