مصر کے شہر شرم الشیخ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرنگرانی مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کے بعد خطے کے لیے ایک نئی امید کا اعلان اور مرید کے میں پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج منتشر کرنے کی کارروائی گزشتہ چوبیس گھنٹے میں سامنے آنے والی اہم ترین خبریں ہیں۔ تاہم حیرت انگیز طور پر ان دونوں معاملات میں مستقبل کی پیش گوئی ممکن نہیں ہے۔
پاکستان اور اس کے وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے بھی یہ دن اس لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل رہا کہ امریکی صدر نے دنیا بھر کے بیس سربراہان کی موجودگی میں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی توصیف کی اور امن معاہدہ میں ان کے کردار کو سراہا۔ بلکہ انہوں نے اس موقع پر موجود شہباز شریف کو حاضرین سے خطاب کی دعوت دی اور خود ’مربیانہ‘ انداز میں پاکستانی وزیر اعظم کو دیکھتے رہے۔ اس کی ایک سادہ سی وجہ شہباز شریف کی رطب اللسانی بھی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر ٹرمپ کی امن دوستی کی توصیف کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں نوبل کا امن انعام ملنا چاہئے۔ امریکی صدر اس انعام کی خواہش میں گزشتہ کئی ماہ سے ہر فورم سے لابی کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم اس سال تویہ انعام انہیں تو نہیں ملا۔ البتہ انعام جیتنے کے بعد وینزویلا کی سیاسی لیڈر ماریاکورینا مچاڈو نے اسے ٹرمپ کے نام کرنے کا اعلان کرکے ان کی دل جوئی کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ہونے والا امن معاہدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی فارمولے پر مشتمل ہے۔ اس کی توثیق پاکستان سمیت متعدد مسلمان و عرب ممالک نے کی ہے۔ اسی منصوبے کے دو نکات پر عمل درآمد کے تحت حماس نے اسرائیل کے بیس زندہ یرغمالی واپس کردیے ہیں ۔ اس کے جواب میں اسرائیلی جیلوں سے دو ہزار کے لگ بھگ فلسطینی رہا ہوئے ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی ہوگئی ہے اور اسرائیلی فوج ٹرمپ منصوبہ میں مقرر کی گئی حدود میں واپس آگئی ہے۔ اگرچہ غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی فوری مسائل تھے جن پر عمل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا خواب دیکھنا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ البتہ یہ مقصد جس بیس نکاتی معاہدے کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے، اس کے باقی نکات پر عمل درآمد سے ہی مشرق وسطیٰ میں عبوری یا مستقل امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
پرجوش تقریروں اور ایک دوسرے کی توصیف کرنے کے ماحول میں ابھی یہ سوال تو نہیں اٹھایا گیا کہ جنگ بندی، یرغمالیوں کی واپسی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بعد اب حماس کے ساتھ معاملات کیسے طے کیے جائیں گے۔ ایک طرف ٹرمپ منصوبہ غزہ میں حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ وہاں کی سیاست و انتظام میں حماس کا اب کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اسی دوران البتہ یرغمالیوں کی رہائی کے پہلے مرحلے میں ہی یہ خبریں بھی سامنے آچکی ہیں کہ حماس نے اپنے 7 ہزار کارکنوں کو طلب کرلیا ہے تاکہ غزہ کا انتظام سنبھالا جاسکے اور وہاں پہنچنے والی عالمی امداد تقسیم کرنے کی نگرانی ہوسکے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ گروہ کس بنیاد پر اور کس کے سامنے ہتھیار پھینکے گا اور غزہ کے انتظام کے لئے قائم ہونے والی عبوری اتھارٹی کیسے کام شروع کرے گی۔
قیاس کیاجاسکتا ہے کہ شرم الشیخ میں ہونے والی تقریب کے فوری بعد اب اس سلسلہ میں کام کا آغاز ہوجائے گا۔ تاہم اس سارے عمل میں شامل فریقین نے پورے منصوبے کے بارے میں حماس سے واضح اقرار نہ کرایا تو اس گروہ کے غیرمسلح ہونے کا مرحلہ جاں گسل ہوسکتا ہے جس میں غزہ کا امن سے سب سے پہلے نشانے پر ہوگا۔ حماس لیڈروں کے جو بیانات اب تک سامنے آئے ہیں اور یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی قیدیوں کی فہرستیں تیار کرنے کے سوال پر حماس کی طرف سے مذاکرات کرنے والے نمائیندوں نے جیسے حجت اور لیت و لعل سے کام لیا ہے، ا س کی روشنی میں غیر مسلح ہونے اور تمام ہتھیار ضائع کرنے کے سوال پر ہونے والی بات چیت بے یقینی کا شکار رہے گی۔ ابھی تک غزہ میں کوئی ایسی فورس موجود نہیں ہے اور نہ ہی امن قائم کرنے والی کسی ایسی عالمی فوج کی قوت اور مینڈیٹ کا اعلان ہؤا ہے جو زمینی سطح پر حماس کے ہر جنگجو سے ہتھیار لے اور گولہ بارود کے ذخیروں کی نشاند ہی کرکے انہیں ضائع کیا جاسکے۔
صدر ٹرمپ نے آج مشرق وسطیٰ کے دورہ کے دوران پہلے اسرائیلی کینیسٹ اور بعد میں شرم الشیخ کی امن تقریب میں جو تقریریں کی ہیں، اس میں حسب عادت خوبصورت اور زوردار الفاظ میں امن و بہبود کی بات کی گئی ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے جو مسئلہ سب سے پہلے حل ہونا چاہئے، یعنی فلسطینیوں کی ریاست کا قیام، اس بارے میں ٹرمپ مسلسل خاموش ہیں۔ چند روز پہلے ایک سوال کے جواب میں وہ کہہ چکے ہیں کہ دو ریاستی حل کے بارے میں ان کی کوئی رائے نہیں ہے۔ اسی طرح آج جب وہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کررہے تھے تو کینیسٹ میں اپوزیشن کے دو ارکان نے ’فلسطین کو تسلیم کریں‘ کے بینر نمایاں کرکے اس اہم پہلو کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے اس معاملہ پر تو کچھ نہیں کہا لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے جب ان دونوں ارکان کو اجلاس سے نکال دیا تو وہ ان کی مستعدی کی تعریف کرنا نہیں بھولے۔ حالانکہ ان دو ارکان نے جو بنیادی نکتہ اٹھایا ہے، اسے شرم الشیخ میں شریک ہونے والے تمام لیڈروں یاکم از کم مسلمان لیڈروں کو ضرور اس کا ذکر کرنا چاہئے تھا۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو ٹرمپ کی مہربانی سے اس موقع پر خطاب کرنے کا موقع ملا تھالیکن انہوں نے بھی امریکی صدر کی شان میں خوشامدی فقرے کہہ کر امریکہ کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرنے کی اپنی سی کوشش کرلی۔ فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کا اعلان زبانی دعوے سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
اس سارے معاملے میں اس ستم ظریفی کو بھی کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ آج جو امریکی صدر ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کا کریڈٹ لینے لیے خاص طور سے مشرق وسطیٰ پہنچا ہے، اسی کی مدد اور حوصلہ افزائی سے اسرائیل نے گزشتہ ایک سال کے دوران غزہ میں انسانی خون سے ہولی کھیلی اور دنیا کا کوئی ادارہ یا اصول اس کا ہاتھ روکنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ ٹرمپ حکومت نے غزہ میں نسل کشی کے سوال پر کبھی نیتن یاہو کی سرزنش نہیں کی۔ امریکہ نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی ہر قرارداد ویٹو کرکے غزہ میں اسرائیل کی ناجائز فوج کشی کو جاری رکھنے میں کردار ادا کیا۔ بلکہ امریکی امداد سے ہی اسرائیل ،لبنان، یمن، شام ، عراق وایران کے خلاف جگجوئی میں کامیاب ہؤا۔ جب ٹرمپ کو محسوس ہؤا کہ اب جنگ بند ہونی چاہئے تو چند مسلمان ملکوں کو ساتھ ملا کر ایک منصوبے کی آڑ میں خود ہی امن کا چیمپئن بن بیٹھا ہے۔ حالانکہ یہ واضح ہونا چاہئے کہ کوئی ایسی امن دستاویز مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کی بنیاد نہیں بن سکتی جس میں فلسطینی ریاست کا ٹھوس منصوبہ شامل نہ ہو۔
اس دوران پاکستان میں فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کے نام پر ایک فسادی ٹولے تحریک لبیک پاکستان نے جمعرات کو لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ گروہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے باہر دھرنا دینا چاہتا تھا۔ تشدد اور شر انگیزی کے اندیشے کی وجہ سے گزشتہ کئی دن سے اسلام آباد میں رکاوٹیں لگانے کا سلسلہ جاری تھا اور دوسری طرف جی ٹی روڈ پر متعدد مقامات پر خندقیں کھود کر مظاہرین کا راستہ روکنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ سعد رضوی اور اس کے ساتھیوں کو بتایا گیا کہ غزہ میں جنگ بندی ہوگئی ہے، اس لیے اب اس سوال پر احتجاج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن مذہب کو فرقہ وارانہ منافرت اور تشدد کے طور پر اپنانے والے اس گروہ نے کسی حجت کو ماننے سے انکار کردیا ۔حتی کہ اتوار کی رات افغانستان نے پاکستان پر حملہ کردیا اور سکیورٹی فورسز کو ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا لیکن ٹی ایل پی کی قیادت پر کوئی اثر نہ ہؤا۔ بالآخر حکام نے آج رات مرید کے میں ڈیرے ڈالے ہوئے اس ہجوم کو منتشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ایکشن کے جواب میں مظاہرین نے ڈنڈوں ، نوکیلے ہتھیاروں اور بارودی اسلحہ سے پولیس کا مقابلہ کیا اور ایک ایس یچ او جاں بحق اور تین درجن کے لگ بھگ پولیس والےزخمی ہوگئے۔ پولیس کارروائی میں لبیک تحریک کے تین کارکن اور ایک راہ گیر جان سے گیا۔
اب لبیک تحریک کے لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمے قائم کرکے انہیں گرفتار کیا جارہا ہے۔ پنجاب حکومت کی بروقت کارروائی سے ملک ایک نئے تصادم سے محفوظ رہا ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ہجوم منتشر کرنے اور لیڈروں کہ چند دن کے لیے عارضی گرفتار کے بعد یہ منفی مہم جوئی اور مذہب کے نام پر سیاست کا سلسلہ بند ہوجائے گا؟ گزشتہ ایک دہائی میں ٹی ایل پی ایسے متعدد مظاہروں کا اہتمام کرچکی ہے ۔ ایک بار تو اس پر پابندی لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا لیکن پھر سیاسی افہام و تفہیم کے نام پر ایسے فیصلے تبدیل کیے جاتے رہے ہیں۔
اب بھی حکومت نے اگر ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مضبوط محاذ بنانے اور سیاست میں مذہبی نعرے لگا کر عوام کو گمراہ کرنے والے گروہوں کی بیخ کنی کا مصمم ارادہ نہ کیا تو مریدکے میں ہونے والا ایکشن بھی عارضی ثابت ہوگا ۔ کچھ عرصے بعد کسی نئے نعرے کے ساتھ تخریبی عناصر ایک بار پھر سرگرم دکھائی دیں گے۔
( بشکریہ :کاروان۔۔ناروے )
فیس بک کمینٹ

