یہ 1984 کی بات ہے میں اپنے والد صاحب کے ساتھ کسی کام سے حیدرآ باد گیا ہم ان دنوں کراچی میں رہتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ حیدرآ باد میں داخلہ بھی مشکل ہے اور حیدرآ باد کی تمام مین سڑکیں بند ہیں ۔ پتا یہ چلا کہ سندھ کی علیحدگی پسند جماعتیں جن میں کوئی تقریبا 16 جماعتیں شامل تھیں اور جن کی سربراہی جی ایم سید کر رہے تھے اور وہیں پر جی ایم سید صاحب کی سالگرہ بھی منائی جانی تھی وہاں ایک جلسہ عام منعقد کر رہے ہیں اس جلسہ گاہ کے جب میں نے کچھ قریب سے گزرا تو سڑکوں پر بڑے عجیب و غریب ترانے تھے ۔ ترانوں کا لب لباب یہ تھا کہ توڑ دو پاکستان کو اور عموما میرے دوستوں کو یاد ہوگا کہ جی ایم سید صاحب اپنی سالگرہ ہمیشہ ہی ان کے جو جھنڈے پر ایک کلہاڑی کا نشان ہوتا تھا اور وہ کلہاڑی سے پاکستان کے نقشے نما کیک سے سندھ کو کاٹ کر علیحدہ کیا کرتے تھے۔ میرا دل ننھا منھا تھا دل میں بڑا خوف پیدا ہوا کیونکہ ہمارا تعلق ملتان سے تھا اور ہم بظاہر پردیس میں تھے اور میرا خوف بڑا شدت اختیار کر گیا کہ اللہ معاف کرے اگر یہ ہو گیا اور میں اپنے اندیشوں میں اپنے آ پ سے ہی سوال کرتا رہا تو پھر کیا ہوگا ؟ ۔
کیا میں اپنی نانی اماں اور دادی اماں سے ملتان مل پاؤں گا یا نہیں مل پاؤں گا کیا میں کبھی جا سکوں گا یا نہ جا سکوں گا اور میری معلومات چونکہ اتنی زیادہ نہیں تھی اور حقیقی حالات بھی اتنے زیادہ پتہ نہیں تھے لیکن بہرحال میرا خوف میرے اندر موجود رہا اور بدقسمتی یہ ہے کہ آج کل بھی ہمارے ہاں کچھ سیاسی دوستوں کے تبصروں ، یوٹیوبرز اور اس کے ساتھ ساتھ مل کر بہت سارے وہ لکھاری جن کے پیٹ میں ہمیشہ سے درد رہا وہ درد دو وجہ سے تھا یا تو کبھی اسٹیبلشمنٹ انہوں نے لفٹ نہیں کرائی یا وہ شاید اپنے آ پ کو ذہنی طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں میں ان لکھاریوں کو ایسا ذہنی مریض سمجھتا ہوں جو توجہ نہ ملنے پر گالیاں دینا شروع کردیا ہے ان لکھاریوں نے بھی یہ موقع جان لیا ہے کہ شاید کے پی اور کچھ بلوچستان کے اسمگلروں کی خرچے پر چلنے والی سرحدی تحریک کے گن گا لیں اور سوشل میڈیا پر ریٹنگ حاصل کرلیں کچھ سرحد پہ جلسے ہو رہے ہیں جس میں افغانستان کے لوگ آ جاتے ہیں جلسے میں رونق لگ جاتی ہے ایک نوجوان خوبصورت چہرے والا پشتو میں بڑی خوبصورت تقریر کرتا ہے پشتو زبان تو خیر مجھے بھی بڑی پسند ہے پشتو میوزک کا میں بڑا دیوانہ ہوں کچھ سمجھ آ تی ہے کچھ نہیں آ تی لیکن بہرحال ایک چیز ہمیشہ سے رہی ہے کہ پختون مقرر ہمیشہ بڑے شاندار مقرر ہوتے ہیں تقریر بڑی جذباتی کرتے ہیں اور ہمارے پختون دوستوں کا خون بھی کرواتے ہیں بہرحال اس کو دیکھتے ہوئے اس دال پر تڑکا اس وقت لگتا ہے جب ہمارے پی ٹی آ ئی کے یوتھیئے بھی ساتھ مل جاتے ہیں اور اب اللہ جانے 11 اکتوبر کی خیر ہو کہ سننے میں تو یہ آ رہا ہے کہ 11 اکتوبر کو انہوں نے تاریخ دے دی ہے اور انہوں نے میں نے دیکھی ہے کہ انہوں نے آ دھے پاکستان کو لکیر لگا کر ملک سے علیحدہ کر دیا ہے جبکہ ان کی خواہش بھی جی ایم سید کے کیک کی طرح ہے جیسے وہ اپنی کلہاڑی سے سندھ کو کیک سے علیحدہ کرنے کی خواہش لئے قبر میں چلے گئے انشاءاللہ ملک پاکستان سے یہ چند نام نہاد شیطان بھی اس خواہش کو لیے قبروں میں چلے جائیں گے اور پاکستان ہمیشہ رہنے کے لیے بنا ہے۔
کچھ لوگ مثالیں دیتے ہیں کہ جناب پاکستان پہلے بھی تو ٹوٹا تھا ہاں درست مانتے ہیں ٹوٹا تھا اس میں کچھ بنیادی غلطیاں تھیں اس میں ہم سے سیاسی غلطیاں بھی ہوئیں فوجی غلطیاں بھی ہوئیں لیکن ایسا نہیں ہوا کرتا اور اس کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے بھی کچھ چیزیں ممکنات میں سے تھیں جو مولانا عبدالکلام ازاد نے اپنی کتاب میں لکھ دی تھیں لیکن ایک بات حقیقت ہے کہ یہ ملک ہمیشہ رہنے کے لیے بنا ہے اب اللہ جانے ہمارے ہاں یہ ننے منے خوف کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر لوگ ہمارے جو ہیں وہ بالکل ہی تاریخ کی کتابیں نہیں پڑھتے میڈیا سے دور ہیں ہاتھ میں موبائل ہے اور ہاتھ میں جو موبائل ہے بس وہی کافی ہے ۔جو کچھ فیس بک پر ہے وہی سچ ہے جون کا پسندیدہ یوٹیوبر کہہ رہا ہے وہی سچ ہے جو ان کا پسندیدہ اینکر ان کی پسندیدہ جماعت کے متعلق کہہ رہا ہے وہی سچ ہے اس سے آ گے جا کر علم نہ حاصل کرنے کی عادت نے اس ننھے خوف کو مزید دل میں مضبوط کر دیا ہے لیکن اگر حقیقی حالات دیکھے جائیں تو سرحدوں پر واقع علاقوں میں چھوٹے چھوٹے جلسے کر لینے سے کبھی ملک نہیں ٹوٹا کرتے نا ملک بنا کرتے ہیں ملک بننے اور ٹوٹنے کے دیگر عوامل ہوتے ہیں کیونکہ اصل میں تاریخ انہوں نے دیکھی کوئی نہیں۔
ہم نے بچپن میں اس سے بڑے بڑے جلسے دیکھے ہیں کبھی کوئٹہ میں کبھی بلوچستان میں کبھی سندھ میں اور جلسوں کے سائز اور جلسوں کی نوعیت اور نعرے ایسے خوفناک ہوا کرتے تھے کہ ہمارے معصوم دلوں میں وہ ننھا خوف ہمیشہ ہی مضبوط ہو جایا کرتا تھا لیکن اثر حقیقت یہ ہے ہاں یہ درست ہے کہ ہمیں بہت ساری چیزوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے لیکن معاملات ایسے نہیں ہیں کہ ہمارا ملک پاکستان کی طرف دیکھنے والی شیطانی سوچیں اور شیطانی خیالات پورے ہوں گے یہ ملک بنا ہے رہنے کے لیے اور اگر رہے گا ہمیشہ رہے گا اور ہمیشہ قائم رہے گا ہاں یہ ضرور ہے کہ بہت سارے معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری اکثریت کے اندر سے اس ننھے خوف کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے جو حقیقت کو جانے بغیر ہمارے لوگوں کے دلوں میں بٹھایا جا رہا ہے اور یہ کام ریاست کا ہے کہ ریاست ایسے اقدامات کرے کہ لوگ ان کے کاموں پر یقین کریں زندگی میں آ سودگی آئے اور زندگی میں کوئی سہولتیں بھی ہوں کیونکہ ورنہ بجلی کے بلوں کے خوف میں مبتلا روزی روٹی کے خوف میں مبتلا لوگوں کو کسی بھی جانب لے جایا جا سکتا ہے جس کی ایک کوشش فی الحال اسلام اباد میں بھی جاری ہے کہ جس میں ایک ایسی جماعت جو کبھی ایسی توجہ حاصل نہیں کر سکی میری زندگی میں وہ توجہ حاصل کر رہی ہےاس کی وجہ دھرنےوالی جماعت ہے ۔وجہ بنیادی طور پر شاید جماعت کی مقبولیت نہیں ہے لیکن پاکستان کے حالات ہیں ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے حالات کو تیزی سے ٹھیک کیا جائے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آ ئے تو سوچوں میں خود بخود بہتری آ جائے گی اور دلوں سے یہ خوف بھی ختم ہو جائے گا
فیس بک کمینٹ

