ڈاکٹر ادیب شکر گڑھی کا شمار شکر گڑھ کے معروف ڈاکٹروں میں ہوتا ہے ۔ ادب ان کا مشغلہ اور ڈاکٹری ان کا شوق ہے ۔ تعلق چونکہ شکر گڑھ سے ہے اس لئے علی گڑھ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ادیبوں کو بھی منہ نہیں لگاتے ۔ ان کا مؤ قف ہے کہ شکر گڑھ میں اگرچہ کوئی یونیورسٹی نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ شہر علی گڑھ سے کسی طور کم نہیں ۔ ادیب شکر گڑھی تنقید کے حوالے سے کئی کتابیں مرتب کر چکے ہیں لیکن خود کو ان کا مصنف کہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کتابیں قینچی ورک کا شاہکار ہیں لیکن اس کے باوجود میں ان کا مصنف ہوں ۔ ادیب شکر گڑھی کے بقول ادب میں سب سے مشکل کام ہی قینچی ورک ہے ۔ دلیل ان کے پاس یہ ہے کہ اگر یہ کام آسان ہے تو باقی ادیب اپنی تخلیقات میں اس کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے ۔
قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم نے ادیب شکر گڑھی سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا جس کے کچھ حصے یہاں شائع کئے جارہے ہیں ۔
س:۔ ڈاکٹر صاحب آپ کا اصلی نام؟
ج:۔ اصل نام تو رحیم بخش ہے ۔ ادیب میرا تخلص ہے اور شکر گڑھ میرا شہر ہے ۔
س:۔ تخلص سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ کیا آپ شاعری بھی کرتے ہیں؟
ج:۔ نہیں شاعری تو میں ہر گز نہیں کرتا۔
س:۔ تو پھر تخلص کیوں رکھا؟
ج:۔ ضروری تو نہیں کہ تخلص کی خاطر شاعری بھی کی جائے ۔
س:۔ آپ ادیب کیسے بنے؟
ج:۔ محلے والوں کے خط لکھ لکھ کر ۔
س:۔ اور نقاد؟
ج:۔ رشتہ داروں پر تنقید کر کے ۔
س:۔ میرا مطلب ہے آپ ادب کے حوالے سے نقاد کب بنے؟
ج:۔ میں بھی ادب کے حوالے سے ہی ذکر کر رہا ہوں ۔ میرے بہت سے رشتہ دار ادیب اور شاعر تھے ۔ ہمارے پھوپھا زاد بھائی کے اصطبل میں ہفتہ وار اجلاس ہوا کرتا تھا جس میں سب رشتے دار اپنی تخلیقات پیش کرتے تھے پھر وہاں دھواں دھار تنقید ہوتی تھی ۔ میرے والد بزرگوار نے جس رشتہ دار سے بھی بدلہ لینا ہوتا تھا مجھے اس کے پیچھے لگا دیتے تھے ۔ میں اس پر خوب تنقید کرتا ۔ رفتہ رفتہ میرا نام ادبی حلقوں میں متعارف ہو گیا ۔
س:۔ یہ تو شکر گڑھ کی بات ہوئی نا ۔ آپ نے ملک گیر شہرت کیسے حاصل کی؟
ج:۔ اللہ کا دیا بہت کچھ تھا جی ۔ بس ایک شہرت ہی کی کمی تھی ۔ ویسے تو میرے والد صاحب اپنے محلے میں بہت مشہور تھے ۔ انہوں نے دو مرتبہ جیل کاٹی اور تین مرتبہ ہمسائے کو کاٹا کیونکہ ایک مرتبہ انہیں بھی ایک باﺅلے کتے نے کاٹا تھا ۔
س:۔ میرا خیال ہے ہم ادب کی بات کر رہے تھے؟
ج:۔ میں بھی ادب ہی کی بات کر رہا ہوں ۔ والد صاحب کا جب بھی ذکر آتا ہے میں ہمیشہ ادب سے ہی بات کرتا ہوں ۔
س:۔ اچھا ادیب صاحب یہ بتائیں کہ آپ نے پہلا تنقیدی مضمون کب لکھا؟
ج:۔ جب مجھے شہر کے کباڑئیے کی دکان پر ادبی دنیا ، نیرنگ خیال، سویرا، اور ادب لطیف کے پرانے پرچے ملے ۔
س:۔ تو کیا آپ نے ان رسالوں میں سے مضمون نکال کر اپنے نام سے چھپوا دئیے ۔
ج:۔ جی بات یہ ہے کہ ان پرچوں میں بہت سے مضمون ایسے تھے جن کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ تھی کہ انہیں دوبارہ شائع ہونا چاہیے ۔ مقصد یہ ہے کہ میں نے یہ سب کچھ ادب کے طالب علموں کی بھلائی کے لئے ہی کیا تھا۔
س:۔ تو کیا کسی کو معلوم نہیں ہوا کہ آپ نے مضامین چوری کئے ہیں؟
ج:۔ یہ آپ نے چوری چوری کی رٹ کیوں لگا رکھی ہے۔ لوگ بینک لوٹ لیتے ہیں ڈاکے ڈالتے ہیں اور معزز کہلاتے ہیں کیا ہوا اگر میں نے ایک دو مضمون اپنے نام سے شائع کروا لئے ۔
س:۔ پھر اس کے بعد کیا ہوا؟
ج:۔ پھر کیا ہونا تھا ۔ ادبی رسالوں کے مدیروں نے آپ جیسے لوگوں کے کہنے پر میری تحریریں شائع کرنے سے انکار کر دیا ۔ اللہ بڑا کارساز ہے ، اس نے ہماری شہرت کا کوئی اور سبب بنا دیا ۔
س:۔ وہ کیا سبب تھا؟
ج:۔ میں ٹی وی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ۔
س:۔ کیا کسی پروڈیوسر سے دوستی تھی؟
ج:۔ نہیں جناب ، میں پروڈیوسر کو کیا سمجھتا ہوں جی ؟ میرا ایک لنگوٹیا ہوتا تھا حمید لمبو اکٹھے ہی گلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے ہم دونوں ۔ وہ پڑھ لکھ کر بے روزگار ہو گیا بمشکل تمام ۔کئی سال دھکے کھانے کے بعد وہ ٹی وی سٹیشن کا گیٹ کیپر بن گیا ۔ اس نے مجھے پاس بنوا دیا اور میں ٹی وی سٹیشن میں چلا گیا ۔ بس پھر پروڈیوسروں سے دوستی ہو ہی جاتی ہے ۔
س:۔ تو آپ کی شہرت آپ کے گیٹ کیپر دوست کی مرہون منت ہے ؟
ج:۔ نہیں جی میرا اپنا بھی بہت عمل دخل ہے اس میں ۔ محنت کی ہے میں نے یہ مقام حاصل کرنے کے لئے ۔
س:۔ آپ نے اب تک جو تخلیقی کام کیا ہے اس کی تفصیل کیا ہے؟
ج:۔ ماشاءاللہ سے میرے دو بچے ہیں جناب۔
س:۔ میں ادب کے حوالے سے پوچھ رہا تھا؟
ج:۔ میرا بہت ادب کرتے ہیں جی ، اللہ سلامت رکھے، ان کو بھی اور ان کی ماں کو بھی وہ بھی بڑی خدمت گزار اور مؤ دب عورت ہے ۔
س:۔ میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ اب تک آپ کی کتابیں کتنی چھپ چکی ہیں؟
ج:۔ اچھا ، اچھا آپ کتابوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ اللہ سلامت رکھے جی۔ اب تک 10 کتابیں چھپ چکی ہیں ۔
س:۔ اللہ کسے سلامت رکھے جناب !
ج:۔ چھاپنے والے کو جی ، اور کسے ۔
س:۔ آپ تنقید میں کون کون سے ادیبوں سے متاثر ہیں؟
ج:۔ اکبر اللہ آبادی سے ۔
س:۔ وہ نقاد تو نہیں تھے؟
ج:۔ آپ کو کیا پتہ جناب ۔ ایسی ایسی تنقید کی ہے انہوں نے معاشرے پر کہ رہے
رب دا نام ۔
س:۔ شاعری میں آپ کس سے متاثر ہیں؟
ج:۔ اپنی بھوا کے پتر سے ۔
س:۔ مغربی تنقید کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج:۔ میں جناب لعنت بھیجتا ہوں مغرب والوں پر ۔ ان لوگوں کا تو کام ہی یہی ہے کہ مسلمانوں پر تنقید کی جائے ۔ میں نے تو اسی کام کے لئے ڈش انٹینا بھی خرید لیا ہے ۔ روز مغربی تنقید اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور روز ان پر لعنت بھیجتا ہوں۔
س:۔ ادیب صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ ہم نے آپ کا قیمتی وقت
ج:۔ چھوڑیں جناب شکریہ تو آپ کا جنہوں نے میرا انٹرویو چھاپنا ہے ۔ بس یہ خیال رکھیں لمبو گیٹ کیپر کا ذکر ضرور آنا چاہیے ورنہ ناراض ہو جائے گا ۔

