قیصر عباس صابرکالمگلگت بلتستانلکھاری

نانگا پربت، جگلوٹ اور جنات کا قبضہ : صدائے عدل/قیصرعباس صابر

شیر دریا کے کنارے گونر بازار پہلے سے زیادہ آباد تھا،پٹرول پمپ اور اشیائے ضرورت کی دکانیں سجی تھیں جہاں پانچ سال قبل سنسانی تھی۔نیشنل بنک کا کی اے ٹی ایم نے بھی ناران سے لٹ لٹا کر گلگت جانے والوں کو چلاس جانے سے بچالیا تھا۔چند برس پہلے چلاس کے بعد گلگت تک ویرانی سی ویرانی ہوا کرتی تھی۔گونر کی گرم بستی سے گزرنے والے اکثر اس تصور سے بھی عاری تھے کہ اس گرم بازار کے عین اوپر پریوں کی چراگاہ، فیری میڈو وادی میں سہانے موسموں کی خیرات بانٹتی ہے جہاں نانگا پربت کا عریاں وجود آنکھوں کو چندھیاتا ہے۔
وبا کے دنوں میں فیری میڈو جانے والے ہم نہ تھے اور شائد کوئی بھی نہ تھا کیونکہ تیز دھوپ میں نہائی ہوئی شاہراہ قراقرم حد نگاہ تک خالی تھی،کہیں دور راشد ڈوگر اپنی ٹیم کے ساتھ خراماں خراماں چلے آتے تھے۔کامران نے بارہا اپنے دکھ کا اظہار کیا کہ مجھے میرے باس گاڑی تیز نہیں چلانے دیتے۔ہم نے اسے شکر ادا کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ وہ تو اکثر گاڑی چلانے کے بھی حق میں نہیں ہوتے پہاڑی راستوں پر۔ عون نے رائے کوٹ پل پر سے گزرتے ہوئے فیری میڈو جیپ ٹریک کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا مگر پھر ہم پل عبور کرکے دریا کے دوسرے کنارے پر مڑ گئے۔
نانگا پربت ہمارے عقب پر رہ گئی تھی ۔رائے کوٹ پل پر لگا ایس کام موبائل فون کمپنی کا ٹاور رابطے کا واحد ذریعہ تھا۔کہتے ہیں کہ تمام وادی میں ایس کام کے علاوہ کوئی دوسرا نیٹ ورک ٹاور نصب ہی نہیں کرنے دیا جاتا۔نصب کرنے والے اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں کہ نامعلوم نسل کے جنات انہیں اٹھالے جاتے ہیں ویسے بھی یہاں جا بجا جنات کا قبضہ ہے۔
جگلوٹ سے ذرا پہلے استور کی طرف جانے والی سٹرک نیچے دائیں جانب اترتی تھی جہاں سے گزشتہ برسوں میں سے کسی ایک برس ہم اسی گاڑی پر استور پہنچے تھے اور وہاں سے راما کا جنت کدہ ہماری منزل تھا۔پھر اسی رستے پر ترشنگ اور لاتوبو کی وادیاں،نانگا پربت کا روپل رخ ہمارے قدموں سے آلودہ ہوا تھا۔ہم بھی کہاں کہاں داستانیں چھوڑ آئے تھے۔ہم مگر اب کی بار استور کی طرف جانے والے راستوں کو دیکھتے تھے،ہاں صرف دیکھتے ہیں ۔موبائل فون پر سگنل آچُکے تھے اس کا مطلب تھا کہ جگلوٹ قریب ہے،راشد ڈوگر بھی کھانے کی تلاش میں رکے ہوئے تھے جو لنگر انداز ہوئے اور دال ماش کا دور چلا،ایک گھنٹے کی لنچ بریک نے ہمیں دنیا کا واحد مقام جہاں کوہ ہندوکش،کوہ قراقرم اور کوہ ہمالیہ کے سلسلے باہم آمنے سامنے ہوتے تھے۔ہم نے تینوں سلسلوں کو جاتے جاتے دیکھا اور گلگت کی طرف چلتے گئے۔سکردو روڈ کو دیوسائی اور کے ٹو ،اسکولے اور حراموش جاتے ہوئے بھی کچھ اجنبی نظروںُ سے دیکھنا پڑا کیونکہ شام سے پہلے کی اداسی اب قراقرم پر بچھی جاتی تھی،دریائے سندھ کہیں سکردو کی طرف کھو گیا تھا اب دریائے گلگت ہمارے دائیں ہاتھ پر بہتا چلا جاتا تھا۔آبادی کی گنجانی کیفیت پر بھی وبا کے سائے منڈلاتے تھے۔ہم اب کی بار ہنزہ اور نگر کے بجائے گلگت شہر کی طرف مڑ گئے،مغرب کی اذانیں اسی شہر میں سنی گئیں۔ایک لمحے کےلئے بھی یہ شہر پاؤں کی زنجیر نہ ہوا۔شہر کے مرکزی دروازے سے غذر روڈ تک کہیں بھی رکنے کا حوصلہ نہ تھا اور نہ رکے۔ قراقرم کو خنجراب کی طرف اکیلا جاتے ہوئے چھوڑ کر ہم چھوٹی چھوٹی شاہراہوں پر آگئے تھے۔اندھیرے نے ہیڈلائیٹس روشن کروادیں۔اب پہلی بار ہم نئے ناموں والی بستیوں میں سے گزرتے چلے جاتے تھے۔ہم بھی نہیں جانتے تھے کہ اک ایسا دیس ہمیں اپنی طرف کھینچتا چلا جارہا تھا جو آپ اپنی مثال تھا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker