حسن نثارکالملکھاری

حسن نثارکا کالم۔۔جبران بلاعنوان

زندگی میں بہت سے ایسے لوگوں سے بھی بہت گہرا اور عجیب سا تعلق بن جاتا ہے جنہیں نہ آپ ملے ہوتے ہیں نہ کسی اور طرح کوئی رابطہ ہوا ہوتا ہے۔ یہ ہم عصر بھی ہو سکتے ہیں اور صدیوں بلکہ ہزاروں سال پرانے بھی۔ آپ ان کی خیالی تصویریں بناتے اور من گھڑت آوازیں سنتے رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا تصور اور آپ سے تعلق تبدیل ہوتا رہتا ہے کیونکہ عمر کے ساتھ ساتھ انسان کی ترجیحات بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
عموماً شروع شروع میں وار ہیروز آپ کو بہت فیسی نیٹ کرتے ہیں مثلاً الیگزینڈر دی گریٹ عرف سکندر اعظم جسے بچپن میں میں مسلمان سمجھتا رہا اور جب معلوم ہوا کہ یہ طلوع اسلام سے پہلے کا کردار ہے تو دل ٹوٹ سا گیا، اسی طرح ہنی بال سے چنگیز خان تک۔ پھر آہستہ آہستہ بندہ فکری طور پر کچھ پروموٹ ہوتا ہے تو ہیملٹ کےشیکسپیئر، شاہنامہ کے فردوسی،گلستان کے سعدی، مثنوی کے مولانا روم، ماں کے گورکی، موپساں، عمر خیام، سکول میں کوؤنٹ آف مونٹی کرسٹو کے ڈوما، اوہنری، پشکن، چیخوف، ٹالسٹائی، دوستو فسکی، ٹائن بی، کانٹ وغیرہ وغیرہ جیسے کرداروں سے ’’رشتہ داری‘‘شروع ہو جاتی ہے۔بہت چھوٹی عمر میں ابن صفی صاحب مرحوم کی لت لگ گئی۔ اللہ بخشے میرے والد مرحوم کو پتہ چلا تو جیسے بھونچال آگیا۔ وہ میرے دادا کی طرح مولانا روم اورشیکسپیئر جیسے لوگوں کے عاشق اور مرید تھے، سو ڈنڈے کے زور پر میری سمت تبدیل کی اور روز ’’کیا پڑھا؟‘‘ کا ورد شروع ہوگیا۔ میں نے ابن صفی صاحب والا نشہ تو ترک نہ کیا لیکن مثنوی رٹ لی جس کا نتیجہ یہ کہ آج بھی میری لائبریری میں مولانا روم اور ان کے درویشوں کے مجسمے ہی ایستادہ نہیں، اقوال بھی آویزاں ہیں۔
خلیل جبران کے ساتھ بھی بہت ہی یونیک قسم کا رشتہ تھا اور ہے۔ میں انہیں بھی کم عمری میں مسلمان سمجھتا رہالیکن جب علم ہوا کہ یہ بھی سکندر اعظم کی طرح غیر مسلم تھے تو کئی دن عجیب سا ملال طاری رہا لیکن تعلق جاری رہا۔ آپ نسلاًعربی لیکن مذہباً مسیحی تھے۔ اسلام کو تسلیم کرتے لیکن عربیت سے انکاری تھے اور یہی وہ سوچ ، رویہ تھا جس نے جبران کو عالم اسلام میں اجنبی نہیں رہنے دیا۔ خلیل جبران کے بہت سے تراجم اردو میں موجود ہیں جن میں سے خاصے ’’فیک‘‘ بھی ہیں…… بہر حال آج یہ خوشگوار حادثہ ہوا کہ میں کسی اور کتاب کی تلاش میں شیلف در شیلف ٹکریں مار رہا تھاکہ اچانک خلیل جبران کا ایک مستند ترجمہ دکھائی دیا تو ناسٹیلجیا کا مرض پوری شدت سے حملہ آور ہوا۔ میں ضرورت کی کتاب بھول کر مدتوں بعد خلیل جبران کھول کر بیٹھ گیا تو اچانک خیال آیا کہ کیوں نہ آج قارئین کو خلیل جبران چکھایا جائے، خصوصاً نئی نسل جو شاید اس نام سے بھی آشنا نہیں ۔
٭٭٭
رحمت نصف عدالت کے سوا کچھ نہیں
٭٭٭
خیر و شر کے متعلق جو کچھ دنیا کہتی ہے، اگر وہ صحیح ہےتو پھر میری ساری زندگی جرائم کا ایک سلسلہ ہے
٭٭٭
کون جانتا ہے کہ اس نے شراب صرف اس لئے پی ہو کہ نشہ سے کہیں زیادہ بری چیزوں سے بچ سکے
٭٭٭
ایک لنگڑے کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنی لاٹھی دشمن کے سر پر نہ دے مارے
٭٭٭
نیک کو ن ہے؟ صرف وہ جو اپنی ذات کو ان لوگوں سے علیحدہ نہ کرے جنہیں دنیا برا سمجھتی ہے
٭٭٭
جرم…….. ضرورت ہے یا مرضی
٭٭٭
مقتول کے لئے یہی اعزاز ہے کہ وہ قاتل نہیں
٭٭٭
تنہائی ایک آندھی ہے جو شجر حیات کی تمام سوکھی شاخوں کو جھاڑ دیتی ہے مگر جڑوں کو زندہ تر کر دیتی ہے
٭٭٭
حاسدوں کی خاموشی بھی ہنگامہ خیز ہوتی ہے
٭٭٭
تم ایک نہیں دو ہو…. ایک اندھیرے میں بیدار اور دوسرا اجالے میں غافل
٭٭٭
کچھوے راستوں کو خرگوشوں سے زیادہ سمجھتے ہیں٭٭٭
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker