اسلام آباد:سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف دائر کی گئیں اپیلوں پر سماعت 24 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔
سماعت کے دوران بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضواب عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس میں دو بڑے اہم گواہان کے بیانات موجود ہیں اور کیس کے اہم گواہان کے مطابق عدت کے دوران نکاح کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ نکاح خواں نے دونوں سے نکاح کے تمام تر تقاضے مکمل ہونے کا پوچھا تھا۔
ان اپیلبوں کی سماعت کرنے والے جج نے خاور مانیکا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا نکاح سے متعلق میٹیریل کے لیے عمران خان سے بھی پوچھا گیا تھا؟ جس پر راجہ رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہی نکاح خواں کو دوبارہ نکاح کے لیے کہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ شواہد موجود ہیں کہ ’دونوں مجرمان عدت میں نکاح سے متعلق آگاہ تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے وکلا شواہد کو جھٹلا نہیں سکتے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان اور اور بشریٰ بی بی کی شادی ’فراڈ تھی جو ثابت بھی ہوئی۔‘
خاورمانیکا کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو عدت میں رجوع کرنے کے حق سے محروم رکھا گیا اور خاورمانیکا کے بچوں سے بھی حقوق چھین لیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ دورانِ عدت شادی کی تو ’کوئی اہمیت ہی نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ یکم جنوری 2018 کو ہونے والے نکاح کو ثبوتوں کے ساتھ ثابت کیا کہ شادی غیر قانونی تھی۔ راجہ رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا اور خاور مانیکا کی شکایت پر 496 اور 496 بی کے دفعات شامل ہوئیں۔
انھوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے 496 بی کی دفعہ کو حذف کر کے 496 کے تحت سزا سنائی تھی جبکہ دونوں ملزمان نے فرد جرم عائد ہونے پر صحت جرم سے انکار کیا تھا۔
خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی کا دلائل کے لیے مئی کے پہلے ہفتے تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی جبکہ عمران خان اور بشری بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سماعت ملتوی کرنے کی مخالفت کی۔
عدالت نے راجہ رضوان عباسی سے استفسار کیا کہ انھیں دلائل مکمل کرنے میں مزید کتنا وقت درکار ہوگا جس پر عدالت کو بتایا گا کہ انھیں مزید تین سے چار گھنٹے درکار ہوں گے۔
عدالت نے ان اپیلوں پر سماعت 24 اپریل تک ملتوی کر دی جس پر عمران خان اور بشری بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے اختلاف کیا اور 16 اپریل کو ان اپیلوں کی سماعت دوبارہ مقرر کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور نہیں کیا۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)

