کالمگل نوخیز اخترلکھاری

عقل بند لوگوں کی نشانیاں۔۔گل نو خیز اختر

یہ حسِ لطافت سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔ لطیفہ بھی سنیں تو ہنسنے کے بجائے لطیفے کی صداقت پر سوال اُٹھا دیتے ہیں۔ مثلاً آپ انہیں اگر وہ ماچس والا لطیفہ سنائیں کہ ’ایک اُستاد نے شاگر د سے پوچھا کہ توانائی کسے کہتے ہیں؟ جواب آیا ’جس توے پر نائی بیٹھا ہو‘ تو یہ لطیفہ سن کر فوراً سوال داغ دیں گے ’کس اسکول کا ٹیچر تھا یہ؟‘۔ ان کی نشانی ہے کہ یہ ہر وقت بونترے بونترے پھرتے ہیں۔ کسی کی آدھی بات سن کر فوراً پورا مطلب نکال لیتے ہیں۔ یہ میٹرک میں اس لیے سائنس نہیں رکھتے کہ ہم نے کون سا سائنسدان بننا ہے۔ تاہم عملی زندگی میں یہ کورونا سے لے کر ہوائی جہاز کے حادثے تک کی ٹیکنیکل وجوہات کے بارے میں جانتے ہیں۔ یہ اے ٹی ایم کے باہر کھڑے ہوں تو بار بار شیشے میں سے اندر جھانک کر دیکھتے ہیں اور پھر برا سا منہ بنا کر باقی لوگوں سے کہتے ہیں ’’پتا نہیں اندر کیا کر رہا ہے‘‘۔ یہ دکان سے دو ٹافیاں بھی خریدیں تو ڈبل شاپر کی فرمائش کر دیتے ہیں۔ ان کو اپنے موبائل پر کوئی تصویر دکھائی جائے تو یہ فوراً موبائل اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور جلدی سے سوائپ کرتے ہوئے دیگر تصاویر دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ کسی کو پہلی بار فون کریں تو اپنا نام بتانے کے بجائے دوسرے کی تفصیلات پوچھنے لگتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس اِن کا نمبر محفوظ نہ ہو اور وہ نامعلوم نمبر سمجھ کر فون نہ اٹھائے تو یہ کالیں کر کرکے مت مار دیتے ہیں لیکن کبھی ایک میسج کرکے اپنا نام بتانے کی زحمت نہیں کرتے۔ اگلا بادل نخواستہ فون اٹھا لے تو اسٹارٹ ہی کوئز سے کرتے ہیں ’’پاجی پہچانا؟‘‘۔ ان سے کبھی رانگ نمبر مل جائے تو اگلے بندے کی تصدیق کیے بغیر ہیلو کا لفظ سنتے ہی سارا مدعا بیان کردیتے ہیں۔ اِنہیں ہر وہ پرفیوم پسند ہوتا ہے جس کی خوشبو پانچ یونین کونسلوں تک جائے۔ یہ ہمیشہ جینزکی پینٹ کو ’زِین کی پینٹ‘ کہتے ہیں۔ یہ کسی جنازے میں بھی جائیں تو میت کو دفنانے کے بجائے دیگر قبروں میں دلچسپی ظاہر کرنے لگتے ہیں ’’پاجی یہ دیکھیں ایک جیسی تین قبریں۔ میرا خیال ہے ایک ہی فیملی کی ہوں گی‘‘۔ یہ قل خوانی میں شریک ہوں تو اُسے بھی گٹکیں پڑھنے کا مقابلہ سمجھتے ہیں لہٰذا سب سے بڑی ڈھیری لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔
شادی میں شریک ہوں تو کھانا کھلتے ہی قورمے کی ڈش کے سامنے ہی پلیٹ میں ڈال کر کھانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ بار بار نہ آنا پڑے۔ کھانے کے بعد بوتل کا پہلا گھونٹ لیتے ہی اعلان کردیتے ہیں ’’دو نمبر ہے‘‘۔ بازار میں کوئی بندہ شوارما کھا رہا ہو تو یہ بڑے آرام سے پاس جاکر انکشاف فرماتے ہیں ’’پاجی! ایہہ مری ہوئی مرغیاں دا ہوندا جے‘‘۔ اِنہیں اپنے مسلک، اپنے فرقے، اپنی سیاسی وابستگی پر اندھا یقین ہوتا ہے اور مخالف کو نفرت کے بدترین درجے پر فائز کر لیتے ہیں۔ یہ بیٹھے بٹھائے وٹس ایپ گروپ بناتے ہیں اور ڈیڑھ سو بندوں کو بغیر اطلاع دیے ایڈ کر لیتے ہیں۔ عموماً اِن کے وٹس ایپ گروپ کے نام کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں رشید لورز، آج کی بات، علم کی دُنیا وغیرہ۔ تاہم یہ جس موضوع پر گروپ بناتے ہیں حرام ہے جو وہاں اُس حوالے سے کوئی پوسٹ بھی مل جائے۔ گروپ اگر ’’علم کی بات‘‘ ہے تو آدھی سے زیادہ پوسٹیں ٹک ٹاک کی وڈیوز سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کے گروپ میں سب سے زیادہ وہ والے میسجز ہوتے ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں فلاں بندہ گروپ چھوڑ گیا ہے۔ یہ ہمیشہ ایسا کاروبار کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں جس کے بارے میں اِنہیں ککھ پتا نہیں ہوتا۔ یہ اپنے بچوں میں بھی اپنی قابلیت منتقل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لہٰذا رات کو بڑے فخر سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ دجال، برمودا ٹرائی اینگل کے اندر رہتاہے۔ ان کے گھر کے دروازے پر دال ماش گری ہو تو اِن کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں کہ کالا جادو ہو چکا ہے۔
اِنہیں موبائل پر دس لاکھ کا انعام نکلنے کی خوشخبری سنائی جائے تو یہ فوراً سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ کمپنی کو پانچ پانچ سو کے تین کارڈ لوڈ کرواتے ہیں اور بیوی سے رقعت آمیز انداز میں گزارش کرتے ہیں’’شکیلہ ایہہ گل باہر نہ نکلے‘‘۔ دو دن بعد بات تو باہر نہیں نکلتی البتہ یہ خود باہر پائے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے ہمسائے میں اگر کوئی نیا فریج خریدے تو یہ فوراً پوچھتے ہیں ’’کتنے کا ملا؟‘‘۔ آگے سے جو بھی جواب آئے اِن کا ایک ہی جواب ہوتاہے ’’مہنگا لے لیا ہے‘‘۔ فیس بک پر اِن کی فرینڈ لسٹ میں ساری سوڈانی لڑکیاں بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کی ہر اچھی تصویر ہمیشہ کسی شادی ہال کی ہوتی ہے۔ یہ نہاتے وقت شیمپو، تولیہ، صابن وغیرہ سب چیزیں باہر رکھ کر جاتے ہیں اور پھر اندر سے آوازیں دے دے کر منگواتے ہیں۔ گرمی کے دنوں میں یہ گھرمیں داخل ہوں تو سب سے پہلے پسینے سے بھری قمیض اُتار کر گھومنے والے پنکھے پر ڈال دیتے ہیں۔ موٹر سائیکل چلا رہے ہوں اور اشارہ بند ہوجائے تو فوراً فٹ پاتھ پر بائیک چڑھا کر یوٹرن لے لیتے ہیں۔ ان کے تعلقات کم ازکم آئی جی تک ہوتے ہیں تاہم وقت پڑنے پر کوئی کانسٹیبل بھی کام نہیں آتا۔ یہ سنجیدہ ترین مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں مثلاً خالہ بلقیس کی لڑکی نے گاڑی چلانا کس سے سیکھی؟ پچھلی گلی والی بیوہ عورت کے گھر کے سامنے ہر وقت ایک موٹر سائیکل کیوں کھڑی رہتی ہے؟ چاچے بشیر کی دونوں لڑکیاں صبح سویرے پارک میں واک کرنے کیوں جاتی ہیں کیا چاچے کی غیرت مر گئی ہے یا مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا؟ بیوی نے آخر اپنے سارے زیورات کہاں چھپائے ہوں گے؟ تایا رحمت کا بیٹا اتنی آسانی سے یونان کے راستے اٹلی کیسے پہنچ گیا؟ پھوپھی سرداراں نے گھر کا اوپر والا پورشن کن لوگوں کو کرائے پر دیا ہے اوراشرف دکاندار کے پاس فلاں لڑکی کیوںروز موبائل بیلنس لوڈ کروانے آتی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی خواہش ہے کہ مستورات اِس قیامت خیز گرمی میں بھی باہر نکلتے وقت دُہرا نقاب کریں تاہم خود یہ ماسک بھی نہیں پہنتے کہ دم گھٹتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker