تجزیےکھیل

یکم جون 2000 ء : میچ فکسنگ میں ملوث ہنسی کرونیئے کی پراسرار موت کا دن

جوہانسبرگ :یکم جون 2002 کو جنوبی افریقی سابق کپتان ہنسی کرونیئے جوہانسبرگ سے جارج ٹاؤن روانہ ہونے والے تھے لیکن وہ پرواز منسوخ کر دی گئی۔
یہی وجہ ہے کہ ہنسی نے ایک چھوٹا جہاز کرایے پر لیا اور اس میں واحد مسافر کے طور سوار ہوئے لیکن یہ بدقسمت طیارہ جارج ٹاؤن ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے پہلے ہی قریب واقع پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا اور ہنسی کرونیئے دونوں پائلٹ اس حادثے میں ہلاک ہوگئے۔
ہنسی کرونیئے کی موت کو اٹھارہ سال ہو چکے ہیں لیکن دنیا ہنسی کرونیئے کو بھلانے کے لیے تیار نہیں۔
اگرچہ وہ میچ فکسنگ اسکینڈل کے ایک اہم کردار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں لیکن انھیں یاد کرتے ہوئے نفرت آمیز الفاظ کے بجائے حیرانی اور ہمدردی کے جذبات زیادہ غالب ہوتے ہیں کہ ایک باوقار اور ایماندار کرکٹر کیسے اس گھناؤنے عمل کا حصہ بن گیا۔
کرونیئے کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بطور کرکٹر اور کپتان مضبوط اعصاب کے مالک تھے جو میدان میں بہت خاموشی کے ساتھ اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے نظر آتے اور میدان سے باہر بھی وہ بڑے تحمل سے میڈیا سے بات کرتے دکھائی دیتے تھے۔
ان کے پرستار صرف جنوبی افریقہ تک ہی نہیں محدود تھے بلکہ پوری دنیا میں موجود تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب میچ فکسنگ سکینڈل میں ان کا نام آیا تو کرکٹ کے سب مداحوں پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔
جب دہلی پولیس نےسات اپریل 2000 کو ہنسی کرونیئے کے مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے اور ایک بک میکر سنجے چاؤلہ سے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی بنیاد پر باضابطہ مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا تو ایسا لگا کہ جیسے پورا جنوبی افریقہ ان کے دفاع میں آگے آیا ہو۔
کوئی بھی یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ کرونیئے ایسا کچھ کرسکتے ہیں۔ وہ نہ صرف جنوبی افریقی کرکٹر کے کپتان تھے بلکہ ملک میں انھیں قومی ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔
ہنسی کرونیئے کے چرچ کے پادری رے مک کاؤلی ہوں یا جنوبی افریقی ٹیم کے کوچ گراہم فورڈ سب نے اسے محض الزام تراشی قرار دیا جبکہ سابق کوچ باب وولمر کا کہنا تھا کہ اپریل فول کا اس سے زیادہ خراب مذاق کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
جب یہ خبر منظرعام پر آئی تو جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے صدر ڈاکٹر علی باقر نے فوری طور پر ہنسی کرونیئے سے رابطہ کیا اور دونوں کی گفتگو کے بعد ڈاکٹر علی باقر کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا اس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ان کا کپتان میچ فکسنگ میں ملوث نہیں ہے۔ اس دوران بھارت اور جنوبی افریقہ کے سفارتی تعلقات میں بھی گرما گرمی آگئی تھی۔
بک میکرز سے پیسے لینے کا اعتراف
گیارہ اپریل 2000 کی صبح ہونے میں ابھی بہت وقت باقی تھا جب ہنسی کرونیئے نے جنوبی افریقی ٹیم کے چیف سکیورٹی افسر روری سٹین کو فون کرکے ہوٹل میں اپنے کمرے میں بلایا اور اپنا تحریر کردہ بیان ان کے حوالے کر دیا۔
روری اسٹین نے جب وہ بیان پڑھا تو وہ حیران رہ گئے کیونکہ اس میں وہ سب کچھ تحریر تھا جس سے کرونیئے پچھلے چند روز کے دوران انکار کرتے آئے تھے۔یہ سب کچھ ایسے وقت ہوا جب اگلے ہی روز جنوبی افریقہ کو ڈربن میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلنا تھا۔جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے صدر ڈاکٹر علی باقر نے ہنسی کرونیئے کو فوری طور پر معطل کرکے شان پولاک کو کپتان بنانے کا اعلان کیا جس کے بعد کنگ کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے ہنسی کرونیئے پر تاحیات پابندی عائد کر دی تھی۔
پانچ رینڈ یومیہ سے بک میکر کے لاکھوں تک
ہنسی کرونیئے نے کرکٹ سے جائز ناجائز کتنا کمایا اس کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں ہے لیکن کرکٹ سے ان کی والہانہ محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ سولہ برس کے تھے تو فری اسٹیٹ کے صوبائی میچوں میں اسکور بورڈ پر ڈیوٹی دیا کرتے تھے جس میں انھیں لنچ کے علاوہ پانچ رینڈ یومیہ ملاکرتے تھے۔
یہی کرکٹ میں ہنسی کرونیئے کی پہلی آمدنی کہی جاسکتی ہے اور جب وہ جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم میں آئے تو دولت شہرت اور عزت سب کچھ ان کی منتظرتھی لیکن بک میکرز سے روابط کے بعد انہیں پیسے اور تحائف توملتے رہے لیکن ساتھ ہی وہ اس مافیا کے شکنجے میں جکڑتے چلے گئے۔
ہنسی کرونیئے کی زندگی میں بک میکر سنجے چاؤلہ کا ذکر نمایاں ہے جسے برطانوی حکومت نے بیس سال انگلینڈ میں رہنے کے بعد اس سال فروری میں بھارت کے حوالے کیا تھا اور اب عدالت نے اس کی ضمانت منظور کرلی ہے۔
دوسری جانب ہنسی کرونیئے کی بیوہ برتھا نے کرونیئے کی موت کے ایک سال بعد ہی ایک فنانشل آڈیٹر جیک ڈوپلیسی سے شادی کرلی تھی۔زندگی ان سب کے لیے اسی طرح رواں دواں ہے لیکن کرونیئے کے لیے جیسے سب کچھ تھم گیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker