راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصرف پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوگیا ہے جس میں کور کمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد سوار تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں امدادی کارروائیوں میں مصروف تھا جس سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جس وقت ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقطع ہوا اس میں کور کمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد سوار تھے اور وہ بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں پر مامور پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کمانڈر 12 کور اور دیگر سوار فوجی افسران کی حفاظت کی دعا کی۔ علاوہ ازیں صدر مملکت کی جانب سے سرچ آپریشن کی کامیابی کی بھی دعا کی گئی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ پوری قوم اللہ تعالیٰ کے حضور سیلاب متاثرین کی مدد پر نکلنے والے وطن کے ان بیٹوں کی سلامتی، حفاظت اور بخیریت واپسی کے لیے دعا گو ہے۔
تفصیلات کے مطابق آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر پانچ بج کر 10 منٹ پر اتھل کے علاقے سے اڑا اور اس نے چھ بج کر پانچ منٹ پر کراچی پہنچنا تھا تاہم راستے میں اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کی پولیس کے ڈی آئی جی پرویز عمرانی کا کہنا ہے کہ پولیس کی ٹیمیں بھی ہیلی کاپٹر تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ علاقہ پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے اور تلاش کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پرویز عمرانی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی ٹیمیں موٹرسائیکلوں پر بھی دشوار گزار علاقوں میں تلاش میں مصروف ہیں اور پولیس اور ایف سی کا مشترکہ ریسکیو آپریشن پانچ گھنٹوں سے جاری ہے
وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہونے والے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے لسبیلہ کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو تمام ذرائع اور وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس ریسکیو ٹیموں کو بھرپور معاونت فراہم کریں۔

