پانچویں صدی قبل مسیح کے کسی سال چین کی سوئی بادشاہت کے پہلے شہنشاہ وین دریائے زرد کے کنارے پر زیر تعمیر ایک بند کا معائنہ کر رہے تھے جو سیلاب کی تباہ کاریوں کے سدباب کے لیے تعمیر کیا جا رہا تھا ۔ ایک مقامی چرواہے نے حاضری کی اجازت طلب کی اور جان کی امان وغیرہ مانگ کر دست بستہ عرض کیا کہ حضور ! دریا کناروں سے اس لیے باہر نکلتا ہے کہ کناروں کے اندر اس کا دم گھٹ رہا ہوتا ہے اور اسے سانس لینے کے لیے مزید کھلی جگہ درکار ہوتی ہے ، ہم بند بنا کر اسے مزید گھٹن کا شکار کر دیتے ہیں لہذا وہ جلال میں آ کر کنارے توڑ ڈالتا ہے اور سامنے آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کر ڈالتا ہے ، سرکار اس پر گھٹن مسلط نہ کریں اسے پھیلائیں ۔
بات بادشاہ سلامت کو پسند آئی اور انہوں نے اس چرواہے کے مشورے پر پن ین کی کھدائی کا آغاز کیا جسے آج ہم گرینڈ کینال آف چائنا کے نام سے جانتے ہیں ۔ گرینڈ وال آف چائنا کی طرح 1774 کلومیٹر طویل یہ نہر بھی اپنی واحد مثال ہے ۔ شہنشاہ وین کے بعد ان کے فرزند شاہ ہانگ نے اس منصوبے پر کام جاری رکھا ۔ یہ دریائے زرد سے شروع ہو کر یانگزی دریا پر جا کر ختم ہوتی ہے ، اپنے طویل سفر میں یہ پانچ دریاؤں اور کئی جھیلوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی طویل ترین آبی شاہراہ بھی ہے جو بیجنگ کو ہانگزو سے ملاتی ہے ۔ قدیم دور میں اس نہر کے ذریعہ غلہ اور دیگر اشیائے خوردنی دور دراز صوبوں سے دارالحکومت لائی جاتی تھیں اور آج بھی اس میں کشتی رانی اور جہاز رانی ہو رہی ہے ۔
جو بات ڈھائی ہزار سال قبل دریائوں کے مزاج آشنا ایک چرواہے نے سمجھ لی تھی وہ آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ماہرین اور حکمران نہیں سمجھ رہے۔ ہمارے ملک میں دریا جو تباہی پھیلاتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے دریاؤں کے راستوں پہ سڑکیں ، بند اور عمارتیں تعمیر کر لی ہیں ، انہیں اپنی مرضی کے راستوں سے گزرنے پر مجبور کرتے ہیں ، کئی کلومیٹر طویل گزرگاہ پر چند سو میٹر کے تنگ پل تعمیر کر دیتے ہیں ۔ دریا پھیلتے تھے تو جھیلیں بناتے تھے وہ ان سے چھین لی گئیں اور وہاں کاشتکاری شروع کر دی گئی یا رہائشی کالونیاں اور فیکٹریاں تعمیر کر لی گئیں اور یہی کچھ رودکوہیوں اور پہاڑی ندیوں کے ساتھ کیا گیا ۔ سیلابوں اور دریائوں کے قہر سے بچنا ہے تو ان کی گذرگاہیں انہیں واپس کرنی ہوں گی ، سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ریزروائر اور جھیلیں بنانی ہوں گی ۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ پرانی گذرگاہیں بحال کر کے دریاؤں کو بالکل ہی آزاد چھوڑ دیا جائے تو یہ غلط ہو گا ، دریائوں کو مینیج کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ماضی میں ان دریاؤں کو اپنے پانیوں سے کم لوگوں کا پیٹ پالنا ہوتا تھا ، آج آ بادی بہت بڑھ چکی ہے جسے آپ نے خوراک فراہم کرنی ہے ۔ ہم قلت آب کا شکار ہیں ، وافر پانی تو ہمارے پاس بارہ مہینوں میں صرف تین مہینے ہوتا ہے اور ہمیں اس وافر پانی کو ضائع کرنے کی بجائے کام میں لانا ہے اور یہ اشد ضروری ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہمارا تمام وافر پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ پانی کا سمندر میں جانا ضروری ہے ورنہ سمندر کا پانی ڈیلٹا اور ملحقہ علاقوں کو نمک سے بھر دے گا اور ناقابل کاشت بنا دے گا اور یہ سندھ میں ہو رہا ہے ۔۔ یہ بات بالکل درست ہے، لیکن موجودہ حالات میں تو بس ایک آدھ ماہ ہی پانی سمندر میں جا پاتا ہے، جبکہ ہمیں اتنا پانی جمع کرنا ہے کہ پورا سال سمندر کو بھی اس کے حصے کا پانی دے سکیں اور یہ ناممکن نہیں ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا میں پانی کی کمی کے شکار بڑے ملکوں میں شامل ہے لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ پانی ضائع کرنے والوں میں بھی ہم سر فہرست ہیں ۔ پانی حاصل کرنا اور محفوظ کرنا جتنا ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ پانی کا ضیاع روکنا ضروری ہے۔ اس پر اگلی کسی نشست میں بات کریں گے ۔ بات آپ کو معقول اور مفید لگی ہو تو اسے آگے پھیلائیے۔
فیس بک کمینٹ

