غضنفر علی شاہیکالملکھاری

غضنفر علی شاہی کا کالم:جنوبی پنجاب کے ساتھ زیادتیوں کی طویل فہرست

صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہےاور اس صوبے میں اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی جماعت ملک میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوتی ہے۔اس لئے ہر سیاسی جماعت کی توجہ اس صوبہ پر مرکوز ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں یہ سیاسی سوچ تو نہ ابھر سکی کہ ملک کے یونٹس یعنی صوبوں کو آبادی کے لحاظ سے تقریبا” مساوی ہونے چاہئیں تا کہ بڑا صوبہ چھوٹے صوبوں کی حق تلفی نہ کرسکے اور چھوٹے صوبے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔ نہ جانے کیوں کسی بھی سیاسی جماعت نے اس بیانیے کو اپنا انتخابی نعرہ نہیں بنایا لیکن صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے کے عوام نے اپنے احساس محرومی اور مسلسل ترقیاتی کاموں میں نظر انداز کئے جانے پر آواز اٹھائی۔مقامی سیاسی جماعتوں نے پنجاب کی صوبائی حکومت کو تخت لاہور کا نام دیا اور جنوبی پنجاب اور سرائیکی صوبہ کے قیام کی آواز اٹھائی۔اس سوچ کو عوام میں پذیرائی بیرسٹر تاج لنگاہ مرحوم سینئر جرنلسٹ خان رضوانی مرحوم منصور کریم اور حمید اصغر شاہین اور ماسٹر خالد مرحوم کی کاوشوں کا نتیجہ ہےجبکہ اس سوچ کو پختہ کرنے میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نواز شریف شہباز شریف اور غلام حیدر وائیں کے اقدامات بھی نظر انداز نہیں کئے جا سکتے۔
موجودہ حکومت نے جنوبی پنجاب کے عوام کی رائے اور مطالبہ کا احترام کرتے ہوئے کچھ بنیادی اقدامات کئے ہیں ۔ان میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی خود مختار حیثیت اور رولز آف بزنس کی منظوری ہے جبکہ ملازمتوں میں جنوبی پنجاب کا کوٹہ مختص کرنا ایک انقلابی اقدام ہے اس اقدام کے سبب نوجوانوں کی ملازمتوں میں حق تلفی کا فوری ازالہ ہو گا۔ارکان اسمبلی کا اس سوچ کے پنپنے میں نہ ہی پہلے کوئی کردار تھا اور نہ ہی آئندہ وہ ادا کریں گے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کو ہی صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام تک جدوجہد کرنا ہو گی اور ارکان اسمبلی اور سیاستدانوں کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ صوبے کے قیام کیلئے عوامی امنگوں کی ترجمانی کریں۔
چند سال قبل میں نے اپنے ایک دوست رکن صوبائی اسمبلی سے پوچھا کہ ارکان اسمبلی صوبہ پنجاب کی جدوجہد میں عملی اقدامات کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی بننے کے بعد ہماری تمام دلچسپی بھی صوبائی دارالحکومت منتقل ہو جاتی ہے۔فیملی وہاں منتقل بچوں کی تعلیم وہاں اور فیملی کے علاج معالجے کی وہاں بہتر سہولیات میسر ہوتی ہیں۔بس حلقہ انتخاب کی وجہ سے حلقے میں رابطہ رکھنا پڑتا ہے جبکہ حلقے کے لوگوں کے کام بھی لاہور بیٹھے آسانی سے کروا دیتے ہیں گویا وہ اس علاقے کے لوگوں کا ووٹ لے کر ترقی یافتہ شہر کی سہولیات انجوائے کرتے ہیں۔اپنے اس موقف کو تقویت دینے کیلئے کہ جنوبی پنجاب کو پسماندہ رکھنے میں ہمارے پارلیمنٹیرینز کا بہت کردار ہے دو واقعات پیش نظر کرتا ہوں۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں مرحوم جو میاں چنوں سے تعلق رکھتے تھے اور درویش وزیر اعلیٰ مشہور تھے۔انہوں نے ضلع راجن پور کے ترقیاتی فنڈز لاہور کے پارکس اور گراؤنڈز کے گرد گرل لگانے کیلئے لاہور منتقل کر دیئے۔میں اس وقت نوائے وقت میں رپورٹر تھا اس بارے خبر دی تو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے خبر کی تردید جاری کی گئی جس پر اگلے روز میں نے فنڈز منتقل کرنے کے احکامات کا لیٹر اور خبر شائع کر دی جس پر خاموشی چھاگئی۔اسی طرح ملتان چلڈرن کمپلیکس کے فنڈ لاہور منتقل کر دیئے گئے۔نوائے وقت میں خبر دی تو گورنر پنجاب کی طرف سے تردید آگئی جس پر فنڈز منتقلی کے احکامات کا لیٹر اور خبر دوبارہ شائع کی۔اس دوران ملتان پریس کلب کی طرف سے دی جانے والی افطاری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ارکان اسمبلی سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی کے اہم ارکان شرکت کرتے تھے۔اس تقریب سے بطور صدر پریس کلب میں نے خطاب کرتے ہوئے ملتان چلڈرن کمپلیکس کے فنڈز کی لاہور منتقلی پر احتجاج کیا تو مخدوم جاوید ہاشمی نے خطاب کرتے دعویٰ کیا کہ وہ یہ کبھی نہیں ہونے دیں گےلیکن وہی ہوا فنڈز لاہور منتقل کر دیئے گئے اور لاہور میں چلڈرن کمپلیکس بن گیا اور جنوبی پنجاب کے عوام ارکان اسمبلی کا منہ دیکھتے رہ گئے۔ایک اور واقعہ بھی یہ ثابت کرے گا کہ ہمارے ارکان اسمبلی جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سابق رکن صوبائی اسمبلی مولوی سلطان عالم نے مجھے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انہیں کہا کہ مجھے تو نہیں اسمبلی نے آج تک ملتان کیلئے کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا۔اور مولوی سلطان عالم مرحوم نے انہیں ملتان کرکٹ سٹیڈیم انڈر پاس جنرل بس سٹینڈ اور کچہری فلائی اوور کا منصوبہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو دیا اور یہ منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچےلیکن جنوبی پنجاب کے عوام کو جو ترقیاتی منصوبے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے دیئے وہ ایک ریکارڈ ہیں مگر جنوبی پنجاب اور خصوصا” ملتان کے عوام نے وفا شعار ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے لیکن عوام نے ووٹ کی صورت میں انہیں صلہ نہیں دیا۔کسی اور کو ہو نہ ہو مجھے یہ دکھ رہے گامیں چاہتا تھا ملتان کے معروف سیاستدانوں مخدوم جاود ہاشمی اور مخدوم شاہ محمود قریشی کے ترقیاتی کاموں کا بھی ذکر کرتا لیکن عمر کے اس حصے میں یاد داشت کمزور ہو جاتی ہے کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ یاد نہیں آیا۔ کسی کو یاد آ جائے تو مجھے خبر کرنا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker