پرائمری جماعت میں اردو کی کتاب میں ایک مضمون ہوا کرتاتھا’سرخ سبز بتیاں‘، اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ ٹریفک کو خود کار طریقے سے کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے۔یہ سن ساٹھ کی دہائی کے آغاز کی بات ہے، جب ملتان میں ابھی ”سرخ سبز بتیوں“ کا یہ نظام نصب نہیں ہوا تھا اور ہم نواں شہر چوک کے عین درمیان میں بنے ہوئے گول چوبترے،جس کے اوپر دھوپ سے بچنے کے لیئے ٹین کا گول سائبان بھی بنا ہواتھا،سفید وردی میں ملبوس ٹریفک پولیس کے چاک و چوبند سپاہی کو اپنے ہونٹوں میں سیٹی دبائے ہاتھ کے اشاروں سے ٹریفک کنٹرول کرتے ہوئے دیکھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے۔ ٹریفک کی خلاف ورزی پر یہ سپاہی سیٹی بجا کر تنبیہ کرتے ہوئے اس خلاف ورزی کی طرف متوجہ کرتاتھا۔ کتاب میں بنی ”’سرخ سبزبتیوں“‘کی تصویراور خود کار طریقے سے ٹریفک کنٹرول کرنے کی تفصیل ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اس وقت تک کسی کام کے ”’آٹو میٹک “‘ہونے کا علم یا تصور اتنا عام نہیں ہوا تھا یا پھر ہم اس سے نابلد تھے ۔ہم سمجھتے تھے کہ بٹن اوپر نیچے کرنے سے تو بلب جلائے بجھائے جا سکتے ہیں مگر بٹن کے استعمال کے بغیر یہ کیسے ممکن ہو گا۔اس لیئے ”’سرخ سبز بتیاں“‘خود کار طریقے سے جلتے بجھتے دیکھنے کی یہ خواہش اس وقت پوری ہوئی جب ملتان کے نواں شہر چوک، ایس پی چوک ،ڈیرہ اڈا چوک ، ملتان کینٹ ،کچہری چوک اور نو نمبر چونگی کے چوک میں یہ ”’سرخ سبز بتیاں “‘ نصب ہوئیں۔
یہ ”’سرخ سبز بتیاں“‘ کل شام ہمیں اس وقت بہت یاد آئیں جب ہم کوئی چھ سات ماہ بعد خود گاڑی ڈرائیو کر کے ادبی بیٹھک میں شرکت کے لیئے اپنی رہائش گاہ شالیمار کالونی سے روانہ ہوئے۔ون وے ٹریفک میں بھی بوسن روڈ کے ہر یو ٹرن پر باروردی ٹریفک وارڈن کی موجودگی کے باوجودٹریفک کی انتہائی بے ہنگم روانی۔۔الامان و الحفیظ۔۔ٹریفک وارڈن ہر یو ٹرن اور ہر چوک پر موجود تھے مگر ٹریفک اپنی مرضی سے رواں دواں تھی۔ بوسن روڈ پر بنے ان یو ٹرنز کے علاوہ چھ نمبر چونگی اور نو نمبر چونگی پر تو ٹریفک کے رش کا برا حال تھا۔ ہر کوئی اپنی مرضی سے جس طرف سے چاہتا گزرنے کی کوشش کر رہاتھا۔خدا خدا کر کے نو نمبر چوک عبور کر نے کے بعد کچہری کی طرف جانے والی سٹرک سے فلائی اوور کا راستہ اختیار کیا کہ چلو رش کچھ کم ہو گا، مگر فلائی اوور سے اترتے ہی کلمہ چوک پر اسی بے ہنگم ٹریفک کا سامنا تھا۔
شہر کے ہر چوک چوراہے پر ٹریفک کا یہی حال ہوتا ہے، چوک کمہاراں والا سے گزرنا ہو یا جنرل بس سٹینڈ کے وہاڑی چوک سے ،یا پھر بوسن روڈ پر نو نمبر چونگی سے ہوتے ہوئے ، چھ نمبر چونگی اور یونیورسٹی کی طرف جانے کے لئے سیداں والا بائی پاس کہلانے والے چوک سے۔ اوراب تو اس سیداں والے چوک کے بہت قریب بننے والے مال آف ملتان اور عین چوک پر بنے ایک شادی حال کی وجہ سے سروس روڈ جو شالیمار کالونی میں جانے کا راستہ ہے ، اکثر بلاک رہتی ہے۔ دن کے وقت کچہری چوک سے گزرتے ہوئے تو حالت منیر نیازی کے اس شعرکی سی ہوتی ہے ”’اک اور دریا کا سامنا تھا مجھے منیر۔۔میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا“‘
یوں تو ٹریفک پولیس نے اپنا ایک ریڈیو چینل بھی بنا رکھا ہے جو ٹریفک کے بارے میں ہدایات جاری کرتا رہتا ہے اور اپنے محکمے کی کارکردگی پر مختلف پروگرامز بھی نشر کرتا رہتا ہے، مگر سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کا حال اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔”’سرخ سبز بتیوں“‘کے ہوتے ہوئے ہم دیکھتے تھے کہ ان کی خلاف ورزی کا تناسب بہت کم ہوتا تھا۔ اب ٹریفک وارڈن کی موجودگی کے باوجود ٹریفک کنٹرول میں ناکامی صاف دکھائی دیتی ہے۔ ترقی کے دعووں کے باوجود زندگی کا ہر شعبہ زوال پذیر ہے۔ نجانے وہ ”’سرخ سبز بتیاں“‘ اتارنے کا خیال کس اعلیٰ دماغ میں آیا ہو گا۔
فیس بک کمینٹ

