اختصارئےلکھاری

قربانی کا اصل مفہوم کیا ہے ِ؟ ۔۔ حنا شہزادی

اگر ہم عید الاضحی کے معنی پر غور کریں تو ہمیں اس کا مقصد صرف قربانی کی صورت میں نظر آتا ہے اب سوال یہ پیداہوتا ہی کہ کیا یہ مقصد صرف جانوروں کی قربانی تک محدود ہے ہا اس کا مفہوم کوئی خاص مقاصد بھی رکھتا ہے ۔ عام لفظوں میں ہم عید الاضحی کو قربانی کی عید کہتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی بتاتے اور سمجھاتے ہیں ،لیکن اس قربانی کے اصل مفہوم سے ہم بھی آج تک ناواقف ہیں اور اس کے معانی کو محدود کر دیا ہے ۔ اصل معنوں میں قربانی ہے جذبات کی ، احساسات کی، محنت کی۔اپنے مال کی، وقت کی ۔گناہوں سے بچنے کی قربانی ہے دوسروں کو اپنانے کی، قربانی ہے غریبوں کو بھی انسان سمجھنے کی لیکن ہم ان سب باتوں کو فراموش کر چکے ہیں ۔ہمیں اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ ہمارا دین ہم سے اور بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے جس کو ہم بالکل بھول کر اپنی زندگی میں مست ہو گئے ہیں ۔حتیٰ کہ ہم عید کی قربانی کا مفہوم بھی پوری طرح سے ادا نہیں کرتے آج کل عید قربان بھی فیشن اور دکھاوا بن کر رہ گئی ہے ہر کوئی اللہ کی خوشنودی کی بجائے صرف لوگوں کے سامنے اپنی واہ واہ اور دکھاوے کے لئے قربانی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہیں اور لوگوں کے رزق سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔اگر ہم دل کی آنکھوں سے دیکھیں تو عید قرباں میں بے شمار حکمتیں ہیں جو پوشیدہ بھی ہیں اور ظاہر بھی ، اگر ہم ان حکمتوں پر غور کریں تو ہمیں اس کی تہہ میں چھپے ہوئے لعل و جواہر نظر آئیں گے ، دین و ملت کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جو قربانی کے بغیر ترقی کے زینے چڑھ سکے ۔ چاہے وہ کربلا کا دن ہو یا کوئی بھی اہم موقع ۔ قربانی کے بغیر کوئی اہم امور کامیاب نہیں ہو سکتے اگر کوئی اتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ عید الاضحی کے دن اللہ کے حضور قربانی پیش کرے تو وہ دیگر بہت سی قربانیاں کرے ۔ قربانی کے لئے صرف عید الاضحی کا مہینہ ضروری نہیں بلکہ پورے سال زندگی اللہ کی راہ میں کچھ دے کر پیش کی جا سکتی ہے ۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قربانی کے حقیقی مفہوم کو سمجھا جائے اور اس کے معنی کو زندگی کے مختلف میدانوں تک وسیع کیا جائے تو یقینا ہمیں اندازہ ہو گا کہ زندگی کے مسائل کی چادر کہاں کہاں پھٹی ہے اور ہم اپنی قربا نیوں سے انہیں کہاں تک رفو کر سکتے ہیں ہمیں پتا ہے کہ زندگی کی گاڑی بغیر قربانیوں اور محبتوں کے کھبی نہیں چل سکتی۔ انسانی زندگی کی عمارت دراصل قربانیوں ہی کی بنیاد پر کھڑی ہے ۔یہاں ہم قربانی کے مفہوم کو ذرا سا پھیلا دیں تو کہیں گے کہ قربانی محنت ،جستجو،طلب ،جدوجہد اور مسلسل جرات و ہمت کے ہم معنی ہے، زندگی کا کوئی گوشہ بغیر ان کے سر سبز نہیں ہوتا۔ اس لئے قربانی کو محض جانوروں یا عید الاضحی تک محدود کرنے کی بجائے اصل مفہوم کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں شامل کریں اور اس کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker