اگر تاریخ کو الٹ دیا جائے اور آزادی کا سورج برصغیر پر 1947 کی بجائے ایک صدی بعد طلوع ہوتا، تو آج پاکستان کی کہانی بالکل مختلف ہو سکتی تھی۔ کبھی سوچنے کو جی چاہتا ہے کہ اگر یہ ملک 2047 میں آزاد ہوتا تو شاید یہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسا ترقی یافتہ ملک ہوتا جسے دیکھ کر لوگ رشک کرتے۔ مگر افسوس کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنی آزادی کے تقریباً اسی برس بعد بھی بنیادی سہولتوں اور انصاف کے لیے ترس رہے ہیں۔
برطانیہ وہ سرزمین ہے جس نے صنعتی انقلاب کو جنم دیا۔ وہاں کی گلیاں علم سے روشن ہوئیں، مشینوں نے کھیتوں اور کارخانوں کو بدل ڈالا، اور یونیورسٹیوں نے ایسے دماغ پیدا کیے جنہوں نے دنیا کا رخ موڑ دیا۔ آج بھی برطانیہ کی معیشت مستحکم ہے، قانون کی حکمرانی قائم ہے، اور ایک عام شہری کو صحت، تعلیم اور انصاف اس طرح میسر ہے جیسے ہوا اور پانی۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ریاست اپنے شہری کے کندھے سے بوجھ اٹھاتی ہے، جہاں بچہ پیدا ہوتے ہی مستقبل کی ضمانت پا لیتا ہے۔
ہمارے ہاں کہانی الٹ ہے۔ پاکستان کو آزادی ملے دہائیاں گزر گئیں، مگر آج بھی لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں کے دروازے مریضوں کے ہجوم سے بھرے ہیں مگر علاج نایاب ہے۔ سیاست دان اپنے مفاد کے اسیر ہیں، کرپشن کو نظام کی روح بنا دیا گیا ہے، اور انصاف طاقتور کے در پر دستک دینے کے باوجود بھی ملتا نہیں۔ ہماری گلیوں میں گندے پانی کی بدبو ہے، شہروں میں دھواں ہے، دیہات میں غربت ہے۔ ہماری معیشت ایسے مسافر کی طرح ہے جو مسلسل قرض کے سہارے لڑکھڑاتا چلا جا رہا ہے۔
اب ذرا خیال کیجیے کہ اگر برطانیہ مزید ایک صدی یہاں رہتا تو کیا ہوتا؟ یقیناً وہ اپنے مفاد کے لیے ہی سب کچھ کرتے، مگر ساتھ ساتھ ادارے مضبوط کرتے، تعلیم کے دروازے کھولتے، ریلوے کو مزید آگے بڑھاتے، شہروں کو جدید طرز پر ڈھالتے۔ انگریز کا مزاج یہ تھا کہ جہاں جاتے وہاں کا ڈھانچہ کم از کم اپنے معیار کے مطابق بناتے۔ اگر یہ سلسلہ مزید سو برس جاری رہتا تو پاکستان کا ڈھانچہ 2047 میں آزادی کے وقت کہیں زیادہ مضبوط ہوتا۔ ہم ایک ایسی بنیاد پر کھڑے ہوتے جس پر ترقی کی عمارت تعمیر کرنا آسان ہوتا۔
خیالی پاکستان کی تصویر بنائیے ، جہاں شرح خواندگی 90 فیصد سے زیادہ ہے، جہاں بچے ای-لائبریریوں میں پڑھتے ہیں، جہاں ہسپتال مریض کو مسیحائی کا دوسرا نام ہیں، جہاں معیشت عالمی اداروں کو قرض دیتی ہے نہ کہ قرض مانگتی ہے، جہاں شہروں میں جدید ٹرانسپورٹ سسٹم ہے، جہاں سیاست اداروں کے تابع ہے نہ کہ ادارے سیاست کے۔ یہ وہ پاکستان ہے جو 2047 میں آزاد ہو کر دنیا کو حیران کر دیتا۔
مگر یہ خواب بھی تلخی سے خالی نہیں۔ انگریز کی حکمرانی غلامی کی زنجیر بھی ہے، اور غلامی کبھی قوموں کو عزت نہیں دیتی۔ وہ شاید ہمیں تعلیم دیتے، مشینیں دیتے، مگر ہماری روح سے آزادی چھین لیتے۔ ہم ترقی یافتہ غلام ہوتے، مگر اپنی شناخت سے محروم۔ ایک ایسی قوم جس کی دولت اور شعور پر دوسروں کا قبضہ ہو، وہ چاہے کتنی ہی سہولتوں سے مالا مال کیوں نہ ہو، اندر سے کھوکھلی رہتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ آزادی کب ملی، اصل سوال یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہم نے اس کا کیا کیا۔ برطانیہ نے اپنے عوام کو ترقی دینے کے لیے صنعت، سائنس، تعلیم اور قانون کو اوڑھنا بچھونا بنایا، مگر ہم نے آزادی کے بعد اپنے وسائل کو ضائع کر دیا۔ ہمارے حکمرانوں نے اداروں کو کمزور کیا، اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی، اور قوم کو خواب دکھانے کے سوا کچھ نہ دیا۔
یہی وہ تلخ سچ ہے کہ چاہے آزادی ایک صدی پہلے ملتی یا ایک صدی بعد، اگر ہم نے اپنی راہیں خود ٹھیک نہ کیں تو پسماندگی ہمارا مقدر ہی رہتی۔ ترقی ادارے بناتے ہیں، تعلیم شعور دیتی ہے، اور شفاف حکمرانی معیشت کو پر لگاتی ہے۔ اگر ہم یہ سب نہ کریں تو آزادی کے برسوں کا حساب کوئی معنی نہیں رکھتا۔
آج بھی موقع باقی ہے۔ اگر ہم تعلیم کو عام کریں، صحت کو بہتر بنائیں، سائنس اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ لگائیں، اور سب سے بڑھ کر شفاف حکمرانی قائم کریں تو پاکستان کل نہیں بلکہ آج بھی ترقی یافتہ قوموں کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔ ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ ہماری پسماندگی کی خلیج بڑھتی جائے گی اور ہم دنیا کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم کس پاکستان کے وارث بننا چاہتے ہیں: اس پاکستان کے جو ماضی کی طرح محرومیوں کا بوجھ اٹھائے یا اس خیالی پاکستان کے جو کبھی خواب تھا مگر آج بھی حقیقت بن سکتا ہے۔

