شجاع آباد : دریائے چناب میں پانی کی مسلسل بڑھتی ہوئی سطح نے شجاع آباد کو ممکنہ تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
بھوپت والا بند ٹوٹنے کے بعد شہر کو بچانے کی آخری امید، سیکنڈ دفاعی لائن بستی پریت اور موضع خیرپور کے مقام پر تیزی سے مضبوط کی جا رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں اور تمام ادارے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، جبکہ شہر بھر میں خوف کی فضا قائم ہے۔
صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے وفاقی وزیر و چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون خود موقع پر پہنچے اور محکمہ ایریگیشن کی غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غفلت برداشت نہیں کی جائے گی شہر بچانا پہلی ترجیح ہے وفاقی وزیر کے مطالبے پر صوبائی وزیر کاظم پیرزادہ بھی فوری پہنچے اور تمام وسائل جھونکنے کا اعلان کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق متاثرہ علاقوں سے درجنوں خاندانوں اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر لیا گیا ہے۔
ادھر شجاع آباد کے علاقے موضع دھوندو کے قریب دریا چناب کے حفاظتی بند میں ایک بار پھر شگاف پڑ گیا ہے، جس سے قریبی دیہات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
شگاف کی چوڑائی تقریباً 80 فٹ بتائی جا رہی ہے جسے پر کرنے کے لیے اضافی مشینری طلب کر لی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے بند کے شگاف کو پر کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق متاثرہ بند کی مرمت کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے تاکہ پانی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ادھر قریبی بستیوں سے شہریوں کے انخلا کا آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور مقامی آبادی کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بند ٹوٹنے کی صورت میں بستی مٹھو، بستی ماہڑے، بستی دھوندو، بستی سومن، بستی بنگالا اور نئی بستی براہِ راست متاثر ہوں گی۔
ان علاقوں میں پانی داخل ہونے کی صورت میں کسانوں کی فصلیں، مال مویشی اور رہائش گاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
ضلعی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر محفوظ علاقوں کی جانب فوری نقل مکانی اختیار کریں۔
( بشکریہ : ایکسپریس : نیوز )
فیس بک کمینٹ

