غضنفر علی شاہیکالملکھاری

غضنفر علی شاہی کا کالم ؛ پولیس محافظ یا ڈاکوؤں کی سرپرست ؟

پولیس میں شاید اچھے لوگ بھی ہوں لیکن اکثریت ڈکیتوں اور جیب کتروں کی سرپرستی کرتی ہے۔ رشوت تو ہر شعبے میں اب معمول بن گئی ہے لیکن جرائم پیشہ افراد کی قانون نافذ کرنے والوں کی طرف سے سرپرستی جرائم کو پنپنے میں بڑا بھیانک کردار ادا کرتی ہے یہ الزام عائد کرتے ہوئے چند ثبوت بھی پیش کروں گا جس طرح پولیس سے عام آدمی خوف زدہ رہتا ہے مجھے بھی ان سے خوف آتا ہے لیکن خوف میں سچ کہنے کا اپنا ہی مزہ ہے میرا موبائل گم ہو گیا۔ ہر موبائل رکھنے والے کو علم ہو گا کہ موبائل گم ہونے سے بندہ خود کو خالی خالی اور نا مکمل سمجھنے لگتا ہے۔ ایسی ہی میری کیفیت تھی مجھے اپنی فیملی کے کسی فرد کا سیل نمبر یاد نہیں تھا کہ گھر والوں سے پوچھ سکتا کہ موبائل گھر تو نہیں رہ گیا۔ملتان پریس کلب سے دوست کپتان جاوید کو ساتھ لیا اور 10 کلومیٹر طے کر کے گھر پہنچا۔لیکن گھر پر موبائل نہ ملا۔پھر یاد آیا کہ پریس کلب جاتے ہوئے ایک موبائل کی دکان پر رکا تھا اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ کیمرہ بیک کرکے دیکھتا ہوں بس پھر کیا تھا کیمرے میں واضح نظر آ گیا کہ ایک نوجوان جیب کترا انتہائی مہارت سے میری جیب سے موبائل نکال رہا ہے۔ ملزم کی تصویر میں نے دوست کے موبائل میں فیڈ کی اور مختلف دوستوں کو بھیجی۔چند منٹوں کے بعد ہی مال پلازہ سے کپتان جاوید کے کزن کا فون آیا کہ یہ جیب کترا ابوبکر عرف بکرا ہے۔ان سے جیب کترے کی رہائش پوچھی تو انہوں نے کہا کہ معلوم کر کے کل بتاؤں گا۔لیکن ان کی مہربانی کہ نصف گھنٹہ بعد انہوں نے بتایا کہ یہ جیب کترا بستی لنگڑیال رہتا ہے۔ یہ علم ہوتے ہی میں عامر چانڈیو اور کپتان جاوید بستی لنگڑیال پہنچے۔ایک چائے کے ہوٹل والے کو تصویر دکھائی تو اس نے فوری کہا کہ آپ کی جیب کٹی ہے۔ جواب سنے بغیر اس نے کہا کہ یہ ابوبکر عرف بکرا ایک بدنام جیب کترا ہے۔اس نے جیب کترے کا گھر بھی دکھا دیا۔
وہاں سے واپس تھانہ مظفر آباد آئے۔تمام حالات بتائے۔ درخواست گزاری لیکن جیب کترے کا نام پتہ بتانے اور تصویر دکھانے کے باوجود 15 یوم گزرنے کے باوجود پولیس کی روایتی ٹال مٹول جاری رہی۔ بالآخر سی پی او کو کہنے کے بعد ایس ایچ او مظفر آباد کا فون آیا کہ آج رات کو سب انسپکٹر اللہ بخش عرف مروڑی ملزم کے گھر چھاپہ مارے گا آپ تھانہ آ جائیں۔میں نے کہا کہ میں ملزم کے گھر پہنچ جاؤں گااور جب رات وہاں پہنچا تو اللہ بخش مروڑی فون پر ملزم کے والد سے کہہ رہے تھے کہ “ہن ساڈے وسوں باہر تھی گئے کل موبائل پچاؤ۔” اور گلے دن 9 بجے ہی اللہ بخش کی کال آ گئی کہ موبائل لے جائیں۔میں نے ملزم کا پوچھا تو جواب ملا وہ قابو نہیں آیا۔ پولیس کے اختیارات ملاحظہ کریں 30 سال صحافت میں گزارنے کے باوجود نہ ملزم گرفتار کرا سکا اور نہ ہی جیب کترے پر پرچہ درج ہوااب دوسرا واقعہ پیش خدمت ہے۔ میں بستی ریتڑ نزد بہاولپور بائی پاس چوک کیٹل فارم گیا وہاں ڈکیتی ہو گئی۔ چند روز بعد میرے ملنے والے ایک انسپکٹر پولیس مقبول چانڈیو نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میں نے خبر پڑھی ہے میں اس علاقے کے مویشی چور اور ڈکیت بلا رہا ہوں۔آپ اپنے وہ ملازم جو ڈکیتوں کو پہچان سکیں لے کر شام پانچ بجے وہاڑی روڈ پر فلاں ہوٹل پر آ جائیں۔میں پہنچا تو 17 ڈکیت موجود تھےلیکن ملازم کسی کو شناخت نہ کر سکے لیکن انسپکٹر پولیس اور ڈکیتوں کی گپ شپ سن کر ذہن میں ایک پختہ یقین لئے واپس روانہ ہوا اور یہی وہ یقین ہے جس بنا پر لکھ رہا ہوں کہ پولیس ڈکیتوں اور جیب کتروں کی سرپرستی کرتی ہے اور وہی ابو بکر عرف بکرا جیب کترا کچھ دن پہلے گارڈن ٹاؤن کے قریب آٹا خریدنے کے قطار میں جیب کاٹتے ہوئے پکڑا گیا۔لوگوں نے پکڑ کر پولیس تھانہ قطب پور کے حوالے کیالیکن اب بھی آزاد وارداتیں کر رہا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker