جنوبی پنجاب ایک بار پھر پانی کی بے رحم موجوں کی لپیٹ میں ہے۔ مگر اس بار صرف قدرت ہی قصوروار نہیں، انسانی غفلت اور انتظامی کوتاہیاں بھی اس تباہی کو بڑھا رہی ہیں۔ دریائے چناب اور ستلج کے سیلابی ریلے نے ملتان، مظفرگڑھ اور جلالپور پیروالہ میں ایسی قیامت ڈھائی ہے جس کی مثال عشروں میں نہیں ملتی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس پنجاب میں سیلاب کے باعث اب تک بارہ ملین افراد متاثر اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ صرف پنجاب کے دیہی علاقوں میں آٹھ ہزار چار سو دیہات اور دس لاکھ ایکڑ زرعی رقبہ زیرِ آب آ گیا ہے۔
بین الاقوامی ادارے بتاتے ہیں کہ سات لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ دو ملین سے زائد لوگ براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک کہانی ہے: اجڑی ہوئی بستیاں، بہہ جانے والے کھیت، بیمار بچوں کی آہیں اور اپنی زندگی بھر کی پونجی کھو دینے والے کسان۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ہم ایسے مناظر دیکھ رہے ہیں۔ 2014 کے سیلاب میں بھی پنجاب میں تین سو سڑسٹھ افراد ہلاک، اڑھائی ملین متاثر ہوئے ، اڑھائی ہزار سے زائد دیہات ڈوبے اور ایک لاکھ سے زیادہ گھر تباہ ہوئے تھے۔ اُس وقت بھی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ دریاؤں کے قدرتی راستے کو روکنے سے مزید بڑے سانحات جنم لیں گے، مگر ہم نے سبق نہیں سیکھا۔

ملتان میں ہیڈ محمد والا پل کی تعمیر نے دریائے چناب کی گزرگاہ کو تنگ کر دیا۔ برسوں سے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ مقام ہر بڑے سیلاب میں رکاوٹ بنے گا۔ 2014 میں انتظامیہ نے بروقت فیصلہ نہ کیا اور پانی مظفرآباد کے سکندری نالے تک جا پہنچا۔ آج بھی وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے اور فیصلے کی تاخیر نے پورے ڈویژن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
رنگ پور مکمل طور پر زیرِ آب آ چکا ہے۔ گھروں کی چھتوں تک پانی پہنچ گیا اور تاریخی مقامات جیسے رنگ پور کھیڑا بھی ڈوبنے کے خطرے میں ہیں۔ جلالپور پیروالہ میں پہلی بار شہر کو خالی کرانا پڑا۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ مظفرگڑھ کے خان گڑھ، روہیلاوالی، علی پور اور جتوئی دریائے چناب کے ریلوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ اگر بروقت شیر شاہ کے مقام پر بریچنگ کر دی جاتی تو نقصان کم ہوتا۔ لیکن انتظامیہ نے ایک بار پھر فیصلہ مؤخر کیا اور دریا نے خود راستہ نکالا، وہ راستہ جو بستیاں اور سڑکیں بہا لے گیا۔
سیلاب متاثرین کی حالت ناقابلِ بیان ہے۔ ریلیف کیمپوں میں شامیانوں کی کمی، بارش سے پھیلتی بیماریاں، پینے کے صاف پانی کا فقدان اور خوراک کی قلت ہر جگہ نظر آتی ہے۔ ہزاروں مویشی بہہ گئے یا بیمار پڑ گئے۔ کسانوں کے لیے یہ صرف زمین کا نہیں بلکہ آنے والے سالوں کی محنت کا نقصان ہے۔ رپورٹس کے مطابق پانچ لاکھ سے زیادہ مویشی متاثر یا ضائع ہوئے ہیں اور یہ نقصان براہِ راست ملک کی معیشت اور غریب کسانوں کے مستقبل پر پڑے گا۔ ادویہ، خوراک اور پینے کے پانی کی فراہمی بھی ناکافی ہے، جبکہ متاثرہ خاندان شدید کرب اور بے بسی میں دن گزار رہے ہیں۔
یہ تمام حالات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مسئلہ صرف بارش یا دریا کی طغیانی نہیں بلکہ انسانی غفلت اور بے ترتیبی ہے۔ دریاؤں کے کنارے غیرقانونی کاشتکاری اور رہائشیں، بروقت بریچنگ نہ کرنا، ماہرین کی رائے کو نظرانداز کرنا، اور ہنگامی منصوبہ بندی کا فقدان تباہی کو بڑھا رہے ہیں۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ جیسے مقامات پر انتظامیہ کی تاخیر اور عدم توجہی نے لاکھوں لوگوں کو مزید مصیبت میں ڈالا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو ہر سال یہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ دریاؤں کے قدرتی راستوں کو محفوظ بنانا، غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ، فوری فیصلہ سازی، بہتر انفراسٹرکچر اور امدادی سہولیات کی فراہمی اب ناگزیر ہیں۔ طویل المدتی حکمت عملی کے بغیر یہ تباہیاں بار بار ہمارے دروازے پر دستک دیں گی۔
دریا کو روکنے کی کوشش ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دریا جب راستہ بناتا ہے تو بستیاں، شہر اور کھیت ساتھ لے جاتا ہے۔ آج جو کچھ ملتان، مظفرگڑھ اور جلالپور پیروالہ میں ہو رہا ہے، وہ صرف قدرت کا نہیں بلکہ ہماری غفلت کا نتیجہ ہے۔ یہ تحریر ایک روداد نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ اگر ہم نے قدرتی اصولوں کو نہ مانا تو اگلا ریلا صرف زمین نہیں، تاریخ کو بھی بہا لے جائے گا۔

