حسنین رضویکالملکھاری

حسنین رضوی کا کالم: فضائی مشقیں ” اناطولین ایگل 2021 ” اور بھارتی تشویش

یہ فضائی مشقیں ہرسال ترکی اور پاکستان میں باری باری منعقد ہوتی ہیں ، اس سال ان مشقوں میں ترکی ، آذربائیجان ، پاکستان اور قطر کی فضائی افواج حصہ لے رہی ہیں ۔ پاک فضائیہ کا دستہ پہلی بار پاکستانی ساختہ طیارے JF – 17 تھنڈر کے ساتھ ان مشقوں میں شامل ہے ، جبکہ اس مشق کی خاص بات ان میں قطری فضائیہ کے ” رافیل ” طیاروں کی شمولیت ہے …. جی ہاں وہی فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے جو کہ بھارت کی فضائیہ میں تازہ تازہ شامل ہوۓ ہیں . پاکستان کو ان طیاروں سے متعلق پیچیدہ اور اہم معلومات قطر کی فضائیہ کی معرفت پہلی بار حاصل ہونے جارہی ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت میں ان مشقوں کے انعقاد کی وجہ سے بہت تشویش پائی جاتی ہے اور کیوں نہ ہو پاکستانی JF – 17 تھنڈر پہلی بار رافیل کے مدمقابل ہوں گے اور بھارت یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کو ” رافیل ” سے متعلق پیچیدہ معلومات حاصل ہوں اور وہ اپنے طیاروں میں ان معلومات کی روشنی میں تبدیلیاں کرسکے لیکن یہ تو اب ہوچکا ہے ، گزشتہ روز پاکستانی فضائیہ کے چیف نے ان مشقوں کا معائنہ کیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنے تمام ” اہداف ” حاصل کرلیے ہیں ۔
ہندوستانی فضائیہ کے پاس ” رافیل ” طیارے تو ابھی چند ہی ہیں لیکن مستقبل میں ہندوستان اپنے بدنام زمانہ ” مگ21 ” جنہیں دنیا ” اڑتے ہوئے تابوت ” کہتی ہے رافیل سے تبدیل کرنا چاہتا ہے کیونکہ آۓ روز ہونے والے ان طیاروں کے حادثات سے ہندوستانی پائلٹ بھی شدید دباؤ میں ہیں ، مگ 21 اصل میں اپنی مدت اب پوری کرچکے ہیں ۔ کوئی وقت تھا جب مگ-21 کو دنیا میں سب سے زیادہ ایکسپورٹ کیا جانے والا روسی سپرسونک طیارہ سمجھا جاتا تھا ۔
اس طیارے نے پہلی پرواز 1950ء کے عشرے کے آخر میں بھری تھی ۔
اب تک اس طیارے کے 32 ورژن بناۓ جا چکے ہیں اور کم و بیش 9 ہزار سے زائد کی تعداد میں اسے بنایا جا چکا ہے ۔
اگرچہ یہ طیارہ صرف قریب کی لڑائی اور ہلکی نوعیت کی زمینی بمباری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن اس کےاپ گریڈ شدہ جدید ورژن دور فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی اٹھا سکتے ہیں۔پاکستان اور بھارت دونوں کی فضائیہ کی تاریخ ان طیاروں کا ذکر کیے بغیر ادھوری ہے۔
بھارت کو روس سے ایسے 12 طیارے 1963 میں ملے تھے اور یہ اس وقت کے انتہائ تیز رفتار اور جدید ترین لڑاکا طیارے سمجھے جاتے تھے۔
اگر بھارت انہیں 1965ء میں اڑانے کے قابل ہو جاتا تو پاک فضائیہ کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی ہو سکتی تھی لیکن جنگ کے شروع میں پاک فضائیہ نے کمال مہارت سے بمباری کرکے بھارت کے یہ تمام طیارے ائیربیس پر ہی تباہ کر دئیے تھے .
جنگ کے بعد بھارتیوں نے ان طیاروں کی ایک بڑی تعداد حاصل کی جنہوں نے 1971ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں شدید نقصان پہنچایا۔
یہاں یہ بات بتاتا چلوں کے یہ طیارے آواز کی رفتار سے دو گنا زیادہ رفتار سے اڑ سکتے تھے لیکن پاکستان کے پاس ان کے مقابلے کے لیے پرانے ایف-86 سیبر طیارے تھے جو کہ آواز کی رفتار سے بھی کم رفتار سے اڑتے تھے۔
اسکے باوجود پاکستانی پائلٹس نے سیبر طیارے کے ذریعے کامیابی سے ایک جھڑپ میں بھارتی مگ-21 گرا کر امریکیوں اور روسیوں کو حیران کر دیا تھا .
جنگ کے بعد پاک فظائیہ پر مگ-21 کی اہمیت محسوس کی گئی اور چین سے مگ-21 کی ایک کاپی جے-7 خریدنے کا فیصلہ ہوا۔
یہ جے-7 آج کل کی اپ گریڈیشن کے بعد پاک فضائیہ کی سروس میں ایف-7 پی/پی جے کہلاتا ہے۔
جبکہ بھارت نے اپنے مگ-21 طیاروں کواپ گریڈ کرکے انہیں مگ-21 Bis/Bison کا نام دیا،
ان مذکورہ مشقوں کے ذریعے اگر پاکستان کو رافیل طیاروں سے متعلق حساس ٹیکنیکل معلومات تک مکمل رسائی ہو جاتی ہے تو یہ ہندوستانی ” رافیل ” کو بھی اڑتے ہوئے تابوت بننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker