حسنین جمالکالملکھاری

روسی جاسوسوں کا اندھا قتل اور برطانیہ کا ردعمل : جمال گفت / حسنین جمال

دسمبر2014 ء کی سرد رات تھی۔ لندن سکوائر سنسان تھا۔ سردی کی وجہ سے رات کے اس پہر کوئی خاص آمد و رفت دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اس سناٹے میں ایک لاش آسمان سے نیچے آتی دکھائی دی اور زوردار آواز کے ساتھ زمین سے ٹکرا گئی۔ چاندنی اور مدھم روشنی میں بکھرا ہوا خون سکاٹ ینگ کا تھا۔ ارب پتی سکاٹ ینگ اپنے دوستوں، خاندان والوں اور پولیس کو ایک عرصہ ہوا یہی بتاتا تھا کہ اس کی جان کو روسی ٹارگٹ کلرز سے شدید خطرہ ہے۔ وہ بورس برزووسکی کا نزدیکی ساتھی تھا۔ کچھ عرصہ پہلے اس کی اپنی بیوی سے طلاق ہوئی تھی اور اس اوپن میڈیا ٹرائل کے نتیجے میں وہ میڈیا کی نظروں میں آ چکا تھا۔ اس کا یہ خطرے والا دعویٰ بھی میڈیا والوں کے سامنے تھا۔ جب پولیس اس کے فلیٹ میں داخل ہوئی تو انہیں معمولی سے معمولی نشان یا کوئی فنگر پرنٹ تک نہیں ملا۔ اسے خود کشی کا ایک کیس کہہ کر فائل بند کر دی گئی۔ یہ بھی مشہور ہوا کہ مرنے سے پہلے سکاٹ ینگ نے اپنی گرل فرینڈ کو فون کیا تھا اور اسے کہا تھا کہ اب تم میرے مرنے کی آواز سنو گی۔
بورس برزووسکی اس سے پہلے مارچ 2013 ء میں مارا جا چکا تھا۔ وہ رشین اکیڈمی آف سائنس کا رکن تھا، بڑا بزنس مین تھا اور ایک کوالیفائڈ انجینئر تھا۔ شروع میں وہ اسی پارٹی کا رکن تھا جس نے پیوٹن کو روسی پارلیمینٹ میں مضبوط کیا لیکن بعد میں اس کے ظلم و ستم دیکھتے ہوئے وہ پارٹی اور پیوٹن کا سخت مخالف ہو گیا۔ یہ غداری تھی۔ روس میں ہونے والے2000ء کے صدارتی الیکشنوں میں بھی اس نے پیوٹن کو اچھا خاصا ‘وقتا‘ ڈال کے رکھا ہوا تھا اور بعد میں بھی کوئی چانس خالی نہیں چھوڑتا تھا۔ الیکشنوں کے بعد روسی عدالت عالیہ نے اسے جوابدہی کے لیے طلب کیا تو وہ بیرون ملک فرار ہو کے برطانیہ میں سیاسی پناہ لے چکا تھا۔ پھر اسے کسی پرانے کیس میں پھنسا کے فراڈ اور دھوکہ دہی کا ملزم قرار دیا گیا، روسیوں نے انٹرپول سے اس کے ریڈ وارنٹ نکلوائے لیکن سب کچھ کر کے بھی وہ بورس کو برطانیہ سے منگوا نہ سکے۔ 2013ء میں بورس برزووسکی اپنے گھر پہ مردہ پایا گیا۔ وہ باتھ روم میں تھا اور اس کی گردن کے گرد پھانسی کا پھندہ تھا۔ خبر چل گئی کہ بورس نے خود کشی کر لی۔ لوگوں نے شور مچایا تو بڑے پیمانے پہ تحقیقات ہوئیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکا۔ اسے دفناتے وقت میڈیا سے بچنے کے لیے بار بار وقت بدلا گیا اور بالآخر وہ زمین کے سپرد ہو گیا۔ مارچ2014ء میں اس کی بیٹی نے ایک جرمن فورنزک ایکسپرٹ کو باپ کی ساری پوسٹ مارٹم اور آٹوپسی رپورٹس دکھائیں تو اس کا اعتراض یہ تھا کہ اگر خود کشی کی جائے تو گردن پہ پھانسی کے پھندے کا نشان ‘وی شکل‘ کا ہوتا ہے، تھوڑا بیضوی سا کہہ لیجیے، وہ نشان گول ہرگز نہیں ہوتا۔ بورس کی گردن پہ گول نشان تھا‘ جیسے کسی نے پہلے رسی سے گلا گھونٹ کے مارا ہو۔ پھر لٹکتے رہنے کی وجہ سے خود کشی کرنے والے کا چہرہ پیلا ہوتا ہے، ادھر بورس کا چہرہ خون کی زیادتی سے جامنی کیوں ہو رہا تھا؟ ان اعتراضات کے ساتھ یہ برطانیہ کی سرزمین پہ ایک اور متنازع روسی واردات تھی۔
الیگزینڈر لٹوینینکو روسی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی میں جاب کرتا تھا۔ وہ اس دوران کسی کام کے چکر میں بورس برزووسکی سے ملا اور دونوں کی اچھی دوستی ہو گئی۔ الیگزینڈر جب سے خفیہ ایجنسی میں آیا تھا اسے ایک ہی تکلیف تھی۔ وہ بار بار یہ دیکھ رہا تھا کہ ایجنسی کے تعلقات ساری روسی انڈر ورلڈ کے ساتھ ہیں۔ وہ سیدھا آدمی تھا اور اسے یہ سب سمجھ نہیں آتا تھا۔ بورس برزووسکی نے اس کی ملاقات کچھ ہائی کمان والوں سے کرائی، وہاں بھی الیگزینڈر نے اپنا مدعا پیش کیا، فائدہ کچھ نہ ہوا۔ آہستہ آہستہ الیگزینڈر کو اندازہ ہو گیا کہ پورا تالاب گندہ ہے‘ کوئی ایک آدھی مچھلی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس نے ایک مضمون لکھا اور اس میں ایجینسیوں اور مافیا کے تعلقات پہ اپنی بھڑاس نکالی۔ پھر اس کے بہت ضد کرنے پہ برزوسکی نے اسے پیوٹن سے ملوایا جو ان دنوں خفیہ ایجنسی کا چیف تھا۔ الیگزینڈر نے یہی ساری بات پیوٹن سے بھی کر دی لیکن وہ پیوٹن کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ چکا تھا۔ کوئی حل نہ دیکھتے ہوئے سسٹم ٹھیک کرنے کی آخری امید میں الیگزینڈر نے پریس کانفرنس کر ڈالی اور یہ دعویٰ کیا کہ میرے افسر مجھے روسی بزنس مینوں اور بڑے لوگوں کے اغوا برائے تاوان کے لیے فورس کرتے رہے۔ بہت ہنگامہ ہوا، پیوٹن کے آرڈرز پہ اس دن الیگزینڈر خفیہ کی نوکری سے فارغ تھا۔ الیگزینڈر لندن چلا گیا۔ 2000ء میں اسے وہاں سیاسی پناہ مل گئی۔ اس نے دو کتابیں لکھیں جن میں اس نے بھانڈا پھوڑا کہ صدر پیوٹن کیا کچھ کرتے ہوئے‘ روسی صدارت تک پہنچے۔ اس نے اکتوبر2006ء میں قتل ہونے والی ایک روسی ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ کا مدعا بھی پیوٹن کے سر پہ ڈالا اور اپنے تعلقات اور ذرائع کے زور پہ یہ دعویٰ کیا کہ قاتل صرف روسی حکومت ہے۔ یکم نومبر2006 ء کو الیگزینڈر اچانک بیمار ہوا اور تیئس نومبر کو وہ فوت ہو چکا تھا۔ برطانیہ کی سرزمین پہ ایک اور روسی پناہ گزین قتل ہو چکا تھا۔ اسے پلونیم 210 دیا گیا جو کہ ایک شدید تابکاری زہر ہے۔ دس سال چلنے والی برطانوی تفتیش کے سرے 2016ء میں روس اور ڈائریکٹ صدر پیوٹن تک پہنچتے تھے لیکن روس اب بھی انکاری تھا۔ روس کے مطابق اس کا ان سب اموات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
مارچ 2014ء برزووسکی قتل کیس، دسمبر 2014ء سکاٹ ینگ کیس اور جنوری 2016ء کے الیگزینڈر لٹوینینکو مرڈر کیس کا بہت زیادہ پریشر تھریسا مے پر تھا۔ برطانوی عوام یہ سمجھنے پہ مجبور ہو گئے تھے کہ حکومت جان بوجھ کے برطانوی سرزمین پہ ہونے والے ان روسی قتل کیسسز سے پردہ پوشی کر رہی ہے۔ حکومت خود بھی بہرحال سفارتی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتی تھی ورنہ تینوں کیسز میں کئی لوپ ہولز تھے جن پہ ٹھیک سے تفتیش ہوئی تو آخر پرائیویٹ سراغ رسانوں کی تان روس پہ ہی جا کے ٹوٹی۔ سکاٹ ینگ کے علاوہ کم از کم اور بارہ لوگ ایسے تھے جو برزووسکی کے قریبی ساتھی شمار ہوتے تھے، وہ سب بھی پچھلے دس برس میں پراسرار موت کا شکار ہو گئے۔ اب یہ ایک اور جاسوس (سرگئی اسکریپال) اور ان کی بیٹی کو قتل کرنے کی کوشش والا تازہ ترین معاملہ برطانیہ کے لیے ناقابل برداشت تھا۔
سرگئی روس کے ریٹائرڈ کرنل تھے، برطانیہ کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں انہیں روس نے سزا سنائی، 2010ء میں ان کی سزا معاف کر کے ان سمیت چار جاسوس رشیا نے امریکہ کے حوالے کر دیئے لیکن وہ روس کی لسٹ پہ موجود تھے۔ وہ لسٹ جس میں غداری کی سزا موت ہے۔ تو چھیاسٹھ سالہ سرگئی اسکریپال اور ان کی تینتیس سالہ بیٹی کو بھی ساتھ ہی قتل کرنے کی کوشش ہوئی جو کامیاب ہو گئی اور وہ دونوں سالسبری انگلینڈ میں ایک بینچ پہ نیم مردہ پائے گئے۔ فٹافٹ ہسپتال لے جایا گیا ٹیسٹ ہوئے، معلوم ہوا کہ انہیں قتل کرنے کے لیے جو زہر استعمال ہوا ہے وہ سرد جنگ کے زمانے کی مشہور سوویت ایجاد نوویچوک ہے۔ برطانیہ نے روس سے آفیشلی پوچھا کہ بتائیے یہ کیا معاملہ ہے؟ تو ادھر سے جواب آیا کہ ”نیوکلیئر سپر پاور روس کو جواب دینے کا حکم نہیں دیا جا سکتا‘‘۔
یہ پورا کیس تھا جس کی وجہ سے برطانیہ کا پارہ ہائی ہوا اور روس کے تیئس سفارت کاروں کو برطانیہ چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ لیکن یہ سب ہوا بڑے غلط وقت پہ ہے۔
سرد جنگ کے زمانوں میں بھی روس کا ہولڈ شام پہ اچھا خاصا تھا، یہ لوگ ہتھیار اور امداد دیتے تھے، وہ واری صدقے ہوتے تھے۔ روس ٹوٹا تو اثر کم ہو گیا لیکن پیوٹن 2000ء میں صدر بنے اور شام میں اسی سال بشار الاسد آئے تو محبتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے لگا۔ عرب سپرنگ کے بعد کام فل زوروں پہ ہو گیا۔ حالیہ شام جنگ میں امریکہ اور برطانیہ روسی اثر کے خلاف تھے۔ وہ شام میں روسیوں کے مقابل آ گئے۔ اس وقت ٹرمپ کا بیان بھی آ چکا ہے کہ روس کو جواب دینا ہو گا کہ جاسوسوں کو قتل کرنے والا کیمیائی مادہ برطانیہ پہنچا کیسے۔ تو شام کی جنگ کا غصہ اب پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ تیسری عالمی جنگ کا امکان تو نظر نہیں آتا لیکن ٹھیک ٹھاک آفت اور بربادی نظر آ رہی ہے۔ خدا ہمیں اپنے ٹرمپوں اور پیوٹنوں کے شر سے محفوظ رکھے، باقی جو ہو گا دیکھا جائے گا۔
(بشکریہ : روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker