سرائیکی وسیب کے لوگ یہ بات کبھی بھی نہیں بھولے کہ آپ کے سابقہ دورمیں پہلی مرتبہ ہمیشہ سے نظرانداز ہونے والے اس خطہ کے مسائل پر باقاعدہ طورپرتوجہ دی گئی اوریہاں کے کئی دیرینہ مسائل نہ صرف حل ہوئے بلکہ کچھ کام توایسے بھی ہوئے کہ جن کایہاں کے لوگوں نے کبھی تصوربھی نہیں کیا تھاجیسا کہ کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ ،ڈینٹل کالج ،برن یونٹ کاقیام ،ملتان ڈیرہ غازیخان دورویہ سڑک اوردریائے چناب پرپل کی تعمیر ۔۔آپ کے ہی دورمیں صوبہ بھر کی طرح سرائیکی وسیب میں بھی ریسکیو 1122کاقیام عمل میں آیاجس سے یہاں کے لوگوں کوبہت بڑاریلیف ملا،پانی کے کھالوں کوپہلی بارپختہ کیاگیا،کھیت سے منڈی تک سڑکیں تعمیر کی گئیں ۔پہلی باردیہات سے شہروں تک رابطہ سڑکوں کاجال بچھایاگیامتعدد نئے کالجزوسکولزبنے ،سینکڑوں سکولوں کی اپ گریڈیشن ہوئی ۔شاہراہوں پرپٹرولنگ پوسٹس بنائی گئیں جس سے نہ صرف سڑکو ں پرہونے والی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی ہوئی بلکہ سفر بھی محفوظ ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع میں میگاترقیاتی منصوبے شروع ہوئے ،مظفرگڑھ میں سوشل سکیورٹی ہسپتال قائم ہوا،شہرمیں بوائز وگرلز ورکرز ویلفیئر سکولز بنے ،وہاڑی میں ملتان تاپاکپتن براستہ وہاڑی ،بوریوالاسڑک بنی ۔شہرمیں 14پارکس بنائے گئے اوران کی باقاعدہ تزئین وآرائش کاکام کیاگیا۔لیکن اس سب کے باوجود سرائیکی وسیب میں اب بھی لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی سمیت ہزاروں ایسے مسائل کاسامنا ہے جوآپکے بعد آنے والے حکمرانوں کی توجہ حاصل نہ کرسکے ۔
اس سے پہلے کہ ان مسائل کاذکرکیاجائے آپ کی توجہ دس روز قبل ضلع رحیم یارخان کے علاقہ ماچھکہ میں پیش آنے والے اندوہناک واقعہ کی طرف دلاناضروری ہے کہ جہاں دریائے سندھ میں باراتیوں کی کشتی ڈوبنے سے خواتین اور بچوں سمیت پچاس سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ نہ توکوئی بڑاسرکاری افسر اورنہ ہی سابقہ حکمران جماعت کاکوئی نمائندہ تعزیت کے لئے یہاں پہنچا اورنہ ہی لواحقین کے لئے کسی امداد کااعلان کیاگیا۔آپ کی توجہ کے لئے یہ بتانابھی ضروری ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں ہونے والے اس طرح کے متعددواقعات میں اب تک سیکڑوں افراد اپنی جانیں گنواچکے ہیں ۔آپ کی یہاں آمد سے نہ صرف خواتین کی اشک شوئی ہوگی بلکہ ماہرین کوایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی ہدایت بھی جاری ہوگی ۔ملتان اوربہاولپور میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کیاگیاہے لیکن ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اس سیکرٹریٹ کے قیام سے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہیں ۔اصل اختیارات اب بھی لاہور کے پاس ہی ہیں جس کی وجہ سے فائلز شٹل کاک بنی رہتی ہیں اورسا ئل جنہیں پہلے اپنا مسئلہ حل کروانے کے لئے صرف لاہور میں رشوت دینا پڑتی تھی اب انہیں لاہور کے ساتھ ساتھ ملتان اوربہاولپور میں بھی کام کروانے کے لئے نذرانہ دیناپڑتاہے ۔اسی طرح ملتان میانوالی روڈ ،مظفرگڑھ علی پور روز اورملتان پاک پتن روڈ جن پربلامبالغہ روزانہ لاکھوں شہری سفرکرتے ہیں تقریباََتباہ ہوچکی ہیں اورٹریفک حادثات کے باعث اب تک ہزاروں لو گ اپنی جانیں گنواچکے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ اب انہیں قاتل سڑکوں کے نام سے پکارتے ہیں ۔
پرویز الہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی بھی جس سے چاروں صوبوں کے لوگ مستفید ہوتے ہیں گونا گو ں مسائل سے دوچارہے ۔گزشتہ پانچ سال سے زیرتعمیر توسیعی بلاک کاکام فنڈز کی کمی کی وجہ سے رکاہواہے ،دل کے بیشترمریض جومختلف قسم کے دیگرامراض (multipul diseases)میں مبتلا ہوتے ہیں کے لئے دیگر شعبوں کے ماہرین کوتاحال بھرتی نہیں کیاجاسکااوراگرکسی دل کے مریض کو گردہ ،جگریادیگرسنگین قسم کے مسائل درپیش ہوں تو اسے دوسرے ہسپتال میں لے جانا مشکل ہوجاتاہے ۔آن کال پرنشتر،کڈنی سنٹریادیگر ہسپتال سے ڈاکٹرکوبلایا توجاسکتاہے مگرا س میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں جس سے مرض کی پیچیدگی بڑھ جاتی ہے ،ادویات اورسٹنٹ کی کمی بھی آئے روز کامسئلہ ہے یہی حال اس خطہ کے سب سے پرانے اوربڑے ہسپتال نشترہاسپٹل کاہے ،رواں مالی سال بھی 2ارب کے بجٹ میں سے صرف 78کروڑ ہی مل سکے جس سے دوائیوں کی کمی کاسامنا ہے ۔2018ءمیں نشتر کالج کو یونیورسٹی کادرجہ دیاگیا،مگرفنڈ زودرکار سٹاف کی عدم دستیابی کے باعث تاحال یونیورسٹی اپنے معاملات میں خودمختار نہیں ہوسکی اورامتحانات بھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تحت ہورہے ہیں ،گزشتہ تین سال سے یہاں کوئی مستقل ایم ایس تعینات نہیں ہوسکااس وقت بھی ایڈیشنل چارج سے ہی کام چلایاجارہاہے ۔خانیوال میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال صرف پونے دوسو بیڈ کاہے جسے پانچ سو بیڈکرناضروری ہے ۔زرعی یونیورسٹی ملتان کے کیمپس کے لئے خانیوال میں د س مربع اراضی مختص ہے اسے فی الفور یونیورسٹی کے حوالے کرکے کیمپس کاآغاز کیاجاناچاہیے ۔مظفرگڑھ میں انڈسٹریل اسٹیٹ آئی ٹی پارک ،رجب طیب اردگان کی توسیع ،مدراینڈ چائلڈ کیئر ہسپتالوں کے منصوبے اعلان کے باوجود شروع نہیں ہوسکے ۔لودھراں میں بوائز ڈگری کالج کے چند کمروں میں قائم بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے کیمپس کواپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے ۔2019سے شروع ہونے والالودھراں کہروڑ پکا روڈ کامیگاپراجیکٹ اورپرمٹ شجاع آباد روڈ دونوں پراجیکٹس فنڈزکی عدم دستیابی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں ان کے لئے فنڈز جاری ہونے چاہیں ۔لودھراں میں فیملی ہسپتال ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی سابقہ بلڈنگ میں بنایاہواہے ،مستقل بلڈنگ ہونی چاہیے ،لودھراں شہر کی لاکھوں کی آبادی کے لئے صرف ایک ہائی سکول ہے ،تونسہ سے بلوچستان موسیٰ خیل کے علاقہ درگ تک بین الاصوبائی شاہراہوں کی منظوری کاپروجیکٹ بھی رکا ہواہے یہاں کے لوگ امیدکرتے ہیں کہ آپ اپنے سابقہ دورکی طرح اس باربھی سرائیکی وسیب پراپنی بھرپورتوجہ دیں گے تاکہ یہاں کے لوگ بھی بنیادی انسانی سہولیات سے مستفید ہوسکیں ۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )
فیس بک کمینٹ

