اختصارئےحسنین رضویلکھاری

عقائد ، ریاست اور مٹھی بھر تکفیری مولوی ۔۔حسنین رضوی

پشاور اور بہاولپور جیسے واقعات دیگر اسلامی ممالک میں کیوں نہیں ہوتے شاید ہمارے ہاں مذہبی جہالت زیادہ ہے (خالی برتن زیادہ آواز دیتا ہے )
میں تو اس سے پہلے بھی متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ اسلام کی محترم ہستیوں کو رضی اللہ کہو ، کرم اللہ کہو یا علیہ سلام …. نہ ان ہستیوں کے وقار میں کوئی کمی بیشی ہوگی نہ پاکستان کے 22 کروڑ عام عوام کو کوئی فرق پڑے گا ، آنحضرت ( ص ) کے نام کے ساتھ 70 سال سے خاتم النبین نہیں لکھا گیا تو خاتم النبین کو کوئی فرق نہیں پڑا اور لکھ دیا جاۓ تو ان کی ختم نبوت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ، آپ ( ص ) آخری نبی ہیں اور قیامت تک کوئی نبی نہیں آنے والا ” یہ لکھنے لکھانے سے آگے کی بات ہے “ کچھ کم علم ملاں اس طرع کے شوشے ” کمپنی کی مشہوری “ کیلیے چھوڑتے رہتے ہیں ۔
مجھے کوئی تکلیف نہیں کہ آپ حضرت علی کو علیہ اسلام کہیں ، رضی اللہ کہیں یا کرم اللہ یا کچھ بھی نہ کہیں، آپ حضرت علی علیہِ اسلام کو پہلا خلیفہ مانیں یا چوتھا یہ بھی کوئی بحث نہیں، آپ حضرت ابوبکر و عمر جیسے صحابہ کے ساتھ بھی علیہ اسلام لگائیں یہ آپ کا عقیدہ ہے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ رسول خدا ( ص ) کی بیٹیاں کتنی تھیں جو آپ کو صحیح لگے مان لیں، آپ کس کو صحابی مانتے ہیں کس کو نہیں یہ بھی مسئلہ نہیں۔۔ کس کو افضل مانتے ہیں کس کو کمتر یہ بھی آپ کی تحقیق ہے ، عام پاکستانیوں کو اس سے بھی کوئی غرض نھیں ۔
مسئلہ تب آتا ہے جب ریاست یہ تمام چیزیں اپنے ہاتھ میں لے لے ،
کل کو امریکہ قانون پاس کرلے کہ ، حضرت عیسٰی علیہِ اسلام کو اللہ کا بیٹا اور آخری نبی مان لو ، چائنا اللہ کی انکاری کا قانون پاس کرلے ،
اور انڈیا بت پرستی کا اور ایران 12 اماموں کے علاوہ کسی خلیفہ کو نہ ماننے کا قانون پاس کرلے ، سعودیہ صرف حدیث پر عمل کرنے اور تمام مسالک کو بین کرنے کا قانون پاس کرلے …………
…….تو اس وقت مٹھی بھر پاکستانی ” تکفیری“ ذہنیت کا کیا حال ہوگا؟
کیا اب ریاست بتائے گی کہ کون افضل ہے اور کون نہیں،یہ ریاست کے معاملات نہیں عقیدے کے معاملات ہیں جس میں سب کو آزادی ہونی چاہیے۔
احترام اور تقدس وہی ہوتا ہے جو دل سے کیا جائے یہ زبردستی عزت کروانے سے عقیدے نہیں بدلا کرتے، آنے والی نسلوں کو کھل کر تاریخ پڑھنے کا موقع دیں بحث کرنے دیں، ایک دوسرے کی کتب سے دلیل دینے دیں ، سوالات اٹھانے دیں اگر سوالات کا گلا گھونٹیں گے تو نسلیں جاہل پیدا ہونگی۔۔
ہاں اگر قانون سازی ہی کرنی ہے تو لوگوں کی جان مال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے کریں آزادی اظہار رائے کی کریں۔۔۔
اس گھٹن زدہ معاشرے کو مزید گھٹن میں مت دکھیلیں اور دشمن کی سازش کو سمجھیں ، ملک اب نہ کسی ” فرقہ واریت “ اور نہ کسی ” مارا ماری “ کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی ” حساس ادارے “جنھوں نے بے شمار جانیں دیکر تکفیریت ،شدت پسندی اور مذہبی دہشت گردی کو ختم کیا دوبارہ سر اٹھانے دیں گے … یہ تکفیری مولوی میرے تھوڑے لکھے کو زیادہ جانیں اسی میں ان کی بھلائی ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker