آمنہ مفتیکالمکتب نمالکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: ایک اور گم گشتہ کتاب!

کتابوں کی ساحری کا ذکر اکثر ہو جاتا ہے کیونکہ کتابیں ساحری سے باز نہیں آتیں۔ جھٹلانے والوں کو بار بار احساس دلاتی ہیں کہ ہم ہیں اور تمہاری اسی دنیا کے متوازی اپنی دنیا بسائے ہوئے ہیں۔
جب ایوب خان کی ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ چھپی تو کچھ عرصے بعد امی نے یہ کتاب ناشر سے منگوائی۔ باوجود اس کے کہ وہ گھر والوں سے چھپ چھپا کے فاطمہ جناح کو ووٹ دے کر آئی تھیں۔ لیکن کتاب کا معاملہ کچھ اور تھا۔ یہ کتاب بھی حسب معمول آتشدان کے اوپر کارنس پہ رکھ دی گئی اور شام تک سب کو علم ہو گیا کہ بڑی دلہن ایوب خان کی کتاب منگوا چکی ہیں۔ یہ زمانہ ’ایوب۔۔۔۔ ہائے ہائے‘ کا تھا۔
دن بھر کی مسکوٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ شام کو دو عزیز امی کو سمجھانے کو پہنچے کہ یہ دور برا ہے، وقت ایوب خان کے خلاف ہو چکا ہے اور آپ کے اس کتاب کو پڑھ لینے سے پتا نہیں کیا ہو جائے گا، مختصر یہ کہ کتاب یہاں سے غائب کر دیں۔یہ دونوں وہی تھے جو کچھ ہی عرصہ قبل فاطمہ جناح کی مبینہ غداری کے قصے سناتے نہ تھکتے تھے۔امی کو کتابوں سے غرض تھی۔ مذاکرات ناکام ہوئے اور کتاب وہیں رکھی رہی۔ اگلے روز جانے کس ناشدنی نے وہ کتاب وہاں سے اڑا لی۔
اس پہ برسوں بیت گئے لیکن امی کے دل سے دکھ نہ جاتا تھا۔ انھیں ان ہی دونوں پہ شک تھا کیونکہ اس زمانے میں نالائق لڑکے انگریزی کی دو ایک کتابیں ہاتھ میں رکھا کرتے تھے تاکہ سامنے والوں پہ رعب پڑتا رہے۔
’بھئی ایوب خان گھوڑے سے گر کے رکاب میں پیر پھنسائے گھسٹ رہے تھے، یہاں موڑا تھا صفحہ، آگے نہ پڑھ سکی، بے چارے کے ساتھ ہوا کیا؟‘ یہ منظر اتنی بار سنا کہ جب کسی ٹرک پہ ایوب خان کی تصویر نظر آتی تھی یہ منظر ساتھ ہی ذہن میں گھوم جاتا تھا۔
بہت بار کوشش کی کہ امی کو ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ کہیں سے لا دی جائے مگر ایوب خان کے جاتے ہی کتاب بھی پہاڑوں کے پار چلی گئی۔ نہ پری رہی نہ جنوں رہا۔
پرانی کتابیں مہیا کرنے والی ایک مہربان نے چند روز پہلے اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کی ایک کاپی مجھے بھیجی۔ لفافہ کھولا ہی تھا کہ امی نے ہاتھ سے لپک لی۔ یہ وہی کتاب تھی جو برسوں پہلے سمادھانوالہ کے کارنس سے غائب ہوئی تھی۔ صفحہ وہیں سے مڑا ہوا تھا اور فاونٹین پین سے امی کا نام بھی کونے پہ لکھا تھا۔
جانے اتنے برسوں یہ کتاب کہاں رہی اور کس کس ہاتھ سے ہوتی واپس مجھ تک پہنچی۔ امی نے بصد شوق کتاب کھولی، موتیا بند کے آپریشن کے بعد وہ اتنی باریک لکھائی نہیں پڑھ پاتیں۔
تادیر اس زمانے کا ذکر کرتی رہیں، ان سب کا ذکر جو اب نہیں رہے۔ وہ کام جو اس دور میں ہوئے، کیسے گھوڑوں کو پاجامے پہنائے گئے اور گوشت کی دکانوں پہ جالیاں لگوائی گئیں، اسلام آباد اور ریحانہ گاؤں کی قربت، وہ قدم جو ان کی خیال میں نہیں اٹھانے چاہیے تھے۔ سندھ طاس کا منصوبہ، امریکہ کو جاسوسی کے لیے اپنے فضائی اڈے دینا۔
جان ایف کینیڈی اور ایوب خان کی دوستی، مسز جیکولین کینیڈی کا وہ گلابی لباس جو کینیڈی کے قتل کے وقت انھوں نے پہنا ہوا تھا، فاطمہ جناح کے ساٹن سلک کے سفید غرارے کا ذکر، جس سے ملتا جلتا غرارہ امی صوبے خان سے سلوا کے پہنتی تھیں۔ ایک پورے عہد کی تصویر سی کھنچ گئی۔ زمانہ کارنس سے کود کر، گرد آلود کتابوں سے نکل کر ماڈل ٹاؤن کے اس کمرے میں ہمارے ساتھ آ بیٹھا اور اپنی گتھلی کھول کے جانے کیا کیا بہی کھاتے کھنگالنے لگا۔
رات گہری ہوئی تو میں جانے کو اٹھی ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ کی جلد میں نے امی کے سرہانے رکھ دی، جہاں رجنی گندھا کا گلدستہ سجا تھا۔انھوں نے مجھے آواز دے کر بلایا اور کتاب تھما دی۔ ’نظر دھندلا گئی ہے اب اتنے باریک حروف نہیں پڑھے جاتے۔ یوں بھی بیٹا! مجھے لگتا ہے ایوب خان کو جس صفحے پہ چھوڑا تھا اسے وہیں رہنا چاہیے تھا۔‘ یہ کہہ کر انھوں نے کروٹ بدل لی، مجھے یوں لگا کہ ان کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔
کچھ کتابیں برسوں کا فاصلہ طے کر کے اپنے قاری کے پاس واپس آتی ہیں لیکن تب پڑھنے کا موسم گزر چکا ہوتا ہے۔ کتاب چوروں سے التماس ہے کہ کتاب خرید کر پڑھیں آدھی پڑھی کتابوں کی بد دعا بہت بری ہوتی ہے۔ شاید ہمیں بھی کسی کتاب ہی کی آہ لگی ہے۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker