کالملکھارییاسر پیرزادہ

یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم:”نکتہ چیں ہے ،غمِ دل اُس کوسنائے نہ بنے“

ایک ہاتھ میں کافی کا مگ ہو، دوسرے میں سگار ہو، سامنے دریا کا کنارہ ہو، شب کا اندھیرا ہو ،رعنائیوں کا پہرا ہو، خامشی کا بسیرا ہواور ایسے میں اچانک کوئی غالب کی غزل گنگنا دے ’نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے ‘ تو وہ لمحے یادگار بن جاتے ہیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ غزل درست طریقے سے گائی جائے۔بر صغیر پاک و ہند کے ہر بڑے گلوکار اور گائیکہ کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ غالب کا کلام گائے لیکن غالب کی غزلوں کے بعض اشعار اور اُن کے پوشیدہ معنی اِس قدر لطیف اور باریک ہیں کہ انہیں سمجھ کر گانا کوئی آسان کام نہیں ، یہی وجہ ہے کہ عام طور سے غالب کی آسان غزلوں کو فلمی گانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، گلوکار بھی عموماً سادہ غزلیں ہی محفلوں میں سناتے ہیں اور اگر اِن میں کوئی پیچیدہ شعر آ جائے تو اسے چھوڑ دیتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر اِن آسان غزلوں میں بھی بڑے بڑے گلوکار ایسی فاش غلطیاں کر جاتے ہیں کہ جس سے شعر بے معنی ہو جاتا ہے اور کسی کو پتا ہی نہیں چلتا ۔ مثلاً سہگل صاحب اگر غالب کی غزل گائیں گے تو کس کی جرات ہے کہ اُ س میں غلطی نکالے۔ ہم نے کے ایل سہگل، ثریا، اختری بائی اور محمد رفیع وغیرہ کی گائیکی کے ساتھ ایسا ’تقدس ‘ جوڑ دیا ہے کہ کوئی اُن کی گائیکی میں نقص نکالنے کی جرات ہی نہیں کر پاتا۔ مجھ ایسا موسیقی سے نا بلد انسان اگر سہگل صاحب کی گائی ہوئی ’نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے ‘ میں کوئی غلطی نکالے گا تو ناسٹیلجیا کا شکار کچھ بزرگ لٹھ لے کر پیچھے پڑ جائیں گے کہ تم کیا جانو سہگل صاحب کی گائیکی کو ، اُن جیسا گلوکار تو ایک صدی بعد پیدا ہوتا ہے ، خبردار اگر اُن کی گائیکی کے بارے میں کچھ کہا۔لہذا فی الحال میں خود کو صرف ‘نکتہ چیں ‘ والی غزل تک محدود رکھوں گا۔
سہگل صاحب غالباً وہ پہلے گلوکار تھے جنہوں نے 1933میں فلم ’یہودی کی لڑکی ‘ میں یہ غزل ریکارڈ کروائی، اُس میں سہگل نے بطور اداکار اور گلوکار کام کیا تھا ۔ اُس وقت سے لے کر اب تک تقریباً تمام گلوکاروں نے اسی انداز میں یہ غزل گائی اور کم و بیش سب نے اِس کا پہلا مصرع ہمیشہ غلط پڑھا ۔ سہگل صاحب نے جب اسے گایا تو یوں لگا جیسے کہہ رہے ہوں کہ غم ِ دل جو ہے وہ نکتہ چیں ہے جبکہ اصل میں مصرع کچھ یوں ہے :’نکتہ چیں ہے ، غم دِل اُس کو سنائے نہ بنے ‘۔ یعنی میرا محبوب نکتہ چیں ہے ، وہ ہر بات پر تنقید کرتا ہے،کسی بات سے مطمئن نہیں ہوتا لہذا میں اُس کو غمِ دل اُس کو سنانا چاہتا ہوں مگر اُس کی نکتہ چینی کی وجہ سے بات ہی نہیں بن پاتی ۔اِس مصرع میں ’نکتہ چیں ہے ‘ کے بعد ذرا سا توقف ہے اور اس کے بعد ’غمِ دل اُس کو سنائے نہ بنے ‘ ہے جبکہ سہگل سمیت گلوکاری کے دیوتاو¿ں نے اسے یوں گایا کہ ’نکتہ چیں ہے غم ِ دل ، اُس کو سنائے نہ بنے ‘ جس سے مطلب ہی فوت ہو گیا۔فلم ’مرزا غالب‘ میں ثریا نے بھی یہ غزل ایسے ہی غلط انداز میں گائی ، بیگم اختر نے بھی یہی کام کیا اور تو اور میرے پسندیدہ محمد رفیع نے بھی نکتہ چیں کے ساتھ غم دل ملا کر گایا ، لیکن اِس غلطی کو اگر نظر انداز کردیں تو رفیع صاحب نے یہ غزل سب سے عمدہ انداز میں گائی ۔اسی طرح برطانیہ کے ایک ٹی وی چینل کے لیے سیریز ریکارڈ کی گئی جس میں دپتی نول میزبان تھیں ، اُس میں یہ غزل تین یا چار مرتبہ مختلف انداز میں ریکارڈ کی گئی ، ایک مرتبہ موسیقار روی نے خود بھی گائی ، سعید جعفری سے مشاعرے میں اداکاری کروا کے پڑھوائی گئی اور الکا یاگنک نے بھی گائی ۔ تینوں نے غلط گائی ۔ الکا نے تو خیر غزل کا بیڑہ غرق ہی کر دیا ، جس میں اُس کا کوئی قصور نہیں ، غزل کی موسیقی ہی ایسی ترتیب دی گئی تھی جو کہ غزل کے مزاج سے ہی میل نہیں کھاتی تھی ۔یہی غزل اپنے ہاں عابدہ پروین نے بھی گائی اور اپنی طرف سے یوں گائی جیسے ایک ایک لفظ سمجھ کر گا رہی ہوں مگر وہی ’نکتہ چیں ‘ والی غلطی انہوں نے بھی کی ۔ صرف دو گلوکارائیں ایسی ہیں جنہوں نے یہ غزل درست گائی اور اس کا حق ادا کردیا۔ ایک نسیم بیگم اور دوسرے بھارت کی ڈاکٹر رادھیکا چوپڑہ۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ کس نے زیادہ عمدگی سے گائی ، دونوں یو ٹیوب پر مل جائیں گی، میری رائے میں رادھیکا چوپڑہ نے اِس غزل کو گا کر کمال کر دیا ہے ،مرزا غالب اگر زندہ ہوتے تو انہی سے سننے کی فرمایش کرتے ۔رادھیکا کو پوری طرح علم تھا کہ تمام گلوکاروں نے اِس غزل میں کہاں غلطی کی ہے لہذا انہوں نے گاتے وقت خاص طور سے اِس بات کا اہتمام کیا کہ نکتہ چیں کے ساتھ غم ِ دل کو ملا کر نہ گایا جائے ۔رادھیکا موسیقی کی استاد ہیں اور انہوں نے ہندوستانی موسیقی میں ماسٹرز کیا ہوا ہے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔
میں ’نکتہ چیں ‘ نہیں ہوں کہ عظیم گلوکاروں پرتنقید کروں ، میرا مقصد خدا نخواستہ اُن کی تضحیک نہیں ، مجھے تو موسیقی کی ابجدبھی معلوم نہیں، میرا مدعا صرف یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اِن گلوکاروں کی عظمت بیان کرتے ہوئے مبالغہ آرا ئی میں اِس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ انہیں شعر و ادب کا بھی استاد سمجھ بیٹھتے ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ۔اِن گلوکاروں کو جس طرح بتایا گایا اسی طرح انہوں نے غزل گا ئی ، اُن کی گائیکی میں کوئی اور خرابی نہیں تھی ۔ادھت نرائن بھارت کے بہترین گلوکاروں میں سے ایک ہیں، ایک مرتبہ میں نے اُن کا انٹرویو سنا جس میں وہ بہت مشکل سے اٹک اٹک کر جملے بول رہے تھے ، لیکن اسی انٹرو یو میں جب انہیں گانے کے لیے کہا گیا تو یکدم اُن کی جُون ہی بدل گئی اور ایسے لہک لہک کر انہوں نے گانا گایا کہ سماں باندھ دیا۔وجہ وہی کہ فن گائیکی میں انہیں کمال حاصل ہے لیکن کسی اور شعبے کا انہیں زیادہ علم نہیں،اور یہ بالکل بھی معیوب بات نہیں جس پر تنقید کی جائے ۔ناہید اختر نے غالب کی مشہور غزل ’جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں ‘ گائی ہے اور کیا عمدگی سے گائی ہے لیکن اگر آپ آج ناہید اختر کو بٹھا کر پوچھیں کہ ’ترے سروِ قامت سے یک قد آدم، قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں ‘ والے شعر کا کیا مطلب ہے تو شاید وہ نہ بتا سکیں۔ اسی غزل کو غلام علی نے بھی گایا ہے اور غزل برباد کرکے رکھ دی ہے ، کسی محفل میں موصوف یہ غزل گانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پہلے شعر سے ہی آگے نہیں نکل پا رہے ، اُس پر طرہ یہ ہے کہ حاضرین کو ’خیاباں خیاباں ‘ کا مطلب ’کہیں کہیں ‘ بتا رہے ہیں ۔قصور گلوکاروں کا نہیں بلکہ اُن لوگوں ہے جو اِن تمام عظیم فنکاروں کو گلوکاری کے درجے سے اٹھا کر شعر و ادب کے استاد کے درجے پر بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اور یہ غلطی ہم اکثر کرتے ہیں ۔ کسی ایک میدان اگر کوئی شخص عروج حاصل کرلے اور ہمارا ہیرو بن جائے تو ہم اسے تمام شعبوں کا ماہر سمجھ کر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوگا۔بعد میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ اسے تو نکتہ چیں کے بعد توقف کرنے کا بھی علم نہیں تھا ۔
ایک ہاتھ میں کافی کا مگ ہو، دوسرے میں سگار ہو، دریا کا کنارہ ہو، شب کا اندھیرا ہو ،رعنائیوں کا پہرا ہو، خامشی کا بسیرا ہواور ایسے میں اچانک کوئی غالب کی غزل گنگنا دے ’نکتہ چیں ہے، غم دل اس کو سنائے نہ بنے ‘ تو وہ لمحے یادگار بن جاتے ہیں!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیاگیا کالم)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker