حامد میرکالملکھاری

حامد میرکا کالم:اور مریم جیت گئی!

ساری دنیا نے دیکھ لیا۔ ایک اکیلی لڑکی کی فاتحانہ مسکراہٹ نے ظالم ریاست کا غرور خاک میں ملا دیا۔ جب اس نہتی لڑکی کے ہاتھوں میں زنجیریں پہنا کر انہیں کمر کے پیچھے باندھا گیا تو وہ نہ روئی، نہ چلائی، نہ گڑگڑائی بلکہ اس نے ظالم فوجیوں کی طرف دیکھ کر مسکرانا شروع کر دیا اور دور کہیں کیمرے کی آنکھ نے اس لڑکی کی مسکراہٹ کو محفوظ کرلیا۔ پھر یہ مسکراہٹ ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، ٹیلی ویژن اسکرینوں اور اخبارات کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ آن کی آن میں جبر و استبداد کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ انہیں اپنی بندوقیں، ٹینک اور جنگی جہاز ایک نہتی لڑکی کی مسکراہٹ کے سامنے بےوقعت لگنے لگے۔ اپنی ایک مسکراہٹ کے ذریعے ظالموں کی شکست کا اعلان کرنے والی اس لڑکی کا نام مریم ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ظالم اسرائیلی ریاست کی قابض فوج نے مقبوضہ فلسطین کے بےبس اور مجبور مسلمانوں کی عبادت میں خلل ڈالنا شروع کیا تو ان مسلمانوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ ایسا ہی ایک احتجاج مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں بھی ہو رہا تھا۔ یہ علاقہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ایک طبیب شیخ جراہ سے منسوب ہے۔ شیخ حسام الدین الجراح یروشلم کی فتح کے بعد صلاح الدین ایوبی کے ساتھ فلسطین آیا تھا۔ مسجد اقصیٰ کی محبت میں وہ یہیں کا ہو گیا اور جس علاقے میں اس کا مقبرہ بنا وہ آج شیخ جراہ کہلاتا ہے۔ 1948میں اسرائیل نے یروشلم کے مغربی علاقے پر قبضہ کر لیا تو یہاں کے بہت سے مسلمان اپنے گھر چھوڑ کر مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراہ میں آگئے جو اردن کے زیر انتظام تھا۔ 1967میں اس علاقے پر بھی اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ پچھلے کچھ برسوں میں اسرائیلی ریاست نے یہاں کے مسلمانوں کو ان کے گھروں اور بازاروں سے جبری طور پر بےدخل کرنا شروع کر دیا ہے اور شیخ جراہ میں یہودیوں کو آباد کیا جا رہا ہے۔ شیخ جراہ کے مسلمان جبری بےدخلیوں سے پہلے ہی پریشان تھے کہ 27رمضان المبارک کے قریب اسرائیلی فوج نے مسجدِ اقصیٰ میں نمازِ تراویح میں گڑبڑ شروع کر دی۔ اسرائیلی فوج کی جارحیت کے خلاف شیخ جراہ میں بھی لوگ سڑکوں پر آ گئے۔
مسجدِ اقصیٰ کی بےحرمتی کے خلاف شیخ جراہ میں مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی تو اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے اپنا ایک گھڑ سوار دستہ اُن پُرامن مظاہرین پر چڑھا دیا۔ گھڑ سواروں کی مچائی بھگدڑ میں ایک فلسطینی بچہ اسرائیلی فوجیوں کے قابو آ گیا اور وہ اسے بندوقوں کے بٹ مارنے لگے۔ اس بچے کو پٹتے دیکھ کر مریم سے نہ رہا گیا۔ اس نے فلسطینی بچے کو تشدد سے بچانے کی کوشش کی تو ایک اسرائیلی فوجی نے مریم کو اس کے سر پر موجود حجاب سے پکڑ کر کھینچا اور زمین پر گرا دیا۔ تین چار فوجیوں نے اسے اپنے نرغے میں لے کر سڑک پر مارنا شروع کر دیا اور گھسیٹتے ہوئے اپنی بکتر بند گاڑیوں کی طرف لے گئے۔ جب اسے سڑک پر گھسیٹا جا رہا تھا تو ایک صحافی نے اس پر تشدد کی فلم بناتے ہوئے اس کا نام پوچھ لیا تو اس نے بتایا میں مریم ہوں۔ کچھ ہی دیر میں علاقے کے لوگوں نے تصدیق کر دی کہ یہ مریم عفیفی ہے۔ مریم کو گرفتار کرکے وہاں لے جایا گیا جہاں پہلے سے کئی فلسطینی مظاہرین کو کمر کے پیچھے ہتھکڑیاں لگا کر بٹھایا گیا تھا۔ مریم نے موقع ملتے ہی اپنا حجاب درست کیا لیکن دوسرے ہی لمحے اسے بھی ہتھکڑی پہنا دی گئی۔ جب اس کے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھے جا رہے تھے تو اس نے مسکرانا شروع کر دیا۔ دور کھڑے ایک صحافی نے اپنے کیمرے میں یہ منظر ریکارڈ کر لیا۔ صحافی نے دیکھا کہ مریم کی مسکراہٹ نے اسرائیلی فوجیوں کو حیران و پریشان کر دیا۔ اس نے جان خطرے میں ڈالی اور بکتر بند گاڑی کے قریب ہو کر مریم کی فلم بنانی شروع کر دی۔ مریم بڑی صاف انگریزی میں اسرائیلی فوجی سے پوچھ رہی تھی کہ کیا میرا جرم صرف یہ ہے کہ میں ایک بچے کو تمہارے تشدد سے بچا رہی تھی؟ فوجی خاموش رہا۔ مریم نے اسے دوبارہ مخاطب کیا اور کہا کہ ذرا سوچو کہ جب تم بچے تھے تو کیا تم یہی بننا چاہتے تھے جو آج بن چکے ہو؟ فوجی خاموش رہا۔ مریم نے پُراعتماد لہجے میں کہا کہ تم ظالم ہو، تمہیں شرم آنی چاہئے۔ فوجی کی نظریں جھک چکی تھیں اور زنجیروں میں جکڑی مریم اس پر فتح پا چکی تھی۔ مریم کی یہ وڈیو مجھے ایک فلسطینی صحافی نے اس پیغام کے ساتھ بھیجی کہ ’’برادر! 2009میں تم نے غزہ کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی، اسرائیل نے 2014میں غزہ کو دوبارہ تباہ کیا اور اب 2021میں غزہ پھر اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔ برادر! ہماری یہ عید لاشیں اٹھاتے اور دفناتے گزرے گی لیکن ہماری ایک بہن مریم عفیفی کی اس مسکراہٹ کو دیکھو، یہ مسکراہٹ اعلان کر رہی ہے کہ آخری فتح ہماری ہو گی، ہمارے لئے دعا کرنا‘‘۔ میں نے اپنے فلسطینی دوست کا پیغام بار بار پڑھا اور مریم کی مسکراہٹ پر بار بار غور کیا۔ مجھے اس مسکراہٹ کے پیچھے کوئی افسانہ نظر نہیں آیا۔ یہ مسکراہٹ ایک حقیقت ہے جو آج ان لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی جو طاقت کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کو بڑی حکمت سمجھتے ہیں۔ اس مسکراہٹ کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو ﷲ پر یقین رکھتے ہیں۔ ﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک کی سورہ آل عمران میں فرمایا ’’اور انہوں نے چالیں چلیں اور منصوبے بنائے اور ﷲ تعالیٰ نے بھی منصوبے بنائے اور ﷲ بہترین منصوبہ بنانے والا ہے‘‘۔
2021 کے رمضان المبارک کے آخری دِنوں میں اسرائیل نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسجدِ اقصیٰ کی بےحرمتی کی تاکہ فلسطینیوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں لیکن ﷲ تعالیٰ نے مریم عفیفی سمیت بےشمار مظلوم فلسطینیوں کو یہ حوصلہ اور ہمت دی کہ وہ اسرائیل کی بندوقوں اور ٹینکوں کے سامنے ڈٹ جائیں۔ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حماس نے بھی میزائل حملے کئے ہیں اور ان حملوں میں بھی کچھ عورتوں اور بچوں کا نقصان ہوا ہے۔ حملہ کوئی بھی کرے۔ عورتوں اور بچوں پر ظلم نہیں ہونا چاہئے۔ بہرحال اسرائیل کو پیغام مل گیا ہے کہ وہ جتنے بھی مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لے اور فلسطینیوں کے خلاف کتنی بھی فوجی طاقت استعمال کر لے، فلسطینیوں کی مزاحمت ختم نہیں ہو سکتی۔ فلسطینی دنیا بھر کے مظلوموں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ فلسطین کشمیر ہے اور کشمیر فلسطین ہے۔ فلسطین بھی جیتے گا، کشمیر بھی جیتے گا، مریم کی مسکراہٹ ان سب کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو ہمیں اسرائیل سے دوستی کے مشورے دیتے رہے۔ مریم کی مسکراہٹ فتح کا اعلان ہے۔ یہ اعلان آج آپ کو افسانہ لگے گا لیکن حقیقت ضرور بنے گا۔ مریم جیت چکی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker