کیا آپ نے تین ستمبر 2025ء کو جاپان کے خلاف فتح کے اسی برس مکمل ہونے پر چینی دارالحکومت میں عسکری اور سیاسی قوت کے مظاہرے پر غور کیا۔ تقریب کے پوڈیم پر تین مرکزی کردار کون تھے؟ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری ژی جن پنگ، روس کے صدر ولایمیر پوٹن اور شمالی کوریا کے سپریم رہنما کم جونگ ال۔ ان تینوں ریاستوں میں قدر مشترک کیا ہے، مطلق العنان اقتدار۔ اس کے علاوہ جمہوری اختلاف رائے، انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی جیسی اقدار سے لاتعلقی۔ یہ آج کی دنیا میں محوری طاقتوں کے نئے متوازی بندوبست کا اعلان تھا۔ ٹھیک چھ روز بعد اسرائیل نے قطر میں حماس قیادت کے ایک ممکنہ اجلاس پر حملہ کیا۔ امریکا کے قریبی حلیف قطر میں امریکی فوجی اڈے اور فضائی دفاع کا وہ نظام بھی موجود ہے جس نے رواں برس جون میں ایران اور اسرائیل کی جنگ میں ایرانی میزائلوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت متعدد عرب ریاستوں سے امریکی قیادت کے قدیمی مراسم کے باوجود 9 ستمبر کو قطر پر اسرائیلی حملے کے دوران امریکا لاتعلق رہا۔ معلوم ہوا کہ امریکا خلیج میں اسرائیلی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ اس پر عرب لیگ اور اسلامی تعاون کی تنظیم نے 15 ستمبر کو دوحہ میں ایک کانفرنس منعقد کی جس میں ان ممالک کے باہم متصادم مفادات، سیاسی کھوکھلا پن نیز عسکری دست نگری کے سب زاویے واضح ہو گئے۔
اس پس منظر میں 17 ستمبر کو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف فوج کے سربراہ کے ہمراہ ریاض پہنچے جہاں اسی روز دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا کلیدی نکتہ یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ممالک پر حملہ تصور کی جائے گی۔ اگرچہ نیوکلیائی صلاحیت کے بارے میں کچھ ابہام رکھا گیا تھا لیکن جمعرات کی شب نجی ٹیلی ویژن پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے دو ٹوک لفظوں میں اس معاہدے کو ایسا ہمہ جہتی سمجھوتہ قرار دیا جس میں پاکستان کی نیوکلیائی صلاحیت بھی سعودی عرب کے لیے دستیاب ہو گی۔ خواجہ آصف حالیہ عرصے میں کسی قدر متنازع بیانات دے رہے ہیں اور شاید ان کے بیان کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تاہم یہ دنیا بھر میں ایٹمی پھیلاؤ کے امکانات کا خطرناک اشارہ ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان میں دوستی کا پہلا معاہدہ 1951ء میں ہوا تھا۔ عشروں سے پاکستان سعودی دفاعی اداروں کو تربیت دے رہا ہے لیکن حالیہ معاہدے پر رسمی اظہار مسرت سے قطع نظر کچھ سوالات جواب طلب ہیں۔
دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بھارت کے ساتھ پاکستان کی کشیدگی اس برس نچلی ترین سطح پر ہے۔ بھارتی قیادت چین اور دوحہ میں متوازی عالمی دھڑوں کے کھیل سے الگ رہی ہے۔ سوال ہے کہ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی صورت میں پاکستان تو سعودی عرب کو دفاعی مدد دے سکتا ہے، پاکستان کے خلاف جارحیت کی صورت میں سعودی مدد کی صورت کیا ہو گی؟ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک پاکستان عالمی معیشت میں چالیسویں درجے پر ہے۔ مسلم اکثریتی ممالک میں سیاسی ارتقا کے اعتبار سے نسبتاً ترقی یافتہ پاکستان میں سیاسی بندوبست غیر مستحکم ہے۔ آبادی کی شرح نمو اور معیشت کی شرح نمو قریب قریب برابر ہیں۔ صنعتی بنیاد کمزور ہے۔ انسانی ترقی کی درجہ بندی میں 193 ممالک میں پاکستان کا درجہ 168 ہے۔ تیزی سے بدلتی دنیا میں پاکستان کے داخلی، معاشی اور تمدنی وسائل محدود ہیں اور ملک میں سیاسی بندوبست ایسا مستحکم نہیں کہ پاکستان عالمی صف بندی میں کوئی اہم کردار ادا کر سکے۔ نیوکلیائی صلاحیت دفاع کی ضمانت ضرور دیتی ہے لیکن اسے جنگی ہتھیار سمجھنا عقل مندی نہیں۔
دو ملکوں میں سے کسی ایک کے خلاف جارحیت کو دوسرے کے خلاف جارحیت سمجھنا وہ معروف ضمانت ہے جو برطانیہ نے 1939 ءمیں چیکو سلواکیہ پر جرمن قبضے کے بعد پولینڈ کو دی تھی۔ اس ضمانت کا انجام تاریخ کا حصہ ہے۔ یورپ اور امریکا بظاہر طاقت کے ابھرتے ہوئے نئے مراکز سے خائف ہیں لیکن معاشی طور پر دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا اور مجموعی طور پر دوسری بڑی طاقت یورپین یونین کو کمزور سمجھنا تاریخی غلطی ہو گی۔ سیاسی اور معاشی طور پر انحراف کی سیاست حتمی نتیجے میں کامیاب نہیں ہوا کرتی۔ یہ چند اشارے ہیں۔ اجتماعی انسانی تجربے کی روشنی میں ان نکات کو سمجھنا ہو تو William Butler Yeats کی مئی 1938ء میں لکھی نظم ’Politics‘ دیکھئے۔ شاعر نے اس نظم کے سر آغاز میں تھامس مان کا ایک اقتباس دیا تھا۔ ’In our time the destiny of man presents its meanings in political terms۔‘ ۔ 1939ء میں ڈبلیو بی ژیٹس کی موت سے کوئی پانچ برس پہلے پیدا ہونے والے برطانوی ادیب Edward Bond نے ستر کی دہائی میں لکھا تھا۔ ’what we breathe is politics‘ ۔ تھامس مان اور بانڈ بنیادی طور پر ایک ہی بات کہہ رہے تھے۔ سیاست اور معیشت میں نامیاتی تعلق ہے۔ سیاست محض فیصلہ سازی کے اختیار کا نام نہیں۔ یہ شہریوں کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا عمل ہے۔ یہ وہ ثقافت ہے جس میں کسی قوم کے تمام دھارے آ کر گرتے ہیں۔ عسکری طاقت معیشت کی ضمانت نہیں دیتی اور معاشی وسائل عسکری دفاع کا متبادل نہیں ہوتے۔
ہم نے پاکستان میں سیاست، انسانی حقوق، جمہوریت اور تنقیدی شعور کو بے توقیر کر رکھا ہے۔ جدید ذہن فرد کو سیاست سے جدا کر کے نہیں دیکھتا۔ اس ضمن میں ہمارا تجربہ 14 جنوری 1949ء تک جاتا ہے جب مجلس احرار نے سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ ٹھیک پچھتر برس بعد سیاست کے ایک غیر نامیاتی پودے تحریک انصاف پر سیاسی آزمائش اتری تو عثمان بزدار، عامر کیانی، شفقت محمود، فردوس عاشق اعوان اور فیاض چوہان جیسے بلند آہنگ سیاستدانوں نے یوں سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا جیسے موسم بدلنے پر ریڑھی والا اپنا ٹھیلا دھکیل کر ’باجو کی گلی‘ سے نکل جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ہم نے دسمبر 2001ء میں حافظ سعید کے لشکر طیبہ سے لاتعلقی کے اعلان کا ذکر نہیں کیا اور نہ یہ پوچھا کہ مہاجر رہنما الطاف حسین دس برس سے خاموش کیوں ہیں۔ رہائی کے بعد سے پرویز الٰہی کہاں ہیں؟
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

