اظہر سلیم مجوکہکالملکھاری

گو کرونا گو : ہے خبر گرم / اظہر سلیم مجوکہ

کورونا جیسے موذی مرض کے خاتمے کیلئے عالمی اور قومی سطح پر حکومت اور عوام خاصے فعال ہیں ایک طرف کورونا کی روک تھام کے لیے حکومت آئے روز کھچڑی پکاتی رہتی ہے تو دوسری طرف عوام کے سامنے اس کی دال گلتی نظر نہیں آتی اب تو عدالت عظمی نے بھی کورونا پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کی ہفتہ ، اتوار کی چھٹی بند کرا دی ہے اور عید تک عوام کو عید خریداری کی کھلی چھٹی مل گئی ہے حکومتی لاک ڈاﺅن میں مزید نرمی ہو گئی ہے اور عوامی حلقے اب کھل کر کھیلتے نظر آ رہے ہیں فلائٹس شیڈول بھی جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے اور ریل گاڑی چلانے کی وسل بھی دے دی گئی ہے۔
کورونا کے اس کھیل میں ایک نہیں کئی ریفری اب میدان عمل میں ہیں۔ پاکستانی عوام کے ہاتھوں تو کورونا کی خوب درگت بنائی جا رہی ہے موسم کی گرمی اور عوامی ہٹ دھرمی کے آگے کورونا بھی اب بے بس نظر آنے لگا ہے جبکہ مختلف حلقوں کی طرف سے ”گو کورونا گو “اور ”جا کرونا جا “ کا نعرہ مستانہ بھی لگایا جا رہا ہے۔
کورونا کی عالمگیر مقبولیت کے پیش نظر جہاں کئی مصنوعات کے نام کورونا پر رکھے جا رہے ہیں وہاں گمان ہے کہ آنے والے الیکشن میں کوئی نہ کوئی سیاسی پارٹی میدان مارنے کیلئے کورونا کا انتخابی نشان بھی مانگ لے گی بہرحال ابھی تک کورونا کے ہاتھوں کئی اموات ہو چکی ہیں اور کورونا اپنے کاری وار جاری رکھے ہوئے ہے۔ کورونا کے وار روکنے کیلئے حکومت اپنی حکمت عملی تو وضع کرتی ہے لیکن اس حوالے سے اس کے جو فیصلے سامنے آتے ہیں اس پر عوامی حلقوں میں خاصی لے دے شروع ہو جاتی ہے اور ”خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے“کے مصداق پھر سے بحث و مباحثے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ قومی ایئر لائن آپریشن کی اگرچہ بحالی ہو چکی ہے لیکن بیرون ملک بسلسلہ ملازمت مقیم پاکستانیوں کے عید پر وطن واپسی کیلئے فلائٹس کا کوئی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔
پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کیلئے حکومت اور ٹرانسپورٹر کے درمیان جو قواعد و ضوابط طے ہوئے تھے اس پر ٹرانسپورٹر حضرات متفق نہیں ہیں۔ حالانکہ حکومت کی یہ منطق درست ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں واضح کمی کی وجہ سے کرایوں میں بھی کمی ہونا چاہیے جبکہ پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی کرایوں میں از خود اضافہ کر دیا جاتا ہے اسی طرح سماجی فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی شرط دو سیٹوں پر ایک مسافر بٹھانے پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے ہاں اوور لوڈنگ اور بسوں کی چھتوں پر سواریاں بٹھانے کی روایات قائم ہو چکی ہیں ۔
پورے رمضان المبارک میں حکومت مہنگائی کے جن کو قابو کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور منافع خوروں نے نیکیوں کے اس موسم بہار میں خوب چاندی بنائی ہے۔ اب شنید ہے کہ حکومت نے ہفتے میں دو دن سکول کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن طلباءو طالبات کے بغیر تو معاملہ
”اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا“ والا ہی نظر آتا ہے ۔ اساتذہ تعلیمی اداروں میں طلباءکے بغیر آ کر کریں گے بھی تو کیا۔ ایک دوسرے کی صورتیں دیکھنے کے تو وہ پہلے بھی روادار نہیں ہیں اسی گو مگو کی صورت حال میں حکومت مارکیٹ کو زیادہ دیر تک کھولنے پر بھی غور کر رہی ہے حالانکہ تاجر برادری اگر صبح 9 سے شام 5 بجے تک کے اوقات پر عملدرآمد کرے تو اس کے کئی دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔
بہرحال ان تمام باتوں کے باوجود ہر شخص یہ چاہ رہا ہے کہ کورونا کی وبا کا جلد خاتمہ ہو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں لوگوں نے خدا کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں بھی مانگی ہیں اب خدا کرے کہ عوام کو اس وبا سے جلد نجات ملے۔
ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں عوام نے اربوں روپے کی خریداری کی ہے اور عید کو بھی بھرپور طریقے سے منانے کیلئے اپنے ارمان پورے نکالنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس مرتبہ عید روایتی طور پر منانے کی بجائے سادگی سے منائی جائے اور عید کی خوشیوں میں ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں کو شامل کیا جائے۔ ہم میں سے ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ اب لوگوں کے رویے ٹھیک ہو گئے ہیں۔ لوگ سچ بولنا اور پورا تولنا شروع کر رہے ہیں ، ایک دوسرے کو دھوکہ دینا بند کر دیا گیا ہے ، دلوں کی نفرتیں اور آپس کا نفاق ختم ہو گیا ہے ادارے میرٹ پر فیصلے کرنے لگے ہیں لوگوں کا ظاہر اور باطن ایک ہو گیا ہے۔ لوگ کورونا کی تباہ کاریوں اور ہولناکیوں سے ڈر گئے ہیں اور صراط مستقیم پر چلنے لگے ہیں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی سے توبہ کر لی ہے معاشرے سے چوری چکاری، ڈاکہ، قتل و غارت گری اور دوسرے جرائم کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے ۔ اس لیے اب کورونا کو بھی دم توڑنے نظر آنا چاہیے اسے اس معاشرے سے واپس چلے جانا چاہیے جہاں لوگوں نے ان ساری خرافات سے توبہ تائب ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ کاش ایسا ممکن ہو اور ہم علی اعلان اور ببانگ دہل کورونا سے واپسی کا مطالبہ کر سکیں اور سینہ سپر ہو کر اس کے مقابل کھڑے ہو سکیں اور یہ کہہ سکیں
باطل سے دبنے والے اے کورنا نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحان ہمارا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker