ملتان : گردوپیش نیوز ۔۔درجنوں اموات، ہزاروں افراد کے بے گھر ہونے اور ہزاروں کی تعداد میں جانوروں کے بہہ جانے کے بعد ملتان کی ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کے افسران کو بالآخر ہوش آہی گیا اور انہوں نے رات گئے ملتان کے دو پوائنٹس ہیڈ محمد والہ اور شیر شاہ کو بریچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہاں پر موجود شہریوں کو فوری طور پر اپنے گھروں اور مال و متاع کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیدیا ہے۔ بند بوسن سے لیکر جلالپور پیر والا تک 150 کلو میٹر کی بیلٹ سیلابی پانی سے متاثر ہوئی ہےاور 135 سے زائد موضع جات دریائے چناب کے سیلابی ریلوں کی زد میں آچکے ہیں
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ملتان اگلے اڑتالیس گھنٹے تک کریٹیکل رہے گا۔ہیڈ تریموں سے آنیوالے نئے ریلے کے باعث ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ فلڈ بندوں پر پانی کا دباؤ بڑھنے گا، انتظامیہ کیجانب سے شیر شاہ بند کو توڑنے کی تیاریاں جاری ہیں ,بند توڑ کر پانی نشیبی علاقوں میں خارج کیا جائے گا ، شگاف کی صورت میں 8 ہزار گھر اور 30 ہزار سے زائد آبادی متاثر ہوگی
ملتان,موضع سلطان پور ہمڑ,جمہور,کچور اور گاگرہ میں پانی داخل ہونے کا امکان,سیلابی پانی مرزا پور اور بچ کے راستے شجاع آباد تک پھیلنے کا خدشہ ہے ,شیر شاہ روڈ پر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردیاگیا ,روڈ کی بندش سے ملتان کوئٹہ ٹریفک شدید متاثر ہوگی
جس کے بعد شیر شاہ روڈ کو بھاری ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے ۔مز ید برآں ہیڈ محمد والا کے بالائی علاقے میں دریائے راوی اور دریائے چناب کے سنگم پر دوسرا سیلابی ریلہ رات گئے پہنچ گیا۔ محکمہ آبپاشی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 60 کلو میٹر اپ اسٹریم پر پانی کی سطح 442.60 فٹ ریکارڈ کی گئی جو پہلے سیلابی ریلے کی زیادہ سے زیادہ سطح 442.90 فٹ سے محض 0.30 فٹ کم ہے۔ اس مقام پر پانی کی سطح فی الحال مستحکم ہے۔
ہیڈ محمد والا کے قریب حساس مقام "اکبر فلڈ بند (RD 11+300)” پر دوسرے ریلے کی سطح 413.22 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو پہلے ریلے کی زیادہ سے زیادہ سطح 413.90 فٹ سے 0.68 فٹ کم ہے، تاہم اس وقت یہاں پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے۔محکمہ کے مطابق دوسرا سیلابی ریلہ ہیڈ محمد والا اور دریاؤں کے سنگم تک پہنچ چکا ہے،صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور انتظامیہ نے نچلے علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
فیس بک کمینٹ

