جون ایلیاء کہتے ہیں کہ ۔۔۔
میں بھی بہت عجیب ہوُں، اِتنا عجیب ہوُں کہ بس
خوُد کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
ہمیں یہ شعر یادِ رفتگاں سے زیادہ فِکرِ مستقبل سے منسوُب لگتا ہے کہ گذشتہ روز کے تمام اخبارات کی شہ سُرخی یہ تھی کہ پاکِستان کو آئی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر کی دوسری قِسط موصول ۔۔۔۔ اگلے اِقتصادی جائزے کی ’’کامیابی‘‘ کے ساتھ تکمیل کی صوُرت میں پاکستان کو مزید 1.1 ارب ڈالر مِلیں گے۔ اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ ’کامیابی‘ آخر کِس طبقے کی کامیابی ہے؟
کیا اِس کامیابی سے میونسپلٹی دفاتر کے آگے بیٹھے ہُوے فاقہ کش مزدوروں کو روزگارمِل پائے گا؟ کیا اِس عظیم معاشی انقلاب کے ذریعے اُن بے لِباس پاکستانیوں کی ٹھنڈ دور ہو پائے گی جو کوڑے دانوں سے کچرا اکٹھا کر کے جگہ جگہ آگ لگا کر اپنے پالے کو شکست دینے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں؟ کیا اُن بزرگ شہریوں کو مفت علاج معالجہ مِل پائے گا جو ہر رات اپنے مرنے کی دعا کرتے ہیں اور پھر اگلے دِن اپنی اپنی اذیتوں کو گلے لگا لیتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کے بارے میں مُحمد حنیف لِکھتے ہیں کہ
’’They are good, just suffering from life‘‘
یا پھر بچوں کو مُفت اور معیاری تعلیم مِل سکے گی یا نجی تعلیمی ادارے اور اسپتال نیشنلائز ہو جائیں گے؟؟؟ ہمارا شہر خانیوال بھی تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی اِن عظیم نعمتوں سے مُستفید ہو چکا ہے مگر کیا شہر سے کوُڑے کرکٹ کے ڈھیر ختم ہوُئے؟ ہاں اللہ جنت نصیب کرے، سیاست میں نومولود ایک مرحوم سوداگر نے پیسے لگا کر سول لائینز کے ایک حِصے کو تو جنت نظیر بنا دیاجو بیوروکریٹس کی آماجگاہ ہے مگر باقی کی سول لائینز باقی کے شہر کے ساتھ تاحال ایک غلیظ ملبے کے سوا کُچھ نہیں مگر اُن کا یہ حال تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ’عطا‘ سے پہلے بھی تھا۔ بس اتنا ہوا کہ قرض کی ادائیگی کے ضمن میں ایک عام پاکستانی شہری پر اِن بین الاقوامی اداروں اور اُن کے پاکستانی سہولت کاروں کا عفریت اور تگڑا ہو گیا جو پہلے رات کی تاریکی میں بچوں کو اُٹھا لے جاتا تھا، اب دِن دیہاڑے نِگل جاتا ہے۔
اِس استحصال کو سمجھنے کے لیئے سُقراط ہونا قطعی لازِم نہیں۔ ایک ہم ایسا ’عامی‘ بھی سوچ سکتا ہے کہ 2024 میں پاکستان کو کتنا قرض ادا کرنا ہوگا اور یہ قرض پیدا ہونے والے بچے سے لے کر قریب المرگ ہر عام پاکستانی کو فی کس کتنا مقروُض کرے گا۔ بین الاقوامی شماریات بتلاتی ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کو نومبر 2024 تک 27.47 بلین ڈالر کا غیر ملکی قرضہ واپس کرنا ہے۔ اس ادائیگی میں بنیادی قرضے اور سود کی لاگت دونوں شامل ہیں۔
2018 میں، پاکستان میں تخمینی اوسط افراط زر کی شرح پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 3.93 فیصد رہی، جو 2017 کے مقابلے میں معمولی کمی ہے، لیکن چار سال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ اگلے چند سالوں میں، پیشین گوئیوں کے مطابق یہ تقریباً 6.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ شُماریات بین الاقوامی اقتصادی فورم کی ہیں، ہماری ہرگز نہیں!
ہمارے اعداد و شُمار تو بس اتنا جانتے ہیں کہ مہنگائی کی شرح 44.64 تک پہنچ گئی ہے۔ ڈاکٹر عمار حسن سے پوُچھا کہ حُضور یہ Income per Capita یعنی فی کس آمدن کا حِساب کیسے لگایا جاتا ہے تو فرمایا کہ فرض کرو 100 افراد ہیں، جن میں سے دو افراد کی امدن ایک ایک میلئن ہے گویا بیس لاکھ۔ باقی کے افراد جو 2,000 روپے فی کس کماتے ہیں تو مبالغہ نکال کے بھی یہ 196,000 روپے بنتی ہے۔ اب بیس لاکھ کو جمع کرو اور سو پر تقسیم کر دو۔۔۔ تو یہ اوسطآ 21,960 روپے فی کس بنتی ہے۔ اب عداد و شمار کے مطابق 2,000 روپے آمدن والے کو 21,960 روپے فی کس مل رہے ہیں۔ جو لوگ بین الاقوامی معاشی فورموں میں تشریف فرما رہتے ہیں انہوں نے تو 21,960 روپے فی کس آمدن فارمولے کے حساب سے ٹھیک ہی کہی۔ جبکہ باقی ۹۸ فیصد اپنی اصل آمدن یعنی 2,000 روپے فی کس میں مہنگائی کی 44.64 شرح میں ۔۔۔۔۔ ’’گنجی دھوئے گی کیا اور نِچوڑے گی کیا؟ ان اعداد و شمار کے کاریگروں سے پوُچھو کہ خواتین و حضرات کیا آپ پاکستان میں طبقاتی تقسیم کو کسی شمار بلکہ اعداد و شُمار میں لاتے ہیں جہاں حد سے ذیادہ امیر بھی ہیں اور حد سے ذیادہ غریب بھی۔ ارے تُم ہی نے تو لاک ڈاؤن کے دوران پنجاب اسمبلی کے باہر سروے کیا تھا، جِس میں ایک ہی سوال تھا کہ ’’کیا آپ آٹے کے ایک تھیلے کی قیمت جانتے ہیں‘‘؟ تو سب کے سب کھسیانی مسکراہٹ کے ساتھ لوٹ گئے اوریہی سوال جب آپ نے نشتر ٹاؤن لاہور کے غریبوں سے پُچھا تو انہوں نے آٹے، دال، چینی، گھی کے ساتھ ساتھ پٹرول اور ایل پی جی کا دام تک بتا دیا۔ اور جب آپ نے کہا کہ یہ پروگرام نہ نشر ہو گا اور نہ حکمرانوں تک پہنچے گا اور اگر پہنچ بھی گیا تو وہ اب آئی ایم ایف سے بجٹ منظور (Approve) کروا بھی چکے ہیں۔ پھر بھی ان کا شکریہ کہ انہوں نے چائے پلائی اور معزرت کی کہ صاحب، آپ ہمارا کھانا نہیں کھا پائیں گے۔
ذرا یہ اقتصادی فورموں، یونیسکو والوں اور دیگر سے کہو کہ جتنا پیسہ یہ اپنی بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں خرچتے ہیں ان کا کچھ حصہ تمہارے خانیوال کی ٹی ایم اے کو ہی دے دیں۔ مگر ٹھہرو بھائی تمہیں نے تو کہا تھا کہ حکمران تمہاری نہیں سُنتے۔ ویسے بھی سُنا ہے کہ ٹی ایم اے کے ایماندار افسران کے احکامات کو ان کے عملے والے نہیں مانتے کہ ہر شام تو وہ معروف سیاسی شخصیات کے گھر جا کر کاسہ لیسی کرتے رہتے ہیں، وہ کسی ایماندار افسر کی کیوں سُنے۔ یوں بھی ایسی افسران ایک تکفیری قانون کی مار ہیں۔ یہ بی بی سی نے ہمیں بتایا۔
انہی کے مُطابق پاکستان 2022 کے معاشی شعبوں میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی تقسیم کُچھ یوں ہے۔
2022 میں، زراعت نے پاکستان کی جی ڈی پی میں تقریباً 22.35 فیصد حصہ ڈالا، 20.42 فیصد صنعت سے آیا اور جی ڈی پی میں معیشت کا نصف سے زیادہ حصہ خدمات کے شعبے سے آیا۔
بین الاقوامی اقتصادی فورم کے تجزیئے کے مطابق معیشت کے تین اہم شعبے ہیں۔ بنیادی شعبے میں زراعت، ماہی گیری اور کان کنی شامل ہیں۔ ثانوی شعبہ مینوفیکچرنگ سیکٹر ہے، جسے انڈسٹریل سیکٹر بھی کہا جاتا ہے اور آخری ہے خدمات کا شعبہ، جس میں خدمات اور غیر محسوس سامان شامل ہیں، جیسے سیاحت، مالیاتی خدمات، یا ٹیلی کمیونیکیشن۔ آج زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں خدمات کا شعبہ اچھی طرح سے قائم ہے جو ان کی جی ڈی پی میں بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ دوسری طرف جن معیشتوں کو اب بھی مدد کی ضرورت ہے اور وہ اب بھی ترقی کر رہی ہیں وہ اپنی معیشت کو ایندھن دینے کے لیے عام طور پر زراعت پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر وہ ترقی یافتہ ملک میں منتقل ہوتے ہیں تو یہ عام طور پر اس لیے ہوتا ہے کہ اب ان کی معیشت اقتصادی ڈرائیور کے طور پر خدمات پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ منصفانہ طور پردیکھا جائے تو تقریباً ہر معیشت نے بنیادی شعبے پر انحصار کرنا شروع کیا۔ یہی بات پاکستان کے لیے بھی ہے جو کہ اگرچہ ابھی تک ایک ترقی یافتہ ملک نہیں سمجھا جاتا تاہم اس نے اپنی سالانہ جی ڈی پی کے نصف سے زائد پیداوار کو خدمات پر منتقل کر دیا ہے۔ پھر بھی، بنیادی شعبہ اب بھی جی ڈی پی کے پانچویں حصے سے زیادہ کے لیئے ذمہ دار ہے اور یہ پاکستان کی تقریباً نصف افرادی قوت کو ملازمت دیتا ہے۔ پاکستان قابل کاشت اراضی سے مالا مال ہے جس کی وجہ سے پاکستانی آبادی کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے یعنی گنے، گندم، کپاس اور چاول کی پیداوار اور فروخت کرتی ہے جو دوسرے ممالک کو بھی برآمد کی جاتی ہے۔ تاہم فورم والوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اجناس پیدا کرے والے چھوٹے کاشتکار ساہوکاروں کے استحصال کا شکار ہو چکے ہیں۔ خیر، یہ اُن کا مسئلہ ہے نہ منصب۔ ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔
یہ اعداد و شُمار ایسے ہی ہیں جیسا کہ ہمارا آئین۔ ہمارے ملک میں بہت سے اعتقادات کے لوگ رہتے ہیں مگر ہمارے آئین پر، ہماری ریاست پر ایک ہی مذہب کا ٹھپہ ہے اوراِسی ٹھپے کے باعث شہروں کے شہر جلا دیئے جاتے ہیں، عبادت گاہوں میں بم پھٹتے ہیں، سائیبر قوانین کو استعمال کر کے ترقی پسند ڈیجیٹل نشریات بند کر دی جاتی ہیں۔ ہمارا آئین اپنے بچوں کو سوئٹزرلینڈ کے مہنگے اسکول Alpin Beau Soleil میں پڑھانے سے نہیں روکتا ۔۔۔ تو کیا ہم اپنے بچوں کو اس اسکول میں پڑھا سکتے ہیں؟ آئین نے کب کہا کہ اپنے والدین کا علاج جنوبی آسٹریلیا کے ADELAIDEAZ اسپتال سے مت کروائیں؟ تو پھر ہم انہیں لمحہ لمحہ مرنے کے لیئے سرکاری اسپتالوں میں کیوں گھسیٹے پھِرتے ہیں؟ آئین نے تو منع نہیں کیا کہ ایڈیٹر صاحبان نیوز روم تک رولز رائس کار پر مت جائیں۔ پھر کیوں ہم چِنگ چی رکشوں میں موسموں کا جبر سہتے رہتے ہیں؟؟
ایک ’عامی‘ سمجھ سکتا ہے کہ جب تک ایک عام آدمی معاشی خوشحالی سے ہمکنار نہیں ہو جاتا یہ آئین اِک سراب ہے اور یہ اعداد و شُمار Dyslexia کے کسی مریض کی آنکھوں کے سامنے تھرکتے ہؤئے بے معنی شبد۔۔۔۔۔۔
ہاں، یہ اعداد و شُمار، یہ آئین، یہ جمہوُریت مقتدر اور مراعات یافتہ طبقات کے ہاتھ میں جادوُ کی چھڑی ضرور ہیں، جنہیں استعمال کر کے یہ ہماری پُشت پر بیتال کی طرح سوار ہو چُکے ہیں اور کِسی صوُرت اُترنے میں ہی نہیں آتے۔
افسوس کی بات بس اِتنی ہے کہ ہم یعنی عام پاکستانی بھی ایسی خبریں پڑھ کر یا سُن کر خوشی خوشی مہنگائی کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ دھنستے جاتے ہیں اور مسکراتے جاتے ہیں۔ گویا ۔۔۔۔۔
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
فیس بک کمینٹ

