رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : ہنگامہ خیز گلِ نوخیز اور عمران خان کی مزاح نگاری

نام ور مزاح نگار مشتاق یوسفی اور عطاءالحق قاسمی کی طرح گل نوخیز اختر کا شمار بھی سویلین مزاح نگاروں میں ہوتا ہے ۔ غیر فوجی مزاح نگاروں کے ساتھ ہمیشہ سے مسئلہ یہ رہا کہ انہیں مزاحیہ کرداروں کی تلاش کے لیے بہت تگ و دو کرنا پڑتی ہے ۔ ضمیر جعفری سے کرنل محمد خان تک تمام عسکری مزاح نگاروں کو ایسے مضحک کردار اپنے دفاتر اور تربیتی مراکز میں آسانی سے دستیاب ہوتے تھے جو ہمارے سول سیٹ اپ میں اتنی بڑی تعداد میں موجود نہیں ۔ عطاء الحق قاسمی صاحب کو تو یہ سہولت محکمہ تعلیم اور یوسفی صاحب کو بینکاری کے شعبے میں مل گئی کہ ان دو شعبوں میں ایسے کردار بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اسی لیے ہم تعلیم اور معیشت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی معکوس کی منازل بھی طے کر رہے ہیں ۔افسوس کہ گل نو خیز کو یہ سہولتیں بھی میسر نہیں ۔ اگرچہ گزشتہ تین برسوں سے ایک عظیم مزاح نگار اپنی پوری ٹیم کے ساتھ اقتدار میں ہے لیکن گل نو خیز نے اس سے بھی استفادہ نہیں کیا ۔
اچھے مزاح نگار کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحریر یا شعر سناتے ہوئے خود نہیں ہنستا اس کے جملوں یا اشعار پر لوگ ہنستے ہیں‌اور اس دوران وہ خالد مسعود خان ، عطاء الحق قاسمی یا گل نو خیز کی طرح سلسلہ کلام پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھتا ہے کہ جیسے اس نے کچھ کہا ہی نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تالیوں‌اور قہقہوں کے دوران اپنا جملہ یا شعر مکرر ارشاد کر دیتا ہے ۔
ہم نے وزیر اعظم عمران خان کو عظیم مزاح نگار اسی لیے کہا کہ ان میں مذکورہ تمام خوبیاں موجود ہیں ۔ وہ بات انتہائی سنجیدگی سے کرکے خاموش ہو جاتے ہیں‌اور جب ان کی گفتگو پر لوگ ہنستے ہیں تو وہ اچھے مزاح نگار کی طرح سلسلہ کلام جاری رکھتے ہیں کہ جیسے انہوں نے کچھ کہا ہی نہیں‌۔ پھر اچھے مزاح نگار کی طرح ہی قہقہوں اور تالیوں‌کی گونج میں وہ اپنا جملہ دہرا دیتے ہیں ۔ کہ میں نیب آرڈیننس میں ترمیم کے باوجود این آر او نہیں دوں گا ۔
حاضرین محفل ایک ایسے معاشرے میں جہاں دکھوں کی فراوانی ہو ،جھوٹ کی حکمرانی ہو ، لوگوں کے آنکھوں میں آنسوؤں اورنظروں کے سامنے جنازوں کی قطاریں ہوں ۔ جہاں انصاف کے نام پر بے انصافی اور قانون کے نام پر لاقانونیت کو فروغ دیا جاتا ہو ، جہاں‌ لوگ خوشی کے لمحات میں رونے اور اپنے دکھوں پر ہنسنے کے عادی ہو چکے ہوں ۔ جہاں آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی کی بجائے مصلحت اور منافقت قرار پا چکا ہو اور جہاں آئین کو آئین ساز اداروں اور قانون کو قانون کے رکھوالوں سے خطرات لا حق ہوں اور اس کے باوجود مثبت صحافت پر یقین رکھنے والے ہم جیسے صحافیوں کو یقین ہو کہ ملکی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ اور ایک ایسے معاشرے میں جہاں ٹی وی چینلز کا پرائم ٹائم صرف سیاست دانوں کی تضحیک کے لیے وقف ہو وہاں گل نوخیز اختر جیسے قلم کار غنیمت ہیں جو سیاست دانوں کی تضحیک کیے بغیر خلق خدا کو ہنسانے کا ہنر جانتے ہیں ۔اور یہ مشکل کام بہت سہولت کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں ۔
گل نوخیز کی تحریر میں بلا کی برجستگی اور شگفتگی ہے ۔ وہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے لطیفوں یا واوین کے بغیر سینیئرز کے جملوں سے استفادہ نہیں کرتا ۔ وہ بلا کا ذہین ہے جو لفظوں کے معمولی ہیر پھیر سے نت نئے جملے اور مصرعے تراشنے کا ہنر جانتا ہے ۔ وہ مزاح اور پھکڑ پن کے فرق کو بخوبی سمجھتا ہے ۔ وہ خوبصورت کردار اور کہانیاں بناتا ہے اور کہیں قاری کو گدگدی کرتا ہے تو کہیں واشگاف قہقہوں کا سماں‌باندھ دیتا ہے ۔ چند عنوانات ملاحظہ کیجیے
” یہ مٹن تمہارا ہے “
” سلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں “
” مہاتما خود “
” عجیب شخص ہے بیوی کے گھر میں رہتا ہے “
” سات ٹون معاف “
” خاوند کی دعائیں لیتا جا “
” لٹ الجھ سلجھا جا رے کالم “
اس کتاب میں صرف عنوانات نہیں بہت سے اچھوتے موضوعات بھی ہیں جنہیں وہ اس خوبصورتی سے ضبط تحریر میں‌لائے کہ پڑھ کر جی خوش ہو گیا ۔ چند عنوانات دیکھ کر ہی خط کا مضمون بھانپا جا سکتا ہے ۔
”دوسری شادی کی اجازت مانگنے کے طریقے “
”گاڑی پارک کرنے کے طریقے “
”افطاری کے نایاب نسخے “
”جانوروں کے شناختی کارڈ “ ( ا س میں جانوروں کی مردم شماری کا بھی ذکر ہے )
”خواتین کی ڈرائیونگ “ وغیرہ وغیرہ
گل نوخیز اختر جب ملتان میں تھے تو اپنے نام کی آڑ میں ٹھرکی شاعروں سے اصلاح بھی لیا کرتے تھے ۔ گل نوخیز کے نام آہوں اور سسکیوں میں ڈوبے ہوئے اور خون سے لکھے ہوئے وہ خطوط اس عہد کی یاد ہیں جب ٹھرکی شاعر اور مولوی صرف خطوط اور خطبات کے ذریعے ”گلشن کا کاروبار“ چلاتے تھے ۔ اچھا زمانہ تھا کہ بات خطوں تک ہی محدود تھی ورنہ ہم نے شاعروں کے جو قصے کہانیاں پڑھ اور سن رکھے ہیں آج کا زمانہ ہوتا تو فیض ، فراز ، ناصر کاظمی ، اسلم انصاری اور تارڑ صاحب جیسے بہت سے صاحب بصیرت قلمکار مفتی عبدالقوی صاحب کی طرح وائرل ہو چکے ہوتے ۔ پیر و مرشد عطا صاحب کا نام ہم نے اس لیے نہیں لکھا کہ وہ گل نو خیز کے ہی نہیں ہم سب کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ اور جامعات سے موصول ہونے والی خبریں بتاتی میں کہ استاد کی ویڈیو وائرل بھی ہو جائے تو سچی خبر کی طرح فیک ہی قرار پاتی ہے ۔
گل نوخیز جس ملتان کی گلیوں میں جوان ہوئے اس کی پہچان سوہن حلوہ اور آم ہی نہیں استاد شاگرد کا تعزیہ بھی ہے ۔ یہ تعزیے ہر سال آٹھ محرم الحرام کو زیارتوں کے لیے رکھے جاتے ہیں ۔ اب آپ اسے اتفاق ہی سمجھیں کہ آج آٹھ اکتوبر ہے اور ہم سب استاد شاگرد کی زیارت کے لیے ملتان ٹی ہاؤس میں موجود ہیں یہ الگ بات استاد محترم اتفاقاً تشریف نہیں لا سکے ۔
گل نو خیز اختر نوجوانوں کی اس آخری نسل میں سے ہیں جو سینئرز کااحترام دکھاوے کے لیے نہیں کرتی تھی ، اور جو پہلے شعر ی مجموعے کی اشاعت کے بعد استاد کی مسند نہیں سنبھالتی تھی ۔ گل نوخیز نے ٹھرکی شعراء کی مدد سے اپنے سفر کا آغاز تو شاعری سے ہی کیا لیکن پھر انہوں نے اپنے لیے اسی راہ کا انتخاب کیا جس کے لیے انہیں اس جہان اور دکھ بھرے ملتان میں بھیجا گیا تھا ۔
گل نوخیز اختر کے ادبی سفر کا آغاز بہت ہنگامہ خیز تھا ۔ اس کے اندر کا شرارتی بچہ اگرچہ اب بھی جوان ہے لیکن اس زمانے میں تو وہ نوخیز بھی تھا ۔ اس زمانے میں دبستان گنا منڈی کی طرح ملتان میں ادب کا ایک دبستان حسن آباد بھی آباد تھا گل نوخیز چونکہ نیو ملتان میں رہتے تھے اس لیے یہ بھی دبستان حسن آباد کا حصہ بن گئے ۔ اس دبستان میں نوازش علی ندیم ، مرتضی اشعر ، اختر شمار، مختار سیفی طفیل ابن گل اور منیر فاطمی شامل تھے ۔ کبیر والا کا راستہ بھی چونکہ حسن آباد سے گزرتا تھا اس لیے اطہر ناسک بھی اس دبستان کا حصہ ہی سمجھے جاتے تھے ۔
1990 کے عشرے میں ملتان کی دو عظیم شخصیات کے درمیان پہلی جنگ عظیم ہوئی۔ ان عظیم شخصیات میں یہ مضمون نگار بھی شامل تھا ۔ اور گمان یہ ہے کہ اس مضمون نگار کی وجہ سے ہی وہ جنگ” عظیم“ قرار پائی تھی ۔ اس جنگ میں گل نوخیز اختر نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ کہ اس زمانے میں وہ ” اساس“ کے نام سے ایک ادبی اخبار بھی نکالتے تھے ۔ اختر شمار کا بجنگ آمد تو روزنامہ جنگ کی طرح امن کی آشا کا علم بردار تھا لیکن گل نو خیز کو ہم دوستی اور دشمنی میں کھل کر ساتھ دینے والوں میں شمار کرتے تھے ۔
حاضرین محترم گل نوخیز ، عطاءالحق قاسمی اور یاسر پیرزادہ کے کالموں کا میں مستقل قاری ہوں کہ یہ کالم مجھے اپنی ویب سائٹ پر بھی شائع کرنا ہوتے ہیں ۔ گل نو خیز کے مزاحیہ کالموں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے کالم ہیں‌جو ادب کے شہ پاروں میں شمار ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر انہوں نے اپنے لاہور کے ابتدائی دنوں کا احوال جن کالموں میں قلم بند کیا ان میں سے ایک کالم ” شکیل لنگڑا “ آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے ۔
” نسخہ ہائے مزاح“ کا انتساب یاسر پیرزادہ کے نام ہے ۔ گل نو خیز نے لکھا ہے کہ یاسر کے ساتھ مجھے محبت بھی ہے اور عشق بھی ۔ گل نو خیز کو معلوم ہی نہیں کہ اس کے ایک جملے نے مجھے اس کا مزید اسیر کر دیا ہے ۔ یاسر پیرزادہ سے مجھے اس لیے محبت ہے کہ میں جن بہت سے واہموں کی وجہ سے الجھنوں کا شکار رہتا ہوں یاسر صاحب بہت سلیقے کے ساتھ ان واہموں کے غباروں سے ہوا نکال کر میری الجھنیں دور کر دیتے ہیں‌۔ اس معاشرے کو ایسے ہی کالم نگاروں کی ضرورت ہے کہ جن کا ایک کالم اخبار شائع کرے اور مکمل کالم بعد ازاں ان کے دوستوں کو شائع کرنا پڑے ۔
”نسخہ ہائے مزاح“ کا نسخہ کل مجھے موصول ہوا اور رات بھر اس کے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ فیض صاحب کی ”نسخہ ہائے وفا“ کی طرح گل نوخیز اختر کی ”نسخہ ہائے مزاح“ بھی ہمہ وقت آپ کی دسترس میں ہونی چاہیے کہ یہ دونوں نسخے ہماری زندگیوں کو خوبصورت بنانے کے لیے حکیموں کے نسخوں کے مقابلے میں مجرب بھی ہیں، تیر بہ ہدف اور آزمودہ بھی اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کے استعمال سے گردے بھی خراب نہیں ہوتے ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker