پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاری سے ایک ہزار افرد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بارشوں کی شدت اور سیلابی ریلوں کے خوفناک سلسلہ نے ملک بھر میں قیامت کا سماں باندھا ہؤا ہے۔ اب یہ خبر ہے کہ دریائے کابل میں شدید طغیانی کے باعث نوشہرہ میں سیلاب کا اندیشہ ہے۔ شہریوں سے شہر خالی کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کے باوجود ملک میں سیاسی افتراق میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔ مشکلات میں گھرے اور تباہی کا سامنا کرتے پاکستانی عوام حیران ہیں کہ وہ اپنے لیڈروں سے کیوں کر خیر کی امید کرسکتے ہیں۔
قدرتی آفت کی صورت حال میں سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر تمام سیاسی گروہوں اور لوگوں کو مل کر کام کرنے اور امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کے لئے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے کی ضرورت ہے۔ لیکن مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں سیاسی بنیاد پر پائے جانے والے اختلاف کی وجہ سے تعاون و ہم آہنگی کی بجائے ، سیاسی لیڈر عام لوگوں کے مسائل اور پریشانی کو ایک دوسرے کے خلاف پوائینٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ چند لیڈروں کے بیانات اور طرز عمل سے قطع نظر سوشل میڈیا پر سیاسی مقاصد سے چلائی جانے والی مہم جوئی سے متاثرین کی بحالی کے کا کام متاثر ہوتا ہے۔ جو لوگ اس مشکل میں ہم وطنو ں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی بے یقینی کا شکار ہوکر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ کہیں ان کا عطیہ یا فراہم کردہ وسائل ’غلط ہاتھوں‘ میں نہ چلا جائے۔ بدقسمتی سے عام شہریوں کی مشکل کو سیاسی مقصد حاصل کرنے کا رویہ اس وقت ہر سطح پر نمایاں ہے۔
پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتیں مرکزی حکومت کے ساتھ کوئی تعاون کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں بلکہ دونوں صوبوں کی قیادت کسی نہ کسی طور سے عمران خان کی خوشنودی کے لئے مرکز کو ’ٹف ٹائم‘ دینے اور اس کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے مواصلات متاثر ہیں اور دور دراز علاقوں میں لوگوں کی حالت زار کے بارے میں جاننا یا ان کے لئے کسی قسم کی امداد کا سامان بہم پہنچانا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ ایسے موقع پر قومی یک جہتی میں واضح طور سے محسوس ہوتی دراڑیں نہ صرف بحالی کے کاموں میں مشکلات کا سبب بن رہی ہیں بلکہ عوام کی پریشانی اور بے یقینی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت یہ ذمہ داری صرف وزیر اعظم شہباز شریف یا دیگر حکومتی اہلکاروں پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ صوبائی اور مرکزی حکام کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر قوم کو اس مشکل سے نکالنے کی کوشش کرنا ہوگی۔پاکستان کو سیلاب کی شکل میں موجودہ شدید تباہی کا ایک ایسے وقت میں سامنا ہے جب معاشی حالات کی وجہ سے پاکستانی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حکومت کو غیر ملکی قرض کی ادائیگی کے لئے کسی بھی طرح وسائل فراہم کرنے کی جد و جہد کرنا پڑرہی ہے۔ اگرچہ عرب ممالک کی طرف سے کچھ اچھی خبریں سننے میں آئی ہیں اور نقد امداد کے علاوہ سرمایہ کاری کی پیش کش بھی کی گئی ہے۔ گزشتہ روز ہی سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان السعود نے پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو فون پر اطلاع دی تھی کہ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا حکم دیا ہے تاکہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ ایسے ہی اشارے وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ قطر کے دوران بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم یہ ساری مالی امداد حتی کہ چین کے ساتھ سی پیک کے حوالے سے جاری تعاون کی صورت حال بھی عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کی توثیق اور اسے ایک رب ڈالر سے زیادہ کی قسط کی ادائیگی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ تمام ممالک اور مالیاتی ادارے سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا پروگرام بحال ہونے کا مقصد یہ ہوگا کہ ملکی معاشی بحالی اور ادائیگیوں کی صلاحیت کے بارے میں پاکستان کی کوششوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ یعنی جو ممالک یا ادارے بھی پاکستان میں سرمایہ لگانا چاہتے ہیں ، انہیں یہ یقین ہوگا کہ یہ سرمایہ ڈوب نہیں جائے گا بلکہ اس کی واپسی بھی ممکن ہوگی۔
یہی مقصد حاصل کرنے کے لئے پاکستانی حکومت نے سخت معاشی فیصلے کئے ہیں، پیٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور مہنگائی کی انتہائی ناپسندیدہ اور سیاسی لحاظ سے قاتل صورت حال کو برداشت کیا ہے۔ اس حد تک شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت کی کوششوں کو سراہنا چاہئے اور ان معاشی حقائق کو تسلیم کرکے جس حد تک ممکن ہو مرکزی حکومت کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔ یہ امید کی جارہی ہے کہ سوموار کو آئی ایم ایف کا بورڈ آف گورنرز اگر پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی توثیق کردے تو ممکنہ طور پر متعدد دوسرے ذرائع سے بھی مالی وسائل مہیا ہوسکیں گے اور سیلاب کی تباہ کاری پر قابو پانے کے لئے عالمی امداد میں بھی تیزی دیکھنے میں آئے گی۔ تاہم اس نازک مرحلہ پر خیبر پختون خوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے وفاقی وزارت خزانہ کو ایک خط میں مطلع کیا ہے کہ کے پی حکومت سیلاب کی موجودہ صورت حال میں آئی ایم ایف سے طے کی گئی شرائط کے مطابق بجٹ میں منافع نہیں دکھا سکتی حالانکہ صوبائی اور مرکزی حکومت میں اس پر اتفاق رائے ہوچکا تھا۔ صوبوں کے ساتھ گزشتہ ماہ ہونے والے اس معاہدہ کے مطابق تمام صوبے مرکز کو 750 ارب روپے فراہم کریں گے تاکہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی مدد لینے لئے اپنی مالی استعداد کا دستاویزی ثبوت فراہم کرسکے۔ مرکز اور خیبر پختون خوا حکومت کے درمیان یہ معاہدہ طویل بات چیت اور بعض ضمانتوں کے بعد طے پایا تھا اور کے پی حکومت نے آئی ایم ایف کو بھیجی گئی یادداشت پر دستخط بھی کئے تھے۔ تاہم اب وزیر خزانہ سیلاب کا بہانہ بنا کر اس وعدہ سے انحراف کا اعلان کررہے ہیں۔ یا ا س ہتھکنڈے سے مرکزی حکومت کو مزید دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک پریس کانفرنس میں اس رویہ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس انحراف کا ایک ہی مقصد ہے کہ تحریک انصاف کسی بھی قیمت پر آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے معاہدہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہے تاکہ پاکستان ڈیفالٹ ہوجائے اور وہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرسکے۔ عمران خان نے ایک بیان میں کے پی کے وزیر خزانہ کی مکمل حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے صوبہ کیسے وسائل فراہم کرسکتا ہے؟ صوبوں اور مرکز کے درمیان مالی معاملات تکنیکی لحاظ سے مشکل اور سیاسی طور سے حساس ہیں۔ تاہم تمام صوبوں کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عالمی اداروں کے ساتھ کئے گئے وعدوں سے انحراف کا نقصان صرف موجودہ حکومت کو نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات پاکستانی معیشت اور مستقبل میں اقتدار سنبھالنے والی کسی بھی حکومت پر مرتب ہوں گے۔
تمام لیڈروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ پیچیدہ مالی معاملات پر سیاست کرنے کی بجائے ، اس وقت مل جل کر ملک کو مشکل سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔ تاہم عمران خان کا مؤقف ہے کہ مرکزی حکومت خیبر پختون خوا سے وعدہ پورا کرنے کا تقاضہ کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کے ساتھ از سر نو مذاکرت کرے اور شرائط کو تبدیل کروائے کیوں کہ میری حکومت نے بھی کووڈ۔ 19کی صورت حال پیدا ہونے پر ایسا ہی کیا تھا۔ عام لوگوں کے لئے اس بیان پر ضرور تالیاں بجائی جاسکتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے ہونے والاموجودہ معاہدہ اسی افہام و تفہیم کا تسلسل ہے جو شوکت ترین نے آئی ایم ایف کو عمران حکومت کی طرف سے کروائی تھی۔ عدم اعتماد سے فوری پہلے سیاسی بازی پلٹتے دیکھ کر عمران خان نے اس معاہدہ کے برعکس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا اور انہیں ایک سطح پرمنجمد کردیا۔ موجودہ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کرنے میں عمران حکومت کی اس وعدہ خلافی کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور سخت مالی اقدامات پر راضی ہونا پڑا۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کے اہم قائد اور وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز فواد چوہدری جیسے لیڈر یہ ٹوئٹ جاری کررہے ہیں کہ’پنجاب اور خیبر پختون خوا میں عمران خان کی قیادت کی وجہ سے سیلاب سے بحالی کا شاندار کام ہورہا ہے جبکہ بلوچستان اور سندھ کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں کیوں کہ وہاں چوروں کی حکومتیں ہیں اور عوامی وسائل حکمرانوں کی عیاشی پر صرف ہورہے ہیں‘۔
عمران خان آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ کرنے کا ’مطالبہ‘ کرتے ہوئے بھی دراصل وہی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جو تیمور جھگڑا اپنے مراسلے اور فواد چوہدری اپنے ٹوئٹ پیغام کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاری اپنی جگہ لیکن ’حقیقی آزادی‘ کی لڑائی پورے زور شور سے جاری رہے گی۔ انہوں نے جلسوں اور تقریروں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی پر رد عمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’اپوزیشن احتجاج کرے حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لئے کام کرتی رہے گی‘۔بیان بازی سے قطع نظر قومی لیڈروں کو لمحہ بھر کے لئے ضرور غور کرنا چاہئے کہ قومی آفت پر سیاست کرکے وہ کون سے مقصد حاصل کرسکتے ہیں؟ اقتدار کی چاہ میں اختیار کئے گئے منفی طرز عمل کی حقیقت آج نہیں تو کل عوام کے سامنے عیاں ہوجائے گی ۔ اس وقت جو بھی خود کو عوام کا دوست سمجھتا ہے، اسے تصادم کی بجائے مفاہمت اور انتشار کی بجائے اتحاد کے ذریعے موجودہ تباہ کاری سے عوام کو نکالنے کی بات کرنی چاہئے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

