واشنگٹن : عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 3ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے منظوری کے بعد 1.2 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کردیے جائیں گے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 9 ماہ کے دوران 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے کی منظوری دے دی ہے تاکہ پاکستان کے معاشی استحکام کے پروگرام کو سپورٹ کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں کہا گیا کہ یہ اس معاہدے کا انتظام ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب پاکستانی معیشت مشکل حالات سے گزر رہی ہے، مشکل بیرونی ماحول، تباہ کن سیلاب اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے اسے بڑے مالی اور بیرونی خسارے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تیزی سے ختم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
گزشتہ ماہ ہونے والے اس معاہدے کے لیے پہلی قسط کے اجرا سے قبل آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار تھی اور اب پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی پہلی قسط جاری کر دی جائے گی جبکہ بقیہ دو اقساط سہ ماہی بنیادوں پر دو جائزوں کے بعد جاری کی جائیں گی۔
آئی ایم ایف پروگرام ملکی اور بیرونی عدم توازن دور کرنے کے لیے پالیسی اور کثیر الجہتی اور دو طرفہ شراکت داروں کی مالی مدد کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام مالی سال 2024کے بجٹ کا مؤثر نفاذ یقینی بنائے گا تاکہ پاکستان کی ضروری مالیاتی ایڈجسٹمنٹس آسان بنائی جا سکیں اور اہم سماجی اخراجات محفوظ بناتے ہوئے قرض کی پائیداریت یقینی بنائی جا سکے۔
اس کے علاوہ بیرونی دباؤ برداشت کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مارکیٹ کی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ کا تعین بھی پروگرام کا اہم مقصد ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب گزشتہ روز ہی سعودی عرب نے پاکستان کو 2ارب ڈالر قرض فراہم کیا تھا اور آج متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو ایک ارب ڈالر کا قرض دیا ہے۔
وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے چیزیں درست سمت پر جا رہی ہیں، جس کے لیے ہم کئی مہینوں سے کوشش کر رہے تھے اور مشکل مذاکرات تھے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمار 2019 اور 2022 والا پروگرام جو ایک سال وسیع ہوا، اس میں ہمیں نویں جائزے کے لیے 1.19 ارب ڈالر کی توقع کر رہے تھے، باقی سب ختم ہوجانا تھا تو آخر میں ہماری جو زیادہ توانائی خرچ ہوئیں وہ اسی پر ہوئیں کہ جو ڈھائی ارب بچا ہے وہ اس میں آئی ایم ایف ملا دے اور اسٹینڈ بائی معاہدہ کرے تو اس میں ہمیں کامیابی ہوئی اور ٹیکسز بھی بڑھانے پڑے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب نے ساتویں جائزے کے وقت کہا تھا کہ دو ارب تک مدد کریں گے اور متحدہ عرب امارات نے بھی کہا تھا کہ ہم ایک ارب ڈالر دیں گے تو یہ 8 سے 9 مہینے پرانے وعدے تھے اور ابھی انہوں نے اس کو دوبارہ تازہ کیا تھا‘۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’وزیراعظم نے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کا دورہ کیا تھا جہاں میں ان کے ساتھ تھا اور ان تمام ممالک میں ہم نے معاملات اٹھائے تھے‘۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میری کوشش ہے کہ اس حکومت کی مدت مکمل ہونے تک، ممکنہ طور پر جولائی کے اختتام تک قومی ذخائر 14 سے 15 ارب ڈالر کے درمیان ہوں، اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 5.2 یا 5.3 ارب نکال دیں تو اسٹیٹ بینک کے ذخائر 9 سے پونے 10ارب ہوں گے تو ہم 14 سے 15 ارب کے درمیان ہوں گے‘۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

